اتحاد نیوز اعظم گڑھ INA NEWS: آیا صوفیہ سے ، ایک بار پھر صدائے تکبیر گونجی از ✍ احتشام الحق، مظاہری، کبیر نگری،

اشتہار، خبریں اور مضامین شائع کرانے کیلئے رابطہ کریں…

9936460549, 7860601011, http://www.facebook.com/inanews.in/

Saturday, 11 July 2020

آیا صوفیہ سے ، ایک بار پھر صدائے تکبیر گونجی از ✍ احتشام الحق، مظاہری، کبیر نگری،

آیا صوفیہ سے ، ایک بار پھر صدائے تکبیر گونجی


                          از ✍
  احتشام الحق، مظاہری، کبیر نگری،


قسطنطنیہ کی فتح کی علامت، ’’ آیا صوفیہ جہاں  آج دوبارہ  اللہ اکبر کی دلبر صدائیں  گونجی ، 1934ء میں عجائب گھر میں تبدیل کی جانے والی تاریخی مسجد آیا صوفیہ کو مسلمانوں کی عبادت گاہ کے طور پر ایک بار پھر حثیت بحال کردی گئی۔ کروڑوں رحمتیں نازل ہو سلطان محمد فاتح کی تربت پر جنھوں نے محض ۲۱ سال کی عمر میں قسطنطینہ فتح کر کے بازنطینی سلطنت کا ہمیشہ کے لئے خاتمہ کردیا تھا، یہ عمارت چھٹی صدی میں بازنطینی بادشاہ جسٹنیئن اول کے دور میں بنائی گئی تھی اور تقریباً ایک ہزار سال تک یہ دنیا کا سب سے بڑا گرجا گھر تھا۔

سلطنتِ عثمانیہ نے جب 1453 میں اس شہر کو فتح کیا تو اسے ایک مسجد بنا دیا گیا تاہم بعد میں 1930 کی دہائی میں اسے ایک میوزیم میں تبدیل کردیا گیا تھا۔ اس تاریخی عمارت کو 1934ء میں ترک سیکولر ریاست کی بنیاد رکھنے والے حکمران کمال اتاترک نے اپنے دورے اقتدار کی ایک دہائی کے بعد میوزیم بنا دیا تھا۔ ترک صدر رجب طیب اردغان نے  24 جولائی 2020 بروز جمعہ نماز جمعہ کے ساتھ 86 سال بعد اس تاریخی ورثے(آیا صوفیا) کو عبادت کے لیے کھولنے کا اعلان کردیا ھے

 اب ان شاء اللہ، آیاصوفیہ کبھی میوزیم نہیں کہلائے گا، آیا صوفیہ کو میوزیم میں تبدیل کرنا ایک بہت بڑی غلطی تھی ، ترک صدر نے مقبوضہ بیت المقدس میں یہودیوں کیلئے بنائے ٹیمپل ماؤنٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ یہودی اورعیسائی بھی تو مسلسل مسجد الاقصیٰ کو نشانہ بنا رہے ہیں جو خاموش رہتے ہیں اور آیا صوفیہ مسجد پر تجویز کی جرات نہیں کرسکتے، انہیں یاد رکھنا چاہیے کہ آیا صوفیہ کو مسجد میں تبدیل کرنا ترکی کا حق ہے۔

1994ء میں جب ترک صدر استنبول کے ناظم کا انتخاب لڑ رہے تھے تو انہوں نے اس عمارت کو نماز کے لیے کھولنے کا وعدہ کیا تھا، جبکہ 2018ء میں وہ یہاں قرآن کی تلاوت بھی کرچکے ہیں۔ یونیسکو کی جانب سے اس عمارت کو 1985ء میں عالمی تاریخی ورثے میں شامل کیا گیا۔ ہر سال لاکھوں سیاح آیا صوفیہ کو دیکھنے کے لئے آتے ہیں۔  تقریبا، سو سال پہلے ترک ناداں نے اسے میوزیم میں تبدیل کردیا تھا، جو فقط سیر وتفریح کی آماجگاہ تھی، ترک صدر طیب اردغان نے اپنی جہد مسلسل اور بے پناہ کوششوں سے از سر نو مسجد میں تبدیل کردیا ھے، اور آج پھر اس کے بلند مناروں سے اللہ اکبر کی صدائیں گونجی، آج تمام عثمانی خلفاء اور سلطان  محمد فاتح کی روح خوش ھے،، اہل ایمان خواہ، دنیا کے کسی بھی کونے میں ہوں ان پر ضروری ھے کہ  وہ عالم اسلام کے عظیم رہنما طیب اردوغان کی سلامتی اور حق پر استقامت کی دعائیں کریں،،،، اور ترک سے آنے والی اس عظیم بشارت کو قبول کرتے ہوئے نماز دو گانہ کا اہتمام بھی کریں،،،،