جمعیۃ علماء ہند کے ایک اور نائب صدر اور کوہ کن کے معروف عالم دین حضرت مولانا امان اللہ
صاحبؒ کا انتقال ۔
مولانا حافظ محمد ندیم صدیقی
صدر جمعیۃ علماءمہا راشٹر
انتہائی افسوس کے ساتھ یہ اطلاع دی جاتی ہے کہ کوکن کے معروف و مشہور عالم دین حضرت مولانا امان الله صاحب مہتمم جامعہ حسینیہ شری وردھن ضلع رائے گڑھ و نائب صدر جمعیۃ علماء ہند کا آج بتاریخ 4؍ جولائی 2020ء بروز سنیچر بوقت صبح 10؍ بجے سائی اسپتال چیمبور ممبئی میں انتقال ہو گیا ہے ۔ انا للہ و انا الیہ راجعون ۔ اللہ ربّ العزت حضرت مولانا کو رحمت و مغفرت سے نوازے ۔ ان کی خدمات کو قبول فرمائے ، بال بال مغفرت فرمائے ، جنت الفردوس میں اعلیٰ سے اعلیٰ مقام عطا فرمائے ، امت کو آپ کا نعم البدل عطاء فرمائے،، لواحقین اور پسماندگان کو صبر جمیل عطا فرمائے ۔
واضح رہے کہ حضرت مولانا امان اللہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ گذشتہ ایک ہفتہ سے بخار کے عارضہ میں مبتلا تھے افاقہ نہ ملنے پر کل رات میں ہی انہیں چیمبور ممبئی کےایک اسپتال میں I CU وارڈ میں داخل کیا گیا تھا ٹریٹمنٹ جاری تھا کہ آج صبح 60؍ سال کی عمر میں اللہ کو پیارے ہوگئے ۔ حضرت مولانا امان الله صاحب رحمتہ اللہ علیہ شیخ الاسلام حضرت مولانا سید حسین احمد مدنی نورالله مرقدہ کے خلیفہ ومجاز حاجی عبدالرحیم صاحب بروڈوی رحمتہ اللہ کے صاحبزادے تھے ، اور خود بھی حضرت مولانا پیر ذوالفقار احمد نقشبندی دامت برکاتہم کے خلیفہ و مجاز تھے ۔ اور ملک کی نمائندہ تنظیم جمعیۃ علماء ہند کے رکن عاملہ اور نائب صدر تھے ۔ امیر الہند حضرت مولانا قاری سید محمد عثمان منصور پوری صاحب صدر جمعیۃ علماء ہند اور حضرت مولانا سید محمود مدنی صاحب ناظم عمومی جمعیۃ علماء ہند سے بہت گہرا اور دیرینہ تعلق تھا ، وہ جمعیۃ کے کاموں اور پروگراموں میں پیش پیش رہتے تھے الله تعالٰی ان کی خدمات کو قبول فرمائے ۔
حضرت مولانا کی ابتدائی تعلیم ڈھابیل گجرات میں ہوئی اور 1978ء میں دارالعلوم دیوبند سے فراغت ہوئی ، مشہور عالم دین مولانا سیف اللہ رحمانی صاحب آپ کے ہمدرس ساتھیوں میں سے ہیں ، فراغت کے بعد آپ کوکن کے قدیم دینی ادارہ دارالعلوم حسینہ شری وردھن کے مہتمم بنائے گئے آپ کے دور اہتمام میں دارالعلوم حسینہ میں بے انتہا تعلیمی ، تدریسی ، اور تعمیری ترقی ہوئی ، آپ ایک بہترین استاذ ، مربی اور فقیہ تھے ، آپ نے شہر شری وردھن کی جامع مسجد میں خطیب کی حیثیت سے خدمات انجام دیں ، حضرت مولانا انتہائی بردبار حلیم و ملنسار اور تواضع و خاکساری کا نمونہ تھے جو آپ سے ملتا آپ کا گرویدہ ہوجاتا ، اساتذہ طلبا کے ساتھ مشفقانہ معاملہ فرماتے تھے ۔
تمام قارئین کرام سے دعائے مغفرت اور ایصال ثواب کی گزارش ہے ۔
صاحبؒ کا انتقال ۔
مولانا حافظ محمد ندیم صدیقی
صدر جمعیۃ علماءمہا راشٹر
انتہائی افسوس کے ساتھ یہ اطلاع دی جاتی ہے کہ کوکن کے معروف و مشہور عالم دین حضرت مولانا امان الله صاحب مہتمم جامعہ حسینیہ شری وردھن ضلع رائے گڑھ و نائب صدر جمعیۃ علماء ہند کا آج بتاریخ 4؍ جولائی 2020ء بروز سنیچر بوقت صبح 10؍ بجے سائی اسپتال چیمبور ممبئی میں انتقال ہو گیا ہے ۔ انا للہ و انا الیہ راجعون ۔ اللہ ربّ العزت حضرت مولانا کو رحمت و مغفرت سے نوازے ۔ ان کی خدمات کو قبول فرمائے ، بال بال مغفرت فرمائے ، جنت الفردوس میں اعلیٰ سے اعلیٰ مقام عطا فرمائے ، امت کو آپ کا نعم البدل عطاء فرمائے،، لواحقین اور پسماندگان کو صبر جمیل عطا فرمائے ۔
واضح رہے کہ حضرت مولانا امان اللہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ گذشتہ ایک ہفتہ سے بخار کے عارضہ میں مبتلا تھے افاقہ نہ ملنے پر کل رات میں ہی انہیں چیمبور ممبئی کےایک اسپتال میں I CU وارڈ میں داخل کیا گیا تھا ٹریٹمنٹ جاری تھا کہ آج صبح 60؍ سال کی عمر میں اللہ کو پیارے ہوگئے ۔ حضرت مولانا امان الله صاحب رحمتہ اللہ علیہ شیخ الاسلام حضرت مولانا سید حسین احمد مدنی نورالله مرقدہ کے خلیفہ ومجاز حاجی عبدالرحیم صاحب بروڈوی رحمتہ اللہ کے صاحبزادے تھے ، اور خود بھی حضرت مولانا پیر ذوالفقار احمد نقشبندی دامت برکاتہم کے خلیفہ و مجاز تھے ۔ اور ملک کی نمائندہ تنظیم جمعیۃ علماء ہند کے رکن عاملہ اور نائب صدر تھے ۔ امیر الہند حضرت مولانا قاری سید محمد عثمان منصور پوری صاحب صدر جمعیۃ علماء ہند اور حضرت مولانا سید محمود مدنی صاحب ناظم عمومی جمعیۃ علماء ہند سے بہت گہرا اور دیرینہ تعلق تھا ، وہ جمعیۃ کے کاموں اور پروگراموں میں پیش پیش رہتے تھے الله تعالٰی ان کی خدمات کو قبول فرمائے ۔
حضرت مولانا کی ابتدائی تعلیم ڈھابیل گجرات میں ہوئی اور 1978ء میں دارالعلوم دیوبند سے فراغت ہوئی ، مشہور عالم دین مولانا سیف اللہ رحمانی صاحب آپ کے ہمدرس ساتھیوں میں سے ہیں ، فراغت کے بعد آپ کوکن کے قدیم دینی ادارہ دارالعلوم حسینہ شری وردھن کے مہتمم بنائے گئے آپ کے دور اہتمام میں دارالعلوم حسینہ میں بے انتہا تعلیمی ، تدریسی ، اور تعمیری ترقی ہوئی ، آپ ایک بہترین استاذ ، مربی اور فقیہ تھے ، آپ نے شہر شری وردھن کی جامع مسجد میں خطیب کی حیثیت سے خدمات انجام دیں ، حضرت مولانا انتہائی بردبار حلیم و ملنسار اور تواضع و خاکساری کا نمونہ تھے جو آپ سے ملتا آپ کا گرویدہ ہوجاتا ، اساتذہ طلبا کے ساتھ مشفقانہ معاملہ فرماتے تھے ۔
تمام قارئین کرام سے دعائے مغفرت اور ایصال ثواب کی گزارش ہے ۔
