*صحابۂ کرام رضي الله عنهم سے محبت ایمان کا تقاضا*
*_عبید اللہ شمیم قاسمی_*
حضرات صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین تمام بنی نوعِ انسان میں وہ برگزیدہ وخوش نصیب ترین افراد تھے جنہیں خیر البشر، سید الأولین والآخرین، خاتم الأنبیاء والمرسلین، رسول اکرم ﷺ کی زیارت، خدمت، صحبت ومعیت، نیز آپؐ سے براہِ راست کسبِ فیض کا اور دینِ برحق سیکھنے کا موقع نصیب ہوا، اور پھر انہی برگزیدہ شخصیات نے اس نورِ نبوت کو اور اس مقدس ترین امانت کو آگے تمام امت تک پہنچانے کا انتہائی اہم اور مبارک ترین فریضہ سر انجام دیا، لہٰذا حضرات صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا رہتی دنیا تک تمام امت پر یہ ناقابلِ فراموش احسان ہے، اور ان کے اسی احسانِ عظیم کی بدولت آج ہم اس قابل ہیں کہ دین اسلام کو سمجھ سکیں، اس دینِ برحق کی پاکیزہ تعلیمات پر عمل کرسکیں۔
یقینا یہی بات ان جلیل القدر شخصیات کی عظمت کو سمجھنے اور ان کے بلند ترین مقام ومرتبے کو پہچاننے کیلئے بہت کافی وشافی ہے، صحابہ کرام سے محبت ایمان کا تقاضا ہے، جبکہ ان سے بغض رکھنا، یا ان کے مقام ومرتبے کے بارے میں دل میں کسی بھی قسم کا شک وشبہہ رکھنا در اصل دینِ اسلام کی تمام عمارت کو مجروح ومخدوش کردینے کے مترادف ہے۔
*اہلِ علم* کا اس بات پر اتفاق واجماع ہے کہ امت کا کوئی اعلیٰ ترین فرد بھی کسی ادنیٰ صحابی کے مقام ومرتبے کو نہیں پہنچ سکتا۔
امام نووی نے فرماتے ہیں: إجماع الأمة على عدالتهم، كلهم عدول رضي الله عنهم (شرح النووی: ٧٥/٢).
صحابہ کرام کی عدالت پر امت کا اجماع ہے، صحابہ کرام سب کے سب عادل ہیں۔
کیونکہ حضرات صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین وہ مقدس وبرگزیدہ ترین افراد تھے جنہوں نے رسول اللہ ﷺ سے براہِ راست استفادہ وکسبِ فیض کیا، اللہ سبحانہ وتعالیٰ کا دین سیکھا، اللہ کا کلام سیکھا، حکمت ودانش سیکھی، آپ ﷺ کی تعلیم وتربیت اور فیضِ نظر کی بدولت یہ حضرات پاکیزہ وبرگزیدہ ترین اشخاص بن گئے…ان کے دلوں میں ایمان اس قدر راسخ ومضبوط ہوگیا کہ کوئی چیز انہیں کسی صورت راہِ حق سے برگشتہ ومنحرف نہیں کرسکتی تھی۔
یہی وجہ ہے کہ قرآن کریم میں اللہ سبحانہ وتعالیٰ کی طرف سے ان حضرات کے ایمان کو رہتی دنیا تک تمام بنی نوعِ انسان کیلئے مثال اور معیار قرار دیا گیا ہے، جیسا کہ ارشادِ ربانی ہے: {فَاِن آمَنُوا بِمِثلِ مَا آمنتُم بِہٖ فَقَد اھتَدَوا) [ البقرة: ١٣٧]. ترجمہ: (اگر وہ لوگ بھی اسی طرح ایمان لے آئیں جیسے تم ایمان لائے ہو، تب وہ راہِ راست پرآجائیں گے)۔
یعنی اصل اورحقیقی ایمان تو وہی ہے جو حضرات صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے دلوں میں موجزن تھا۔
اسی طرح قرآن کریم میں حضرات صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کوخطاب کرتے ہوئے یہ ارشادِ ربانی ہوا:{…وَلٰکِنَّ اللَّہَ حَبَّبَ اِلَیکُمُ الاِیمَانَ وَزَیَّنَہٗ فِي قُلُوبِکُمْ وَکَرَّہَ اِلَیکُمُ الکُفرَ وَالفُسُوقَ وَالعِصیَانَ أُولٓئِک ھُمُ الرَّاشِدُونَ فَضْلاً مِّنَ اللّہِ وَنِعمَۃً وَاللّہُ عَلِیمٌ حَکِیمٌ} [الحجرت: ٨].
ترجمہ:(…لیکن اللہ تعالیٰ نے ہی ایمان کو تمہارے دلوں میں محبوب بنا دیا ہے، اور اسے تمہارے دلوں میں زینت دے رکھی ہے۔ اور کفر کو، اور گناہ کو، اور نافرمانی کو تمہاری نگاہوں میں ناپسندیدہ بنا دیا ہے، ٗ یہی لوگ راہ یافتہ ہیں۔ اللہ کے انعام واحسان سے۔ اور اللہ دانا اور باحکمت ہے)۔
یقینا یہ آیت کریمہ خالق ارض وسماء کی طرف سے ان حضرات کے حق میں بہت بڑی گواہی، نیز ان کے ایمان اور رشد وہدایت پر ہونے کی واضح ترین دلیل ہے۔
سورة الحديد میں ارشاد فرمایا: {وكلا وعد الله الحسنى}.
اسی طرح قرآن کریم میں أؤلئك هم المفلحون، أؤلئك هم المتقون جیسے پاکیزہ القاب کے ساتھ انہیں ملقب کیا ہے۔
اس قدسی صفات برگزیدہ جماعت کو دنیا ہی میں اللہ سبحانہ وتعالیٰ کی جانب سے ہمیشہ کیلئے رضامندی وخوشنودی کی خوشخبری سے شادکام کیا گیا ہے، جیسا کہ ارشادِ ر بانی ہے: {رَضِيَ اللّہُ عَنھُم وَرَضُوا عَنہُ} [المجادلة: ٢٢]. یعنی’’اللہ ان سے راضی اورخوش، اور یہ اللہ سے راضی اورخوش ہیں۔
امام طحاوی فرماتے ہیں: ونحبّ أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم، ولا نفرط في حب أحد منهم، ولا نتبرأ من أحد منهم، ونبغض من يبغضهم وبغير الحق يذكرهم، ولا نذكرهم إلا بخير، وحبهم دين وإيمان وإحسان، وبغضهم كفر ونفاق وطغيان( عقيدة الطحاوية: ص ٨١). ہم اصحاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کرتے ہیں، اور ان میں سے کسی کی بھی محبت میں کمی نہیں کرتے ہیں، اور نہ ان میں سے کسی سے براءت ظاہر کرتے ہیں، اور جو شخص صحابہ کرام سے بغض رکھے یا حق کے بغیر ان کا تذکرہ کرے تو ان سے ہم بغض رکھتے ہیں، اور ہم خیر ہی کے ساتھ ان کا ذکر کرتے ہیں، صحابہ کرام سے محبت دین وایمان اور احسان ہے، اور ان سے بغض رکھنا کفر، نفاق اور سرکشی ہے۔
اللہ تعالی ہمارے دلوں میں صحابہ کرام کی محبت جاگزیں فرمائے اور حق کے ساتھ ان کی اتباع کی توفیق فرمائے۔
