اساتذہ معاشرہ کے سب سے مقدس ومحترم انسان: سعد رشید ندوی
آنند نگر مہراج گنج (عبید الرحمن الحسینی)
۵ ستمبر کو ہندوستان کے کونے کونے میں یوم اساتذہ ( TeachersDay ) کے طور پر منایا جاتا ہے،ویسے تو پوری دنیا میں ڈے اور دن منانا اب ایک فیشن سا ہوگیا ہے، شاید ہی کوئی ایسا مہینہ اور ہفتہ گذرتا ہو جس میں ڈے اور دن نہ منایا جاتا ہو ۔لیکن جہاں تک اس ڈے کی تقریب کے انعقاد کی بات ہے وہ بہت ہی نرالا اور انوکھا ہے، چوں کہ اس میں اساتذہ کے مقام اور مرتبہ اور انکی ذمہ داریوں کا تذکرہ دل کی گہرائیوں سے ہوتا ہے، یہی وجہ ہے کہ سماج کا ہر فرد اسے قدر کی نگاہ سے دیکھتا بھی ہے اور اس میں شریک ہونا اپنے لئے باعث افتخار بھی سمجھتا ہے ، کیوں کہ ہرشخص کے ذہن ودماغ میں ”ارسطو ،،کی یہ بات رچی بسی ہے کہ ”جو بچوں کو تعلیم دیتے ہیں ، وہ ان سے زیادہ عزت منداور قابل احترام ہیں جو بچوںکو پیدا کرتے ہیں ، یہ اسلئے کہ والدین بچوں کو صرف زندگی دیتے ہیں اور اساتذہ ان کو زندگی کا گًر سکھاتے ہیں۔مذکورہ خیالات کا اظہار دارالعلوم فیض محمدی ہتھیا گڈھ مہراج گنج ، یوپی کے سربراہ اعلیٰ حضرت مولانا قاری محمد طیب قاسمی” حفظہ اللہ،، نے” یوم اساتذہ ،،کے موقع پر کیا۔
دارالعلوم فیض محمدی کے ناظم اعلیٰ مولانا سعد رشید ندوی نے درس وتدریس جیسے مقدس پیشہ کی عظمت پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ: تعلیم و تدریس نہایت ہی مقدس اور معزز پیشہ ہے ہر سماج و معاشرہ میں اساتذہ کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے ، استاذ اور شاگرد کے الفاظ سنتے ہی ذہنوں میں رشتوں کا وہ تقدس ، تعلقات کی وہ پاکیزگی اور احترام ومحبت کے جذبات کی وہ اعلیٰ تصویر ابھرنے لگتی ہے جو صرف اور صرف استاذ جیسی عظیم ہستی میں ہی دکھائی دیتی ہے۔ یقینا اساتذہ ، معاشرہ کے سب سے مقدس ومحترم انسان ہیں۔
آپ نے کہا کہ :ہم سبھی جانتے ہیں کہ سماج و معاشرہ میں جو بھی بھلائیاں اور نیکیاں پائی جاتی ہیں اور انسانی وسماجی خدمت کا جو تصور پایا جاتا ہے وہ سب دراصل تعلیم اور اساتدہ کی تربیت ہی کا کرشمہ ہے ، یہی وجہ ہے کہ بے شمار نبیوں اور رسولوں کے علاوہ نبی آخر الزماں صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اپنے آپ کو معلم اور استاذ ہونے کی حیثیت کو فخریہ طور پر بیان کیا ہے ،: فرمایاانما بعثت معلماً۔ یقینا آپ انسانیت کے لئے سب کچھ ہونے کے ساتھ ساتھ معلم و مربی بھی تھے، آپ نے حضرت جبرئیل علیہ السلام کے ذریعہ اللہ سے سیکھا ، پھر ہدایات واحکامات خداوندی اپنے ساتھیوں کو سکھائے اور اس کے بعد ان احکامات اور ہدایات پر عمل کرنے کی ترغیب دی، اس طرح آپ نے مدینہ میں سماجی انصاف پر مبنی ایک مثالی ریاست قائم کرکے انقلاب پیدا کردیا۔ یہ سچ ہے کہ دنیا میں ابتداءسے لے کر اب تک جو بھی ا نقلابات رونما ہوئے ہیں ،ان تمام میں اساتذہ کا اہم کردار رہا ہے۔
دارالعلوم فیض محمدی کے مہتمم وجمعیة علماءمہراج گنج کے جنرل سکریٹری مولانا محی الدین قاسمی ندوینے یوم اساتذہ کے موقع پر اپنے بیان میں کہا کہ: اسلاف کے واقعات میں آتا ہے کہ وہ اپنے اساتذہ کا احترام اس قدر کرتے کہ بے ادبی کے خوف سے ان کے گھر کی طرف پیر کرکے سوتے بھی نہیں تھے ۔ امام شافعیؒ اپنے استاذامام مالکؒ کی مجلس میں دوران درس جب کتاب کا ورق پلٹتے تو بہت نرمی سے پلٹتے، کہیں آپ کو تکلیف اور بار خاطر نہ ہو۔ یہ احترام کا معاملہ ایک طرفہ نہیں ہوتا تھا بل کہ انہیں اپنے شاگردوں سے بھی ایسی محبت ہوتی تھی کہ علمی تشنگی بجھانے کے ساتھ ساتھ ان کے ذاتی مسائل و دشواریوں کو بھی حل کرتے تھے۔اسی طرح امام شافعی ؒ کے بارے میں آتا ہے کہ وہ امام محمد ؒ کے حلقہ درس میں آئے تو امام محمدؒ نے انکے بوسیدہ کپڑے کو دیکھ کر انہیں قیمتی جوڑے سے نوازا۔ لیکن آج افسوس ہے کہ یہ ر وشن روایات اور نقوش سب مٹتے جارہے ہیں، اب ہر شعبہ میں مادیت کا غلغلہ ہے ، جس کی نحوست سے جہاں بہت سی اخلاقی اور روحانی قدریں برباد ہوئی ہیں،وہیں اساتذہ اور طلباء کے درمیان محبت و شفقت اور احترام و عقیدت کا جذبہ بھی مفقود ہورہا ہے جس کی وجہ سے علم کی روح میں تازگی اور اس کا وقار ختم ہورہا ہے یہ بات واضح ہوچکی ہے کہ آج تدریس عبادت نہیں بلکہ ایک تجارت اور ملازمت بن گئی ہے۔
