تحریر: سلمان دہلوی
ــــــــــــــــــــــــــــــــ
یہ خبر بڑی ہی رنج وغم والم کے ساتھ تحریر کر رہا ہوں ہاتھ لرز رہے ہیں زبان گنگ ہے لیکن یہ دنیا چونکہ دار فانی ہے لیکن رب کریم کے رحم و کرم سے صبر وتحمل کا دامن تھام رہے ہیں اور اہل خانہ کو صبر کی تلقین کر رہے ہیں اور آپ حضرات سے بھی دعاء کی گزارش کر رہے ہیں ماں کا سایہ کیا ہے اس کو تو وہی جانتا ہے جس کےسر سے ماں کا عظیم سایہ اٹھ گیا ہو آج اس کا احساس ہم اہل خانہ کو بھی ہو رہا ہے لیکن قرآن کا فرمان "کل نفس ذائقة الموت" اس کو کون ٹال سکتا ہے.
اور کل رات ہماری نانی جان بھی ہم کو چھوڑ کر اس دار فانی سے کوچ کر گئیں اور ہم کو اس دنیا میں بے سہارا اور اپنے عظیم سایہ اور محبت بھری دعاؤں سے جو نوازا کرتی تھی جب بھی گھر سے نکلتے ان کی دعا ہمارے ساتھ ہوتی.
آہ! اب کون دگا وہ دعاء جو سیدھا بارگاہ رب العالمین میں قبول ہوتی تھی اور ہم اپنے تمام مشکلات والے سفر کو بآسانی طے کر جاتے لیکن وہ سایہ و دعاء ہم سے چھن گیا آج یہ بندہ آپ تمام حضرات سے عموما اور اہل مدارس سے بالخصوص دعاء مغفرت و ایصال ثواب کی درخواست کرتا ہے آپ حضرات اپنی استطاعت کے مطابق ایصال ثواب کر کے ممنون ومشکور ہوں.
مرحومہ الحمدللہ صوم وصلوة کی پابند وتہجد گزار تھی تقریبا ۱۰۰ سو سے زائد عرصہ کے عمر ملی اور ہمہ وقت ہاتھوں میں تسبیح زبان پر وعد جاری رہتا اور اللہ کو یاد کرتی رہتی اور آج اپنی خالق حقیقی سے جا ملی، اللہ تعالی مغفرت فرمائے و درجات کو بلند و بالا فرمائے اور جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام نصیب فرمائے. آمیـــن
بعد نماز ظہر مرحومہ کو ان کے آبائی وطن ریولیا قیصر گنج بہرائچ کے قبرستان میں سپرد حاک کر دیا گیا نماز جنازہ عالم ربانی حضرت قاری محمد زبیر صاحب دامت برکاتھم العالیہ نے پڑھائی جبکہ جنازہ میں عوام کے ساتھ ساتھ علماء کا ایک جم غفیر موجود رہا، اور آخر میں مرحومہ کے چاروں صاحبزادوں کو سب نے تسلی دی اور اپنی دعاؤں سے نوازتے ہوئے رخصت ہوئے.
اللهم اغفِر لھا وارحَمها وعافها واعفُ عنها واكرم نزلها و وسع مدخَلها وأغسِلها بالمَاء والثَلج والبَرد ونقها من الذُنُوبِ والخَطَايَا كما ينقى الثوب الأبيض مِنَ الدنس.
اللهم : أبدلها داراً خيراً مِن دَارِها وأهلاً خيراً مِن أهلِها وزوجاً خيراً مِن زَوجِها وأدخِلها الجَنة وأعذها من عذاب القَبرِ ومِن عَذابِ النارِ.
اللهم عاملها بما انت اهله و لا تعاملها بما هي أهله
اللهم ان كانت محسنة فزد فى حسناتها وان كانت مسيئة فتجاوز عن سيئاتها
اللهم : أدخلها الجنة من غير مناقشة حساب ولا سابقة عذاب.
