رپورٹ: ابوذر صدیقی قاسمی
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
سمستی پور/بہار(آئی این اے نیوز 12/جولائی 2017) سمستی پور کے جامعہ ربانی منوروا شریف میں حضرت مولانا شیخ یونس صاحب جونپوری شیخ الحدیث مدرسہ مظاہر علوم سہارن پور کے انتقال پر تعزیتی نشست منعقد کی گئی، دنیائے علم حدیث کے بے تاج بادشاہ، عصر حاضر کے امیر المؤمنین فی الحدیث، الفت و محبت کے چراغ استاذ الاساتذہ حضرت مولانا شیخ محمد یونس صاحب رحمہ اللہ کے سانحۂ وفات پر جامعہ ربانی منوروا شریف سمستی پور ایصال ثواب کا اہتمام کیا گیا.
اس پروگرام میں تلاوت قرآن پاک اور نعت رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد صدر وفاق العلماء ونائب ناظم وفاق المدارس الاسلامیہ امارت شرعیہ اور رکن فقہ اکیڈمی انڈیا فقیہ عصر حضرت مولانا مفتی اختر امام عادل صاحب قاسمی مدظلہ مہتمم جامعہ ربانی منورا شریف سمستی پور نے حضرت الشیخ کے انتقال پر گہرے رنج وغم کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا کہ آپ ایک عالمگیر شخصیت کے حامل محدث تھے آپ نے علم کے لئے سب کچھ قربان کردیا، شادی بھی نہیں کی، فرماتے تھے میرے روز و شب کی دلہن یہ کتابیں ہیں، آپ حضرت شیخ
زکریا کے جانشین تھے، علمی طور پر بھی اور روحانی طور پر بھی، آپ کے دروس علمیہ میں آپ کی کتاب "الیواقیت الغالیہ "علم حدیث میں شاہکار ہے، مجھے گو کہ حضرت سے باقاعدہ تلمذ کا شرف حاصل نہیں ہے ،لیکن مسلسلا ت کی اجازت مجھے آپ سے حاصل ہے، آپ کے چلے جانے سے علمی حلقہ میں جو خلا پیدا ہوا ہے وہ ناقابل تلافی ہے، آپ جلال وجمال کے پیکر تھے، آپ نہ صرف علم کے برک بیکراں تھے بلکہ تصوف وإحسان کے بھی بلند چوٹی پر فائز تھے، آپ کو حضرت مولانا اسعداللہ صاحب سابق ناظم مدرسہ مظاہر علوم سے بھی اجازت بیعت
حاصل تھی اور حضرت شیخ زکریاسے بھی.
اخیر میں حضرت مہتمم صاحب دامت برکاتہم کے نمناک وغمناک دعا کے ساتھ مجلس اختتام پذیر ہوئی ۔