رپورٹ: ابوذر صدیقی قاسمی
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
سرائے میر/اعظم گڑھ(آئی این اے نیوز 12/جولائی 2017) مدرسہ اسلامیہ عربیہ بیت العلوم سرائے میر اعظم گڑھ یوپی مین کل بروز دوشنبہ بعد نماز ظہر شیخ الحدیث حضرت مولانا شیخ یونس صاحب جونپوری کے انتقال پر ملال کے موقعہ پر ایک تعزیتی پروگرام منعقد ہوا، جس میں جامعہ ھٰذا کے شیخ الحدیث حضرت مولانا مفتی محمد عبداللہ صاحب پھولپوری نے حضرت شیخ نور اللہ مرقدہ سے اپنے تعلقات کا اظہار فرماتے ہوئے کہا کہ حضرت شیخ رحمہ اللہ علیہ صرف میرے استاذ ہی نہیں تهے بلکہ میرے مربی اور سرپرست تهے، ان کو مدرسہ سے حد درجہ تعلق تها، انہوں نے فرمایا کہ حضرت شیخ نے اپنے آپ کو علم کے لئے وقف کردیا، یہ ان لوگوں سے تهے جنہوں نے شادی بیاہ کے مقابلہ میں درس وتدریس، کتاب کاپی کو ترجیح دیا، ان کے شیخ شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد زکریا صاحب نے ایک جگہ بٹها دیا، تو پوری زندگی اسی جگہ بیٹهے رہے، اور نصف صدی تک قال اللہ وقال الرسول کا نغمہ بکهیرتے رہے.
ایک تاریخی خط کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جب تم میرے عمر کو پہنچو گے تو مجھ سے آگے ہوگے، آپ کی موت سے جہاں دنیا علم حدیث کے ایک منارہ نور سے محروم ہوئی وہیں ارباب مظاهر العلوم بهی اپنے ایک سپوت سے محروم ہوگئے، اللہ تعالی انہیں حضرت کا نعم البدل عطا فرمائے. آمیـــن
مدرسہ بیت العلوم چهوٹا مظاهرالعلوم ہے یہ بهی ان کے غم میں برابر کا شریک ہے.
حضرت پھولپوری نے طلبہ اور اساتذہ کو مخاطب کرتے کہا کہ آپ لوگ اپنے طور پر وقتا فوقتا قرآن پڑھ کر حضرت کے لئے ایصال ثواب کریں، اور دعا کریں کہ اللہ تعالی حضرت کو جنت الفردوس میں جگہ عنایت فرمائے.
اس مجلس میں سورہ اخلاص پڑھ کر ایصال ثواب کیا گیا اور مغفرت کی دعا کی گئی.