اتحاد نیوز اعظم گڑھ INA NEWS: آخر کیوں چھپایا جا رہا ہے ملائم کے اعظم گڑھ میں شراب سے ہوئی موت کا راز!

اشتہار، خبریں اور مضامین شائع کرانے کیلئے رابطہ کریں…

9936460549, 7860601011, http://www.facebook.com/inanews.in/

Saturday, 8 July 2017

آخر کیوں چھپایا جا رہا ہے ملائم کے اعظم گڑھ میں شراب سے ہوئی موت کا راز!


رپورٹ: ثاقب اعظمی
ــــــــــــــــــــــــــــــــــ
اعظم گڑھ(آئی این اے نیوز 8/جولائی 2017) ضلع کے دیوارا علاقہ میں زہریلی شراب سے سات افراد بے وقت موت کے گال میں سما گئے اور نصف درجن لوگ زندگی اور موت کے درمیان ہیں، لیکن گاؤں کے لوگ اتنے بڑے حادثے پر پردہ ڈالنے کی کوشش کرتے رہے، اب وہ پولیس کے خوف سے خاموش تھے یا پھر سیاہ کاروبار سے پردہ اٹھنے کے خطرے کو سہمے ہوئے تھے یہ تو کہہ پانا مشکل ہے لیکن جو کچھ ہوا اس سے یوگی نظام کھل گیا، ویسے گاؤں کی خواتین مکمل طور نظر آئیں اور انہوں نے شراب کے سیاہ کاروبار کے بارے میں بھی بولنے سے کوئی گریز نہیں کیا، پہلے غیر قانونی كاروبار پر آنکھ بند رکھنے والے انتظامیہ بھی حرکت میں دیکھے گئے، ڈی آئی جی سے لے کر ایس پی تک دیر شام تک گاؤں میں ڈٹے رہے.
بتا دیں کہ ضلع میں شراب کا کاروبار گھریلو صنعت کی شکل اختیار کر چکا ہے. دیوارا کے علاوہ مبارکپور، مارٹين گنج علاقے میں یہ کاروبار خوب عروج پر ہے، اس کا ثبوت جمعرات کو زہریلی شراب کے استعمال سے سات افراد کی موت سے ملتا ہے، سات افراد کی موت کے بارے میں دیہاتیوں کا خاموشی اختیار لینا لوگوں کے گلے کے نیچے نہیں اتر رہا ہے،  لوگ اس بارے میں بحث کرتے نظر آئے کہ کیا مقامی پولیس کا دباؤ رہا یا پھر گاؤں میں سالوں سے چل رہے اس سیاہ کاروبار میں ملوث لوگوں کو بچانے کی فراق میں ہے.
گاؤں کی عورتیں تو وہاں موجود لوگوں کے درمیان زور زور سے کہہ رہی تھی کی جب پورا گاؤں کچی شراب کے دھندے میں ملوث ہے تو آخر دھندے میں وابستہ لوگ کس کے بارے میں بتائیں گے خواتین نے ایک سر سے گاؤں کے مردوں پر کچی شراب کے تعمیر کا الزام لگایا ساتھ ہی کہا کہ جب پولیس پیسہ وصول کرتی ہے تو یہ دھندہ آخر کیوں رکے گا، کچھ خواتین نے یہ بھی الزام لگایا کہ مہینہ پورا ہوتے ہی گاؤں میں خاکی وردی والے لوگ پہنچتے ہیں لیکن ان کے آنے کا کوئی اثر اس دھندے میں وابستہ لوگوں پر نہیں لگتا، وجہ یہ ہے کہ وہ ماہانہ شراب بیچنے والوں سے موٹی رقم وصول کر چلے جاتے ہیں.
گاؤں میں بہت سے لوگوں کی موت کے بعد شراب کے کاروبار سے وابستہ لوگ اس معاملے کو دبانے میں لگے رہے اور مرنے والے خاندانوں کو سمجھا بجھا کر انہیں میت کے آخری رسومات کے لئے اکساتے رہے رات میں پولیس جب گاؤں میں پہنچی تو مرنے والے تمام لوگوں کی لاشیں گھروں میں رکھے گئے تھے پہلے تو گاؤں کے لوگ موت کے بارے میں لاعلمی ظاہر کئے لیکن جب پولیس نے چھان بین شروع کی تو سچائی سامنے آ گئی اور لوگوں نے شراب سے اموات کے بارے میں پولیس کو بتایا، معاملہ بہت سے لوگوں کی موت سے منسلک کیا گیا تھا لہذا پولیس بھی اس بات سے اعلی افسران کو آگاہ کرنے میں پیچھے نہیں رہی.