تحریر: ابن الحسن قاسمی
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
حج اسلامی عبادت کے اعتبار سے چوتها رکن ہے، اور تاریخی حیثیت سے انسان کی خدا پرستی، اور بندگی کا پہلا اور قدیم طریقہ ہے،
*حج کا لغوی معنی*:
حج عربی زبان کا لفظ ہے، جس کا معنی،،قصد،، و ،،ارادہ ،،ہے، اور اس سے مقصود خاص مذہبی قصدوارادہ سے کسی مقدس اور مبارک مقام کا سفر کرنا ہے،
*حج کا شرعی مفہوم*:
شریعت اسلام میں اس کا مفہوم یہ ہے کہ عبادت کی نیت سے ملک عرب کے شہر مکہ میں جاکر سیدنا حضرت ابراہیم کی بنائی ہوئی مسجد، خانہ کعبہ کے گرد چکر لگانا اور وہاں کے مقدس مقامات میں حاضر ہوکر کچه آداب واعمال بجا لانا،
*حج وقربانی کی حقیقت*:
حج اور قربانی سیدنا حضرت ابراہیم علیہ السلام اور سیدنا حضرت اسماعیل علیہ السلام کی یادگار کے طور پر منایا جاتاہے،
ان دونوں بزرگوں کی یہ عبادت اللہ کو اس قدرپسند آئی کہ امت محمدیہ پر اسے لازم کردیا،
یہ ابراہیمی یادگار اس وقت سے جاری ہے جب حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ملک عرب میں حکم خدا سے ایک گهر کی تعمیر کی، جسے آج ،، بیت اللہ ،، کے نام سے جانا جاتاہے،
سیدنا ابراہیم علیہ السلام کا آبائی وطن عراق تها جہاں کلدانیوں کی آبادی اورحکومت تهی،
یہاں ستاروں کی پوجا کی جاتی تهی، حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ستارہ پرستی کے خلاف دنیاں میں سب سے پہلی آوازبلند کی، اور توحید خالص یعنی ایک خدا کی بندگی کی دعوت دی،
پوری قوم آپ کی مخالف ہوگئی، اس کے لئے آپ کو تکلیفیں اٹهانی پڑی،
*حضرت ابراہیم علیہ السلام کی ایک خصوصیت*:
مخالفت اتنی ہوئی کہ آپ کو مجبورا ہجرت کرنا پڑا، آپ عراق سے شام چلے آئے پہر وہاں سے سرزمین عرب کارخ کیا، اور اپنے لخت جگر حضرت اسماعیل کو مکہ کی پہاڑیوں میں آباد کیا،
آپ کی ایک عادت تهی، کہ کسی جگہ جاتے اور اگر وہاں روحانیت کا کوئی خطرہ نظر آتا، تو اس جگہ خدا کا ایک گهر اور قربان گاہ بنادیتے،
چنانچہ توریت میں متعدد قربان گاہیں اور عبادت خانے بنانے کا ذکر ہے
*اسلام میں حج کی فرضیت*:
اسلام میں حج کی فرضیت مختلف انداز سے ہوئی، نماز، روزہ، زکوة،کو تدریجا اور مختلف مدارج سے گذار کر فرضیت کے درجہ تک لایا گیا، نماز کے اوقات وارکان سے اکثر اہل عرب ناواقف تهے، زکوة کا تصور سرے سے تهاہی نہیں، روزہ وہ جانتے ہی نہیں تهے،پہلے ان عبادتوں کی بنیادوں سے واقف کرایا گیا، پہر یہ عبادتیں ان پر فرض کی گئیں،
لیکن حج اہل عرب کا ایک ایسا شعار تها کہ اس کے اصول وارکان پہلے سے معلوم تهے، خرابی صرف یہ تهی ان کا محل اور طریقہ استعمال بدل گیا تها، ان میں بعض مشرکانہ رسوم داخل ہوگئی تهی،
اسلام نے ان مفاسد کی اصلاح کرکے بہ یک دفعہ حج کے فرض ہونے کا اعلان کردیا،
یہ اعلان سن آٹه یا نو ہجری میں ہوا
*حج کے ارکان*:
زمانہ جاہلیت میں حج کے اندرجتنے مفاسد تهے اسلام نے انہیں ایک ایک کرکے مٹادیا،
اب اصلاح وترمیم کے بعد حج کی حقیقت جن ارکان سے مرکب ہوتی ہے وہ یہ ہیں.
*(1)* *احرام*
حاجی جب حج کی نیت کرتاہے تو اس کے اظہار کے لیے تکبیر کہتا ہے یہ تکبیر حج کی نیت کا اعلان ہے، احرام بهی حج کی تکبیر کا اظہار ہے،
احرام باندهتے ہی اپنی معمول کی زندگی سے نکل کر ایک خاص حالت میں آجاتاہے، اب اس پر وہ سب چیزیں ممنوع ہوجاتی ہیں جو دنیاوی زیب وزینت، عیش وآرام، اور تفریح طبع کی ہیں،
احرام بن سلاہوا دو کپڑا ہوتا ہے، ایک کمر سے لپیٹ لیاجاتاہے، اور دوسرا سر کهول کر گردن سے اس طرح لپیٹ لیا جاتاہے کہ داہنا ہاته ضروری کاموں کےلیے باہر رہے،
درحقیقت یہ عهد ابراہیمی کے لباس کی تمثیل ہے،
*(2)* *طواف*
طواف کے معنی چکر لگانےکےہیں، خانہ کعبہ کےگرد گهوم پہر کر دعائیں مانگی جاتی ہیں، اسی عمل کو طواف کہتے ہیں، طواف حقیقتا ایک قسم کی ابراہیمی نماز ہے،
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے،
،، خانہ کعبہ کا طواف گویا نماز ہے، لیکن دونوں میں فرق یہ ہے کہ تم اس میں بول سکتے ہو، مگر نیک بات کے سوا اس حال بهی کچه نہ بولو،،
*(3)* *حجر اسود کا استلام*
حجر اسود کالے رنگ کا ایک پتهر ہے، خانہ کعبہ کی دیوار کے ایک گوشہ میں قد آدم اونچائی پر لگا دیا گیا ہے، اس پتهر کے لگانے کا اصل مقصود یہ ہے طواف شروع اور ختم کرنے کا کام دے،
ہر طواف کے اختتام پر اسے بوسہ دیاجاتا ہے، سینہ سے بهی لگاسکتے ہیں، ہاته یا لکڑی یا کسی اور چیز سے اسے چهو کر چوم بهی سکتے ہیں، اگر یہ نہ ہوسکے تو صرف اس کی طرف اشارہ پر قناعت کریں،
*(4)* *صفا، مروہ کے درمیان دوڑنا*
صفا اور مروہ کعبہ کے قریب دوپہاڑیاں ہیں، اب صرف ان کے کچه نشانات ہیں،
روایتوں میں ہے کہ
حضرت ہاجرہ رض جب حضرت اسماعیل علیہ السلام کو لے کر مکہ ائیں، اور حضرت اسماعیل علیہ السلام، پیاس سے بے تاب ہوئے تو پانی کی تلاش میں مضطربانہ صفاسے مروہ اور مروہ سے صفا کی طرف دوڑی تهیں، اب حاجی بهی اس یادگار کر زندہ رکهتے ہیں پہلے صفاپر پہر مروہ پر چڑه کرکعبہ کی طرف منہ کرکے خدا کی حمد اور دعا کرتے ہین،
*(5)* *وقوف عرفہ*
عرفات میں نویں ذی الحجہ کو تمام حاجیوں کو زوال کے بعد سے غروب تک ٹهر کر دعااور خدا کی حمد میں مصروف رہنا ضروری ہے، اصلی حج اسی ٹهر نے کانام ہے، یہیں جبل رحمت ہے، اسی کے پاس کهڑے ہوکر اسلام کا امیر دنیا سے آئے ہوئے حاجیوں کے کے سامنے ایک عام خطبہ دیتا ہے، اور حج کے اعمال سے آگاہ کرتا ہے،
یہان قیام کے بغیر حج مکمل نہیں، اسی دن آنے والی رات گذشتہ دن کے تابع ہوتی ہے، اس رات میں حاجی جس حال میں بهی عرفات میں آجائے اس کا حج معتبر ہوگا،
*(6)* *قیام مزدلفہ*
حج کا زمانہ بهیڑ بهاڑ کا ہے، عرفات کےبعد اگلی منزل منی ہے، مگر آرام وراحت کے لیے مزدلفہ میں قیام کیاجاتا ہے،
یہین مسجد مشعر حرام ہے اور یہ عبادت کا خاص مقام ہے، اس لیے عرفات سے شام کو لوٹ کر یہاں رات بهر قیام کرنا، اور طلوع فجر کے بعد تهوڑی دیر عبادت کرنا ضروری قرار دیا گیا ہے،
*(7)* *منی کا قیام*
منی ایک میدان ہے جہاں حاجی رک کر قربانی کرتا ہے،
اصل قربان گاہ تو مروہ کی پہاڑی اور مکہ کی گلیاں ہیں،
ایک حدیث مین ہے
،، قربان گاہ مروہ پہر مکہ کی گلیاں ہیں ،،
(موطا مالک)
لیکن جب مسلمانو ں کی کثرت ہوئی اور قربانی کی کوئی حد نہیں رہی، اور مروہ پہاڑی شہری آبادی میں آگئی تو منی جو شہر سے چند میل کے فاصلہ پر ہے قربان گاہ قرار دےدیا گیا،
*(8)* *قربانی*
منی کے قیام کے دوران قربانی کی جاتی ہے یہ حضرت اسماعیل علیہ السلام کی یاد گار اور اپنی روحانی قربانی کی تمثیل ہے،
اس کافائدہ یہ ہے کہ منی کے سہ روزہ قیام مین یہ قومی عید کی عمومی دعوت ہوتی ہے جس میں حاجی فقراء ومساکین کو دعوت کهلاتے ہیں
*(9)* *حلق راس*
منی میں قربانی کے بعد حاجی بال منڈاتے ہیں،
یا ترشواتے ہیں، یہ اس پرانی رسم کی تعمیل ہے کہ نذر دینے والے جب نذر کے دن پورےبکر لیتے ہین تو اپنے بال منڈاتے تهے
*(10)* *رمی جمار*
منی ہی کے میدان میں پتهر کے تین ستون ہیں، کہاجاتا ہے کہ حضرت اباہیم علیہ السلام کو شیطان نے اسی تینوں جگہوں پر بہکانا چاہا تها،
آپ نے ان جگہوں میں اسے کنکری ماری تهی،
،، رجم،، کے لفظی معنی کنکری مارنا ہے،
اسی رمی جمار پر مراسم حج ختم ہوجاتے ہیں،
حج کے تمام مراسم اس پرانے عہد کے طریق عبادت کی یادگار ہیں، جن کا باقی رہنا اس لیے ضروری ہے کہ انسانیت کے روحانی ترقی کا عہد آغاز ہمیشہ ہماری نگاہوں کے سامنے رہے، اور خدا کی یاد ہمیشہ ہم کو گناہوں سے دور رکھ کر آئندہ اچهی زندگی گزارنے کا احساس پیدا کرتی رہے.