اتحاد نیوز اعظم گڑھ INA NEWS: ملک کی آزادی، آپ کی نئی غلامی!

اشتہار، خبریں اور مضامین شائع کرانے کیلئے رابطہ کریں…

9936460549, 7860601011, http://www.facebook.com/inanews.in/

Wednesday, 16 August 2017

ملک کی آزادی، آپ کی نئی غلامی!


تحریر: طه جون پوری
              9004797907
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــ
15/اگست 2017  آگیا، اسیی دن سن 1947 کو ملک کی تاریخ میں نیا باب رقم کیا گیا اور ملک کو "آزاد“ کرا لیا گیا،  آج آزادی کی خوشی میں، باشندگان وطن نے جھنڈا لہرایا، مجاہدین آزادی کے انمٹ کارنامے اور ان کی ملک کے تئیں پرخلوص قربانیوں کو بیان کیا گیا اور انہیں خراج تحسین پیش کیا گیا، انکی قبروں اور سمادھی پر عقیدت کے پھول نچھاور کیے  گے۔
           لیکن افسوسناک پہلو یہ ہے کہ جو اصل ہیرو اور مرد میدان تھے، جنہوں نے آزادی کا بیج بویا تھا، اور اسے اپنے خون جگر سے سینچا تھا، وہ مسلمان جن کی سرفروشی سے ملک نے آزادی کی صبح دیکھی تھی، ان کی قربانیوں کو یکسر فراموش کر دیا گیا ۔
             در حقیقت مسلمانوں کی جتنی اجتماعی قربانیاں ہیں، اتنی دیگر اقوام نے ملکر بھی نہیں دیا ہے. 1754 میں نواب سراج الدولہ کے نانا علی وردی خان کی انگریزوں سے جنگ، 1757 میں  نواب سراج الدولہ کی جنگ پلاسی، 1783 میں سلطنتِ خداداد کےحکمراں، فتح علی خان، ٹیپو سلطان کی انگریزوں سے جنگ، 1792 میں ٹیپو کی دوسری جنگ، چہ جائے کہ اس میں ٹیپو کو اپنے غداروں کی وجہ سے صلح کرنا پڑا، 1799 میں ٹیپو شہید رحمه الله، كی انگریزوں سے سرنگاپٹنم کی جنگ، جس میں آپ نے جام شہادت نوش کیا،1831 میں  حضرت سید احمد شہید رحمه الله کی قیادت میں معرکہ بالا کوٹ اور ان سب سے بھی بڑھ کر 1857 میں علمائے حق کی سیادت میں شاملی کی جنگ. تاریخ کے صفحات پر رقم یہ وہ کرشمائی کارنامے ہیں، جہاں آپ کو آپ کے آباء و اجداد، مسلمان ملیں گے، اور اگر یہاں تک کہدیا جائے کہ اٹھارویں صدی کے اختتام تک آزادی کی اس لڑائی میں مسلمان تھے، تو یہ حقیقت ہے۔ اور مسلمانوں نے ہی آزادی کی لڑائی لڑی  تھی، دوسرے لوگ تو بہت بعد میں اس تحریک کا حصہ بنے، کیونکہ انگریزوں نے اقتدار مسلمانوں سے ہی چھینا تھا۔ اس لیے مسلمان اس اقتدار کو واپس لینا چاہتے تھے، لیکن آج زمام اقتدار ایسے لوگوں کے ہاتھوں میں ہے جو انگریزوں کے نقشِ قدم پر چل کر، اسی انداز میں جیسے گورے انگریز مسلمانوں کو جعلی اور فرضی مقدمات میں پھنسا کر کالا پانی سزا بعبور "دریائےشور“ (موجودہ نام انڈمان اینڈ نکوبار) بھیج دیا کرتے تھے۔ آج کالے انگریز بھی اسی طریقہ کو اپنائے ہوئے ہیں، اور مسلمانوں کو فرضی الزامات لگا کر جیل کی کال کوٹھری میں ڈال رہے ہیں۔
    اگر آزادی اسی کا نام تھا کہ مسلمانوں کو انصاف کی بھیک مانگنا پڑے گا، ان کی مساجد کو مسمار کردیا جائے گا، ان کےشعار کو مٹایا جائے گا، داڑھی رکھنا اور ٹوپی لگانا جرم سمجھا جائے گا،  دستوری حقوق کو چھینا جائے گا، اپنی پسند کا کھانا، کھانے سے روک دیا جائے گا، مسلمانوں کو دوسرے نمبر کا شہری گردانا جائے گا، وطن سے محبت کا ثبوت مانگا جائے گا، تو پھر یہ آزادی نہیں، بلکہ ایک نئی غلامی کا پیام ہے۔
         اس لئے آیئے عہد کریں کہ ان شاء الله ہم اپنے نونہالوں کو تاریخ کے اِن عظیم جیالوں سے واقف کرائیں گے، امام ربانی مجدد الف ثانی شیخ احمد سرہندی رحمۃ اللہ علیہ کے افکار کو عملی جامہ پہنائیں گے، حضرت شیخ الہند رحمۃ اللہ علیہ کے خیالات  کو نوجوانوں کے خون میں شامل کر دیں گے، تحریک ریشمی رومال کے مقاصد سے آگاہ کریں گے، قوم مسلم کی کھوئی ہوئی عظمت کو واپس لائیں گے، غلامی کی اس زنجیر کو توڑیں گے، نسل نو کو اپنے اکابر کے کارناموں سے با خبر کریں گے، اس ملک کو برباد ہونے سے بچانے کی فکر کریں گے، وطن دشمن لوگوں سے اس کا دفاع کریں گے، اس بھارت کو پھر سے مھان بھارت اور سونے کی چڑیا بنائیں گے اور وطن عزیز میں آنے والی نسلوں کے دین و ایمان کی حفاظت کا سامان پیدا کریں گے.
    یااللہ ہمارے ارادوں کو تکمیل تک پہنچا. ملک کو درپیش مشکلات سے نکلنے کی سبیل پیدا فرما. آمیـــن