رپورٹ: محمد فیض اعظمی
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
سرائے میر/اعظم گڑھ(آئی این اے نیوز 16/اگست 2017) مدرسۃ الاصلاح سرائے میر اعظم گڑھ میں جشن یوم آزادی کے موقع پر پروگرام کا انعقاد کیا گیا، جس میں پرچم کشائی کے بعد پروگرام کی نظامت محمد اشرف بندرابازار درجہ ششم عربی نے سنبھالا اور انھوں بے حد اچھے انداز سے پروگرام کو شروع کیا.
پروگرام کا آغاز محمد اسلام نیپال نے کلام اللہ کی تلاوت سے کیا، اس کے بعد ترانہ مادری علمی کا (اصلاحی ترانہ) عبداللہ ادری درجہ ششم عربی اور انکے رفقاء نے پیش کیا، ترانہ مادری علمی کے بعد ترانہ ہندی (سارے جہاں سے اچھا) محمد اشرف بندرابازار ششم عربی نے پیش کیا
اس کے بعد ناظم پروگرام نے استاذ محترم مولانا قاری اعجاز احمد اصلاحی کو افتتاحی کلمات کے لئے دعوت دی.
مولانا نے اپنے بیان میں مختصراً تاریخ ہند کو اجاگر کیا انھوں بتایا کہ علماء کرام نے کس طرح 1857ء سے 1947ء تک مسلسل جد و جہد کی تاریخ کے ایک پہلو کو اجاگر کر کے انھوں نے کہا کہ جنگ آزادی کے لئے سب سے پہلے حضرت شاہ عبدالعزیز رح نے فتوی جاری کیا جسکی وجہ سے تمام علماء کرام جنگ آزادی کے لئے اٹھ کھڑے ہوئے.
عوام سے مخاطب ہوکر کہا کہ آج یوم احتساب بھی ہے آج لوگوں کو سوچنا چاہئیے کہ کیا آج ہندوستاں کی عوام آزاد ہے کیا اسے آزادی کے ساتھ جینے کا حق دیا جا رہا ہے.
بعدہ ابو عامر بہار ششم عربی نے اپنے بات عوام کے سامنے رکھ کر بتایا کہ جنگ آزادی میں مسلمانوں نے جو کارنامے انجام دیئے اسے کبھی بھلایا نہیں جاسکتا، انھوں نے تاریخ کے حوالے سے کہا کہ ٹیپو سلطان جب میدان جنگ میں تھے تو انھوں نے کہا تھا کہ شیر کی ایک دن کی زندگی گیدڑ کی سو سالہ زندگی سے بہتر ہے.
اس کے بعد سابق صدر مدرس جناب مولانا سرفراز احمد اصلاحی ندوی مدنی نے تاریخ کو مفصل انداز میں بیان کیا انھوں نے موجودہ حالات کو سامنے رکھ کر کہا کہ "کیا علماء کرام نے اس وجہ سے آزادی دلائی کہ انھیں دیش دروہی کہا جائے"، انھوں نے کہا کہ آج فرقہ پرستی اپنائی جا رہی ہے، اور علماء کرام کو دہشتگرد قرار دیا جا رہا ہے، اگر یہ علماء کھڑے نہ ہوتے تو ہندوستان آزاد نہ ہوتا، ریشمی رومال تحریک، انقلاب زندہ آباد، ترنگا یہ تمام کے تمام علماء کرام کی ہی ایجاد کردہ ہیں.
انھوں نے بتایا کہ مولانا محمد علی جوہر نے لندن میں کہا تھا کہ اے انگریزوں میں کسی قیمت پر یہاں سے نہیں جاؤنگا جب تک تم ہندوستان آزاد نہ کردو یا پھر مجھے اس لندن میں دوگز زمین دے دو،
اس کے بعد شعری نشست کا آغاز ہوا.
آخر میں ناظم مدرسہ مولانا اشفاق احمد اصلاحی نے صدارتی کلمات سے نوازا اور اسی کے ساتھ پروگرام کا اختتام ہوا.