تحریر: حضرت مولانا محمد وصی اللہ استاذ مدرسہ دینیہ اشاعت العلوم کوٹلہ اعظم گڑھ
ـــــــــــــــــــــــــــــــ
اس وقت ہر ہندوستانی اپنے عزیزوطن ہندوستان کا یومِ آزادی منارہاہے اور منانا بھی چاہیے کیونکہ یہ اس کاحق بھی ہے ، اس جشنِ آزادی میں ہمیں چاہیے کہ اپنی تاریخ کویادکریں، اس کااعادہ کریں اور اپنی نسلوں کو اس سے واقف کرائیں ؛ کیونکہ جوقوم اپنی تاریخ سے دلچسپی لیتی ہے ، تاریخ اس سے دلچسپی لیتی ہے اور جوقوم اپنی تاریخ اپنے سینوں میں محفوظ نہیں رکھتی تاریخ اس قوم کو اپنے دامن میں رکھنے کی روادار نہیں ہوتی ، کسی عربی شاعر نے کیاہی خوب کہاہے :
*إقرإ التاريخ إذ فيه العبر*
*ضاع قوم ليس يدرون الخبر*
یعنی تاریخ کواس لیے پڑھناچاھیے کہ اس میں نہ صرف یہ کہ عبرت ونصیحت کی باتیں ملتی ہیں ؛ بلکہ اس سے بڑھ کر یہ کہ جو لوگ خود اپنے ہی حالات وواقعات سے بے خبر ہوتے ہیں ، ان کاوجودصفحئہ تاریخ سے حرفِ غلط کی طرح مٹادیاجاتاہے ، اسی بات کو مفکرِ اسلام حضرت مولانا ابوالحسن علی میاں ندوی علیہ الرحمہ کی زبان میں یوں پڑھیے :
*"" تاریخ کی مثال ایک منہدم قصر کی ہے ، جوکھنڈر کی شکل میں ہو ، اس کے ملبے کے نیچے وہ کچھ مل سکتاہے جس کی طالبِ صادق اور جویائے حق کو ضرورت پڑسکتی ہے ، کہیں مٹی کے برتن اور روزمرہ کے استعمال کی چیزیں ہونگی ، کہیں
پر سازِ شکستہ اور کتابوں کے اوراقِ دریدہ ہوں گے ، کسی جگہ پر زیورات وجواہرات بکھرے اور دبے ہوے ملیں گے ، کہیں وہ ستون نظر آئیں گے جن پر قصر کی پوری عمارت قائم تھی ، کہیں محرابیں ہونگی جوزبانِ حال سے ایوانِ شاہی کے دورِ رفتہ کہ داستانِ شوکت وعظمت سنارہی ہوں گی
*(المرتضٰی ، ص/ 20)*
تاریخ کی عظمت وافادیت کے بیان میں قدرے طول کلامی سے کام لیاگیا ہے ؛ کیونکہ اپنی تاریخ اور جدوجہدِ آزادی کے ساتھ ہمارا جوکرداراور برتاو ہے اس یہ معلوم ہوتاہے کہ یاتو ہم اپنی تاریخ سے بےخبر ہیں ، یاپھر ہمیں اپنی تاریخ سے دلچسپی نہیں اور دونوں باتیں نہ صرف یہ کہ ہمیں ندامت وشرمندگی سے دوچار کرتی ہیں ؛ بلکہ حددرجہ مضر بھی ہیں ؛ یہی وجہ ہے کہ آج تاریخ کے صفحات سے ہمارے اکابرواسلاف کے ناموں کو مٹاکر ایک انتہائی غلط اور حقیقت سے دور افسانہ کو تاریخی ورثے کاایک مضبوط حصہ گردانا جارہاہے ؛بلکہ اغیار کے طرزِ عمل کو دیکھ کر تو یوں معلوم ہورہاہے کہ *جھوٹ کو اتنی بار دہراؤ! اتنی بار دہراؤ! کہ سچ معلوم ہونے لگے* کو حقیقی اور زمینی منظر نامے میں تبدیل کرنے کی ذمہ داری انہوں نے اپنے کاندھوں پہ لے لی ہے اور نشانہ مسلم قوم ہے
بناء بریں اس *جشنِ آزادی* کے موقع پرمسلم امہ کے ایک ایک فردکیلیے ہمارایہ پیغام ہے کہ اس *یومِ آزادی*پرہم اپنی تاریخ کو دہرائیں ، اپنی نسلوں کو اس سے واقف کرائیں ، ورنہ آنے والا کل اس بات کی پیشین گوئی کررہاہے کہ ھے مستقبل قریب میں ہماری نسلیں اپنے اسلاف کی جدوجہدِ آزادی سے ناواقف ہونے کے پہلو بہ پہلو ان کے ناموں سے بھی بے خبر ہوں گی، پھر کہیں ایسا نہ ہو کہ ہم کفِ افسوس ملتے ہوے یوں کہتے پھریں :
*ہم نفَسو! اجڑ گئیں مہرووفاکی بستیاں*
*پوچھ رہے ہیں اہلِ دل مہرووفا کو کیاہوا ؟*
اور نہ معلوم اس وقت اہلِ دل بھی موجود ہوں گے یا نہیں اور مبادا! سلاف کی روحوں سےآنے والی یہ صدا بھی ہمیں نہ سنائی دے :
*کیاتھا خونِ جگر دے کے جودیا روشن*
*چلی ہیں آندھیاں پھرسے اسے بجھانے کو*
اور ان سارے حالات کی وجہ سے ہم بس ایک خوشگوار موسم کی دعااور تمنا ہی کرتے رہ جائیں ، حالات کے پلٹا کھانے کی ایک کَسَک تو ہمارے دل میں ہو لیکن ہم کچھ کر گزرنے کے دورانیے سے کوسوں دور ہوں ، اس وقت ہماری زبان پر بس یہ الفاظ جاری ہوں
*کوئی تو پھول کھلاے دعا کے لہجے میں*
*عجب طرح کی گھٹن ہے ہوا کے لہجے میں*
*نہ جانے خلقِ خداکون سے عذاب میں ہے*
*ہوائیں چیخ پڑیں التجا کے لہجے میں*
بس اسی خاطر ذیل میں ان مسلم مجاھدینِ آزادی کا اجمالی تذکرہ کیا جارہا ہے جنہوں نے تحریکِ آزادی میں حصہ بھی لیا اور حصولِ آزادی کیلیے اس درجہ دیوانہ ہوے کہ "" زندانوں """ کی خاک چھاننے پر بھی مجبور ہوگئے؛ لیکن پھر بھی وہ یہ کہتے ہوے میدان میں کودپڑے :
*زندگی کاراز یہ ہے اے عزیزانِ وطن*
*جان جاے ، پر نہ جاے حُرمتِ شانِ وطن*
اور اپنی قوم کو یہ پیغام دیتے گئے :
*فرض ہے انسانیت کا ، مقتضا فطرت کاہے*
*خارجی حملوں سے کرنا سعئ حفظانِ وطن*
خیر اب بلاتاخیر اپنے اسلاف کا تذکرہ پڑھیے اور قلب وجگر کی مضبوطی کا امتحان دیجیے
*کوئی کیوں کسی سے لبھائے دل ، کوئی کیا کسی سے لگاے دل*
*وہ جو بیچتے تھے دواے دل ، وہ دکان اپنی بڑھاگئے*
( ہاں ! اتنایادرہے کہ اس تذکرہ میں مجاہدین کے اسماء ذکرکرکے صرف اتنا بتانے پراکتفا کیاگیا ہے کہ وہ کس سن میں جیل گئے ہیں ؟ کب رہائی ملی ؟ اور کیوں ان کے ساتھ ایسا ہوا ؟
ہاں! یہ بھی نہ بھولیے گا کہ ان مجاھدین کا شمار اس طبقئہ علماء میں ہے جن کو آج دنیا سب سے زیادہ موردِ طعن قراردیتی ہے )
*(1)قطب العالم ، امامِ ربانی حضرت مولانا*
*رشید احمد گنگوہی علیہ الرحمہ*
1868 میں آپ کو یوپی ضلع سہارن پور کے ایک گاؤں "" رام پور منہاران "" سے گرفتار کیاگیا اور سہارن پور پہنچادیاگیا ، آپ کے ماموں رہائی کیلیے کوشاں ہوے ، مجسٹریٹ نے ہزارہزارروپئے کی تین ضمانتیں طلب کیں ، آپ کے ماموں نے وہ بھی مکمل کردیں ؛ لیکن مجسٹریٹ کی ہٹ دھرمی کہ رہائی نہ مل سکی ؛ بالآخر آپ کو جیل پہنچادیاگیا 6 ماہ قیدمیں گزارکر جنوری 1860 میں رہاہوے
*(2) شیخ الہند حضرت مولانامحمودحسن دیوبندی علیہ الرحمہ*
تحریکِ حریت وانقلاب کے امام تھے ، آپ کی جدوجہدِ آزادی کازمانہ بڑاطویل ہے ، تحریکِ ریشمی رومال سے آپ کی انقلابی سرگرمیاں ظاہر ہوئیں ؛ مگر واے ناکامی تحریک کاراز فاش ھوگیا ، وابستگانِ تحریک برطانوی قیدخانوں میں بند کردیے گئے آپ کو چار رفقاء سمیت مکہ معظمہ سے قید کرکے مصرومالٹاکے قیدخانہ میں ڈال دیا، جہاں ساڑھے تین سال گزارکر جون 1920 میں ہندوستان آے
*(3) شیخ الاسلام حضرت مولاناسیدحسین احمد مدنی علیہ الرحمہ*
تحریکِ آزادی میں تحریکِ ریشمی رومال ، تحریکِ خلافت. اور جمعیتہ علماء ھند کے پلیٹ فارم سے قائدانہ کرداراداکیا ، حضرت شیخ الہند کے وصال کے بعد حصولِ آزادی کیلیے چارباقیدوبند کی آزمائش سے ہمکنار ہوے اور تقریبًا ساڑھے سات سال اسیرِ فرنگ رہے
*(4) مولاناعزیرگل پشاوری علیہ الرحمہ*
حضرت شیخ الہندکی جماعت کے پرجوش اور سرگرم کارکن تھے ، جب حضرت شیخ الہند کوگرفتار کرکے مالٹامیں نظر بند کیاگیا تویہ بھی ان کے ساتھ مالٹامیں نظر بند رہے اور ساتھ ہی ہندوستان واپس آئے ، حضرت شیخ الہند علیہ الرحمہ کے جاں نثار خادم تھے ، جنودِ ربانیہ کی فہرست میں ان کاعہدہ کرنل بتایاگیاہے
*(5) حضرت مولانا وحیداحمدفیض آبادی رحمۃ اللہ علیہ*
حضرت شیخ الاسلام علیہ الرحمہ کے بھتیجے تھے ، آپ ہی کے ہمراہ دیوبند تشریف لاے اور حضرت شیخ الہند علیہ الرحمہ کے ہمراہ حج میں ساتھ تھے ، پھر مالٹاکی اسارت میں حقِ رفاقت وخدمت اداکی ، نوعمری کے باوجود عزیمت وجوانمردی کاثبوت دیا
*(6)حضرت مولاناحکیم سیدنصرت حسین جہاں آبادی علیہ الرحمہ*
دارالعلوم دیوبند کے فارغ التحصیل تھے ، 1333 میں حج بیت اللہ کیلیے تشریف لے گئے ، مکہ معظمہ میں حضرت شیخ الہند کی معیت ورفاقت حاصل ہوگئی ، جوتادمِ حیات قائم رہی ، آپ ہی کے ساتھ گرفتار ہوکر مصرومالٹا میں رہے ، حضرت شیخ الہند اور دیگر رفقاء کے بغیر رہائی کیلیے تیار نہ ہوے ؛ جبکہ اس کاموقع تھا ؛ چنانچہ اسارتِ مالٹاہی کے زمانے میں 1336 مطابق 1917 کو مولاے حقیقی سے جاملے
*(7) امام الہند مولاناابوالکلام آزاد علیہ الرحمہ*
زبان وقلم سے ہزاروں ، لاکھوں سینوں میں آزادئ وطن کی آگ لگادی ، آپ کے اخبار"" الہلال"" نے ملک کے چپہ چپہ میں آزادی کابگل بجادیا، 1915 میں آپ کی سیاسی سرگرمیوں کی وجہ سے حکومتِ بنگال نے جلاوطن کرکے رانچی میں نظر بند کردیا ، اس کے بعد بھی آزادی کے حصول میں باربار قیدوبند کے مرحلوں سے گزرناپڑا، توریبًا 16 سال جیل کی سلاخوں میں رہے
*(8)مجاہدِ ملت حضرت مولاناحفظ الرحمن سیوہاروی علیہ الرحمہ*
جمعیتہ علماء ھند کے ناظمِ اعلی تھے ، کئی بار جیل کی صعوبتیں برداشت کیں
*(9)مؤرخِ ملت حضرت مولانامحمد میاں دیوبندی علیہ الرحمہ*
جمعیتہ علماءھند کے نائب ناظم تھے ، پانچ بارقیدوبند کی آزمائش میں ڈالے گئے مراداباد ، دہلی ، میرٹھ ، بریلی اور فیض آباد کی جیلوں میں رہے
*(10)مفتئ اعظم ہندحضرت مفتی کفایت اللہ علیہ الرحمہ*
جمعیتہ علماءھند کے بانی ، پہلی دفعہ گجرات جیل میں 6 ماہ کی قیدِ بامشقت گزاری دوسری بار ملتان کی جیل میں رہے
*(11)حضرت مولانا عبدالحق اعظمی علیہ الرحمہ*
ترکِ موالات کا فتوی جست جمعیتہ علماء ھند نے متفقہ فتوی کی حیثیت سے 500 علماء کی دستخط کے ساتھ شائع کیاتھا اس میں آپ کے بھی دستخط تھے ، اسی جرم میں گرفتار ہوے 6 ماہ کی سزاہوئی ، فیض آباد جیل میں رکھے گئے
*(12)حضرت مولاناحبیب الرحمن لدھیانوی علیہ الرحمہ*
1950 تک جمعیتہ علماء کے رکن رہے، 1921 میں سول نافرمانی کے جرم میں گرفتارہوے، پہلی بار 22دسمبر 1921 میں گرفتار ہوے ، 2 سال لدھیانہ ، انبالہ ، اور میانوالی کے جیلوں میں رہے ، آخری باردسمبر 1940 میں لاہورسےگرفتار ہوے ، تقریبًا 15سال جیل میں رہے
*(13)مولاناداؤد غزنوی علیہ الرحمہ*
جمعیتہ علماء کے اراکینِ تاسیسی میں سے ایک تھے، عرصہ تک نائب صدر بھی رہے ، 1919 میں بغاوت کے جرم میں گرفتاہوے ، 3 سال میانوالی جیل میں گزارے ، 1925 میں بھی گرفتارہوے ، 1927 میں سائمن کمیشن کے مقاطعے میں تحریک میں ِحصہ لینے کی پاداش میں قید ہوئی
*(14)سحبان الہند مولانااحمد سعید دہلوی علیہ الرحمہ*
1939 تک جمعیتہ علماءکے ناظمِ اعلی رہے 1922 میں ایک سال میانوالی جیل میں 1930 میں 6 ماہ گجرات جیل اور 1932 میں ایک سال ملتان جیل میں رہے
*(15)شیخ التفسیر مولانااحمدعلی لاہوری علیہ الرحمہ*
تحریکِ خلافت اور ج
یتہ علماءھند دونوں کے سرگرم کارکن تھے ، جمعیتہ علماءھند کی مجلسِ عاملہ کے رکن بھی تھے ، اس کی تحریکات میں سرگرم حصہ لیا ، آزادئ ھند کے سلسلے میں متعدد بار گرفتار ہوے
*(16)مولاناغلام غوث ہزاروی علیہ الرحمہ*
ملک کی تحریک ِ آزادی میں شریک رہے اور قیدوبند کی صعوبتوں سے گزرے
*(17)مفتی عتیق الرحمن عثمانی علیہ الرحمہ*
تحریکِ آزادی کے عظیم. سیاسی رہنما تھے جمعیتہ علماءھند کے کاموں میں مولاناحفظ الرحمن سیوہاروی علیہ الرحمہ کے دستِ راست تھے اور ان کے وصال کے بعد جمعیتہ علماءھند کے صدر بھی منتخب ھوے ، کراچی کی خلافت کانفرنس میں حضرت شیخ الاسلام علیہ الرحمہ کی تقریر کے نتیجہ میں گرفتار ہونے والوں میں آپ کا ھی نام شامل ہے
*(18)فخرالمحدثین حضرت مولاناسید فخرالدین مرادابادی علیہ الرحمہ*
اپنے دور میں جمعیتہ علماءھند کے صدرتھے ، کئی بار جیل گئے ، نمک ستیاگرہ میں گرفتاری ہوئی تھی ایک سال کی سزا میرٹھ جیل میں کاٹی
*(19)مولانانثاراحمد کان پوری علیہ الرحمہ*
کراچی کی خلافت کانفرنس میں حضرت شیخ الاسلام علیہ الرحمہ کی تقریر کے نتیجہ میں گرفتار ہوے
*(20)مولاناحسرت موہانی علیہ الرحمہ*
جمعیتہ علماءھند کے اراکینِ عاملہ میں سے تھے ، 12 سال کا عرصہ جیل میں گزارا "" مصرمیں انگریزوں کی پالیسی """ کے عنوان سے ایک مضمون کی اشاعت پر ان کے خلاف باغیانہ مقدمہ چلا اور دوسال قیدِ بامشقت کی سزا ہوئی ، مولانااکثر سیاسی دوروں پررہتے اور گرفتار ہوکر جیل چلے جاتے
*(21)قاضی سیداحمدحسین بہاری علیہ الرحمہ*
1921 میں گرفتار ہوے ، 150 رضاکاروں کی معیت میں گرفتاری ہوئی ، ان کی پوری زندگی تحریکِ خلافت ، جمعیتہ علماءھند اور امارتِ شرعیہ کے ارد گرد گھومتی ہے
*(22)مولانامحمد علی جوہر علیہ الرحمہ*
جمعیتہ علماءھند کے اراکینِ تاسیسی میں سے ایک تھے ، حضرت شیخ الاسلام علیہ الرحمہ کے ہمراہ دوسال کراچی جیل میں رہے ، وہیں حضرت سے درسِ قرآن بھی لیا
*(23)مفتی محمدنعیم لدھیانوی علیہ الرحمہ*
جمعیتہ علماءھند کےصفِ اول کے رہنما اور جمعیتہ علماء پنجاب کے صدر تھے ، تحریکِ آزادی میں سرگرم حصہ لیا ، 1930 کی تحریک سول نافرمانی میں 5 جولائی 1930 کو لدھیانہ میں گرفتار ہوے ، 1932 میں جمعیتہ علماءھند کے ساتویں ڈکٹیٹر کے طور پر 9 ستمبر 1932 کوایک عظیم الشان اجلاس کی قیادت کرتے ہوے گرفتار ہوے
*(24)مولانافضلِ حق خیرابادی علیہ الرحمہ*
1859 میں آپ کے خلاف بغاوت کا مقدمہ چلا اور کالاپانی کی سزاہوئی ، آپ نے اپنا مقدمہ خود لڑا اور عدالت میں کہا """ جہادکافتوی میرا لکھا ہوا ہے اور میں آج بھی اپنے اس فتوی پر قائم. ہوں """ 1857 کی جنگِ آزادی ناکام ہونے کے بعد انگریز نے ان کو قید کردیا ، ایک طویل قانونی جدوجہد کے بعد بالآخر 1861 میں علامہ کے صاحبزادے مولوی شمس الحق ، علامہ کی سزا موقوف کرانے میں کامیاب ھوگئے ، رہائی کا پروانہ لے کر وہ انڈمان پہنچے ؛ لیکن جب وہ "" پورٹ بلیئر "" پر 13 فروری 1861 کو پہنچے تو بہت دیر ہوچکی تھی ، جہاز سے اتر کر جیل کی جانب بڑھے تو ایک جم غفیر دکھائی پڑا جوایک جنازے کے ساتھ چل رہاتھا ، معلوم کرنے پر پتہ چلا کہ علامہ کاانتقال ہوچکا ہے اور لوگ انہیں سپردخاک کرنے کیے لے جارہے ہیں ، ایک روایت یہ بھی ہےکہ آپ کے صاحبزادے کے انڈمان پہنچنے سے قبل ہی علامہ کو پہانسی دے دی گئی تھی
*(25)مولوی لیاقت علی الہ آبادی علیہ الرحمہ*
برطانوی حکومت کے خلاف جدوجہد کے جرم میں 16 جولائی 1872 کو ممبئی میں گرفتار کیے گئے ، وہاں سے آپ کو الہ آباد جیل لایاگیا ، وہیں مقدمہ چلا ، عدالت نے کالا پانی سزا سنائی ، 20 سال تک کالاپانی میں عبادت وریاضت اور جہدومشقت کے ذریعہ اپنے دل کو روشنی کاسامان فراہم کرتے رہے ، بالآخر 17 مئی 1892 کو خالقِ حقیقی سے جاملے
*(26)مولاناعارف ہسوی علیہ الرحمہ*
آپ کانگریس پارٹی کے اخبار روزنامہ "" کا نگریس "" کے ایڈیٹرتھے ، بعد میں مولانامحمدعلی جوہر کےاخبار "" ہمدرد "" کے بھی ایڈیٹر مقرر ہوے ، وہ کسی ایک باغیانہ تحریر کی کاوش میں جیل جاتے اور باہر آتے توان کاقلم پہلے سے زیادہ شدت کے ساتھ حکومت کی پالیسیوں پر حملہ کرتا ، جیلوں میں ان کے ساتھ بیحد غیرانسانی سلوک کیاگیا ، متھراجیل میں اسارت کے دوران ان سے مویشیوں کاگوبراٹھانے جیسی ذلت آمیز مشقت لی گئی
*(27)مولاناظفر علی خاں علیہ الرحمہ*
27 اکتوبر1920 کو انگریزی عدالت نے مولاناکوبرطانوی اقتدار کے خلاف نفرت پھیلانے اور بادشاہِ ہند کی مسلم رعایا کے درمیان دشمنی کے احساسات بڑھانے کی کوشش یعنی صریحی بغاوت کے الزام میں پانچ سال کی قید اور 1000 روپئے جرمانہ کی سزا سنادی
*(28)مولاناسیدعطاءاللہ شاہ بخاری علیہ الرحمہ*
آپ کی پُرجوش خطابت سے ہرشخص واقف ہے برطانوی حکومت کےخرمن میں آگ لگائی ہوئی آپ کی تقاریر. اور انقلابی سرگر میوں سے انگریز اقتدار
اس قدر گھبراگیا کہ 27 مارچ 1921 کو آپ گرفتار کرلیے گئے ، 3 سال قیدِ بامشقت کی سزا ہوئی ، اس کے علاوہ بھی آپ کئی دفعہ جیل کی ہوا کھاچکے ہیں
*(29)مولاناخواجہ عبدالحئی فاروقی علیہ الرحمہ*
حضرت شیخ الہند کی تحریکِ آزادئ ھند سے خواجہ صاحب کو بڑاگہراتعلق تھا 1336 میں تحریکِ شیخ الہندسے وابستہ ہونے کی وجہ سے لاہور میں آپ کو نظربند کردیاگیا ، جس سے 1338 میں رہائی ملی ، جنودِ ربانیہ کی فہرست میں ان کانام کرنل کی فہرست میں شامل تھا
*(30)مولانامحمد چراغ گوجرانوالوی علیہ الرحمہ*
دارالعلوم دیوبند کے فارغ التحصیل اور علامہ کشمیری علیہ الرحمہ کے شاگرد تھے آزادئ ھند کی تحریک میں سرگرمی سے شریک رہے اور باربار قیدوبند کے مرحلوں سے گزرے
*(31)مولوی محمد جعفر تھانیسری علیہ الرحمہ*
1857 کے جہادِ آزادی میں شریک رہے ، مشہور انبالہ سازش کیس میں ماخوذ ہوے ، اولًا سزاے موت مع ضبطی جائیداد سزا ہوئی ، پھرحبسِ دوام بعبور دریاے شور یعنی کالے پانی کی سزاہوئی ،11 جنوری 1866 کوانڈمان پہنچے ، 17 سال بعد 21 نومبر 1883 کورات نو بجے انبالہ واپس ہوے اور آزادی کی زندگی نصیب ہوئی
*( 32)مولنایحیٰی علی عظیم آبادی علیہ الرحمہ*
بہترین واعظ ومقرر اور اعلٰی درجہ کے منتظم تھے ، مشہورانبالہ سازش کیس میں 5 مارچ 1864 کو گرفتار ہوے ، مختلف جیلوں میں رہے ، پھرکالے پانی انڈمان بھیج دے گئے ، 11 جنوری 1868 کووہاں پہنچے ، 2 سال ایک ماہ 9 دن گزارکر 26 شوال 1384 مطابق 20 فروری 1868 کو اسی وادئ غربت میں جان جاں آفریں کے سپرد کردی
*(33)مولاناعبدالحلیم صدیقی علیہ الرحمہ*
جمعیتہ علماءھند کے پلیٹ فارم سے ملک وملت کیلیے گراں قدر خدمات انجام دیں ، لیلاے آزادی کی خاطر باربار گرفتار ہوے ، 1922 میں پہلی بار گرفتار ہوے ، 1930/32 اور 1942 کی تحریکوں میں بھی سنتِ یوسفی پرعمل کیا ، جمعیتہ علماءھند کے قیام سے اس کی مجلسِ عاملہ اور مجلسں منتظمہ کے سرگرم ممبر رہے ، مولانااحمدسعید کی گرفتاری کے موقع پر متعددبار قائم. مقام اور ناظمِ اعلٰی بھی رہے
*(34)مولانانورالدین بہاری علیہ الرحمہ*
جمعیتہ علماءھند کے مردِ مجاھد اور صفِ اول کے رھنما تھے ، جمعیتہ علماءھند کے نائب ناظم بھی رہے ، متعدد بار قیدوبند کے مصائب سے دوچار ہوے 1932 میں جمعیتہ علماءھند کے چوتھے ڈکٹیٹر تھے ، 6 مئی 1932 کو ایک عظیم الشان جلوس کی قیادت کرتے ہوے گرفتار ہوے ، 2 سال قیدِ بامشقت کی سزا تجویز ہوئی ، ایامِ اسارت ملتان جیل میں گزارے ، اسی زمانہ میں اہلیہ محترمہ کاوصال بھی ہوا
*(35)مولانامحمدصادق کراچوی علیہ الرحمہ*
جمعیتہ علماءھند کے تاسیسی اجلاس سے تاعمر وابستہ رہے ، جمعیتہ علماءھند کی مجلسِ عاملہ کے رکنِ رکین تھے اور جمعیتہ علماء سندھ کے صدر بھی ، آزادئ وطن کی کی جدوجہد میں نمایاں حصہ لیا، آپ قیامِ جمعیتہ سے پہلے 1915 میں جیل گئے ہیں
*(36)مولانامحمداسماعیل سنبھلی علیہ الرحمہ*
1932 میں جمعیتہ علماءھند کے آٹھویں ڈکٹیٹرمنتخب ہوے ، 8 اکتوبر 1932 کو جمعیتہ علماءھند کے دفتر سے گرفتار کرکے6 ماہ کی قید بامشقت اور 50 روپئے جرمانہ سزاتجویز ہوئی ، اس کے بعد 1940 اور 1942 میں بھی گرفتار ہوکر سزایاب ہوے
*(37)مولانامحمدقاسم شاہجہانپوری علیہ الرحمہ*
جمعیتہ علماءھند کی مرکزی مجلسِ عاملہ کے رکن اور ایک طویل عرصہ تک جمعیتہ علماءاترپردیش کے ناظمِ اعلٰی اور کچھ عرصہ صدر بھی رہے ، تحریکاتِ آزادی میں سرگرم حصہ لیا ، متعدد بار جیل گئٰے
*(38)مولاناابوالوفا شاہجہانپوری علیہ الرحمہ*
جمعیتہ علماءھند کی مجلسِ عاملہ کے رکن اور ایک عرصہ تک نائب صدر رہے ، جمعیتہ علماءھند اور مجلسِ احراراسلام کےپلیٹ فارم سے جنگِ آزادی میں حصہ لیا ، قیدوبند کے مرحلے سے گزرے
*(39)مولانااخترالاسلام مرادابادی علیہ الرحمہ*
جمعیتہ علماءمرداباد اور جمعیتہ علماء اترپردیش کے ناظم رہے ، تحریکِ آزادی میں حصہ لیا 1940 میں قیدوبند کی آزمائش سے دوچار ہوے ، دس ماہ مراداباد اور فیروزآباد کی جیلوں میں صعوبتیں برداشت کیں
*(40)مفتی صدرالدین آزردہ علیہ الرحمہ*
حضرت نانوتوی ، حضرت گنگوہی ، مولانافیض الحسن سہارن پوری ، مولاناذوالفقار دیوبندی ، مولانامنیرنانوتوی ، مولانامظہر نانوتوی ، نواب صدیق حسن خاں اور سر سید علیہم الرحمہ جیسے مشاہیر کے استاذِ باوقار تھے،1857 کی جنگِ آزادی میں حصہ لیا ، فتوی جہاد پر دستخط کیے ، ناکامئ جنگ کے بعد گرفتار ہوے ، جائیداد ضبطی کرلی گئی اور عہدہ صدرالصدور سے معزول کردیاگیا ، 6 ماہ بعد رہائی ہوئی ، بڑی کوششوں سے نصف جائیداد واگزار ہوئی
ان مذکورہ شخصیات کے علاوہ درج ذیل حضرات علماء نے بھی حصول آزادی کی خاطر زندانوں کو اپنے وجود سے روشن کیا ہے ، طوالت کے پیشِ نظر صرف اسماء ذکر کرنے پر اکتفا کیاجارہاہے
*(41)مولاناعبدالعزیز گوجرانوالوی علیہ الرحمۃ*
*(42)مولانامبارک علی علیہ الرحمہ*
*(43)مفتی مظہرکریم دریابادی علیہ الرح
*(44) قاضی سرفراز علی علیہ الرحمہ*
*(45) مولاناعبدالقادر دہلوی علیہ الرحمہ*
*(46)مولاناکفایت علی شہید علیہ الرحمہ*
*(47)مولاناابوسراج غلام. محمددین پوری علیہ الرحمہ*
*(48)مولاناسیف الرحمن کابلی علیہ الرحمہ*
*(49)مولانافضلِ الٰہی علیہ الرحمہ*
*(50)پیرغلام. مجددجان سرہندی علیہ الرحمہ*
*(51)مولانا آل احسن علیہ الرحمہ*
*قارئین کرام!*
یہ ہے آپ کے آباء واجداد کے قیدِ زنداں کی ایک ہلکی سی جھلک ، اگر ہم اس تاریخ سے باخبر ہوں تو کسی بھی غلط تاریخ لکھنے یابیان کرنے والے سے بلا جھجھک یہ کہہ سکتے ہیں :
*میں نے کھوے ہیں یہاں اپنے سنہرے شب وروز*
*درودیوار کسی کے ہوں ، یہ گھر میراہے*
*میرااسلاف سے رشتہ تُو نہ توڑ اے دنیا*
سب محل تیرے ہوں ، لیکن یہ کھنڈر میراہے
اخیر میں اپنے ملک کے ہر باشندے کو یہ پیغام ضرور دیناچاہوں گا کہ امن ومحبت کی زبان بولنے پر زوردیاجاے ، اس ملک کا ہر شہری *" یک جان دوقالب ""* کامنظرنامہ پیش کرنے کی کوشش کرے ، سخت وسُست اور درشت کلامی سے کام لینے والوں کو واضح الفاظ میں یہ بتادیاجاے
*تم نے الفاظ کی تاثیر کو پرکھا ہی نہیں*
*نرم لہجے سے توپتھر بھی پگھل سکتے تھے,*
اس کے باوجود بھی اگر مخالفت کاسامنا کرناپڑے تو یہ کہتے ہوے اپنے آپ کی حفاظت کاسامان فراہم کیاجاے
*تم چاہو تلوار چلے ، یاچاہو جام چلے*
*ہم توپیارے دردِ محبت کادے کر پیغام چلے*