ناقل :ریان احمد متعلم مدرسة الاصلاح
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
گزشتہ دوشنبہ کو میں مغرب کی نماز ادا کرنے کے بعد اپنے دوست محد عثمان صادق حسین راجہ پور سکرور کے یہاں گیا عثمان نے بتایا آج میرے والد کا درس قرآن ہے تو مجھے بہت خوشی ہوئ عشاء کی نماز بعد مولانا صادق اصلاحی صاحب درس دیا جسے میں آپ کے سامنے پیش کرتا ہوں ۔
مولانا نے سورہ جن کی چند آیت تلاوت کی ۔
وان لو استقامو على الطريقة لاسقينهم ماء غدقا.لنفتنهم فيه .ومن يعرض عن ذكر ربه يسلكه عذابا صعدا.وان المساجد فلا تدعوا مع الله احدا. وانه لما قام عبد الله يدعوه كادوا يكونون عليه لبدا.(سوره جن16-19}
ترجمه|کہہ دو اے محمد ص مجھے وحی آئ ہے کہ اگر یہ (قریش)سیدھی راہ اختیار کرلیتے تو ہم ان کوخوب سیراب کرتے کہ ہم ان کو اسمیں آزمائیں اور جو اپنے رب کی یادہانی سے اعراض کریں گے تو وہ ان کو چڑھتے عذاب میں داخل کرے گا ۔اور یہ کہ مسجدیں اللہ کی عبادت کیلۓ ہیں تو اللہ کے ساتھ کسی اور کو شریک نہ ٹھراؤ ۔اور یہ کہ جب اللہ کا بندہ صرف اللہ ہی کو پکارتا کھڑا ہوتا ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ لوگ اس پر پل پڑیں گے۔
سیدھی راہ سے مراد صراط مستقیم ہے اللہ اپنی تمام مخلوقات کو رزق دیتا ہے لیکن جو شخص سیدھی راہ پر چلے گا تو اللہ تعالی فرماتا ہے ہم اسے مزید نوازیں گے اور اس نوازش میں بھی اسے آزمائیں گے ان آیات کے مخاطب اول قریش ہیں اور اس وقت قریش کا اعتماد ہوگیا تھا کہ انھیں جو کچھ ملا ہے وہ اللہ کی رضا کی بنیاد پرچناں چہ ہمیں یہاں دولت ملی ہےاس کا مطلب اللہ ہم سے راضی ہے اور جب اللہ ہم سے یہاں راضی ہے تو آخرت کو اول ہم مانتے نہیں اگر ہو بھی گئ تو وہاں بھی مال و دولت ملیں گی۔ جس شخص کو یہاں دولت ملی ہے تو اس غلط فہمی میں نہ رہے جس میں کفار مکہ تھے بلکہ اللہ تعالی دے کر آزماتا ہے کہ وہ شخص اس پر شکر ادا کرتا ہے کہ نہیں اسے اس کے مستحقین کو دیتا ہے کہ نہیں اور اللہ تعالی رزق میں کمکی کرکے بھی آزماتاہے کہ وہ شخص واویلہ کرتا پھر رہا ہے یا صبر کا دامن پکڑے ہوۓ جو شخص ان آزمائشوں میں کامیاب رہا وہ آگے بھی کامیاب رہے گا۔آگے اللہ تعالی نے فرمایا جو لوگ ذکر سے اعراض کریں گے وہ ان کو چڑھتے ہوۓ عذاب میں داخل کرے گا ذکر سے مراد قرآن مجید ہے ۔
آج مسلمانوں کی اکثریت قرآن کی تعلیمات سے دوری بناۓ ہوۓ ہے جبکہ قرآن میں زندگی گزارنے کے طریقے موجود ہیں قرآن میں ہر طرح کے مسائل کے حل موجود ہیں قرآن کی ہرآیت اپنے اندر قیمتی سے قیمتی بات سموۓ ہوۓ ہے جو انسان کو اسنانیت اور اسکی سرفروشی کی رہنمائ کرتی ہیں حتی کہ قرآن چلنے بولنے سوسائٹی میں رہنے کا طریقہ بتاتا ہے لیکن ہماری نسل اس سے ناواقف ہے اور در در ٹھوکریں کھاتی نظر آرہی ہے۔
یاد رکھیں اس بے رغبتی کی سزا چڑھتا ہوا عذاب ہے مفسرین لکھتے ہیں اس عذاب کی شدت روز بروز بڑھتی رہے گی ۔
اس وقت خانہ کعبہ کو کفار مکہ نے بتوں کا گڑھ بنا دیا تھا اللہ نے مساجد جمع لا کر تمام مسجدوں کیلۓ یہ حکم دیا ہے کہ مسجدیں صرف اللہ کیلۓ ہیں تو اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھراؤ مسجدوں کو اپنے مفاد کیلۓ نہ استعمال کیا جاۓ اگر اس میں کچھ لگا دیا ہے اسے اپنا نہ سمجھا جاۓ ۔ اور نہ ہی مسجدوں میں شور و شغف ہو اور نہ کسی کو اللہ کے ساتھ شریک کیا جاۓ یعنی صرف اللہ کی عبادت ہو۔ اور اللہ کی رضا اور اس کے حکم کی بات ہو۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب اللہ کی عبادت کرتے مسجد میں یا باہر تو کفار مکہ چاروں طرف سے آپ کو گھیر لیتے اور آپ کو پریشان کرنے کیلۓ طرح طرح کے سوالات کرتے لیکن آپ ص بغیر اس پر توجہ دیے اپنے مشن پر گامزن رہے آج کے اس دور میں بھی بالکل وہی پس منظر ہے ہمیں بھی بغیر دشمن کی پرواہ کیے ہوۓ اپنا کام کرتے رہنا چاہیے ایک روز کامیابی ضرور قدم چومے گی۔