اتحاد نیوز اعظم گڑھ INA NEWS: تاریخ کے بدترین دور سے گزر رہا ہے ہندوستان، حکمران صرف مذمت تک محدود: امروہہ اجلاس میں علماء کا خطاب

اشتہار، خبریں اور مضامین شائع کرانے کیلئے رابطہ کریں…

9936460549, 7860601011, http://www.facebook.com/inanews.in/

Monday, 9 October 2017

تاریخ کے بدترین دور سے گزر رہا ہے ہندوستان، حکمران صرف مذمت تک محدود: امروہہ اجلاس میں علماء کا خطاب


رپورٹ: یاسین صدیقی قاسمی
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
امروہہ(آئی این اے نیوز 09/اکتوبر 2017) موجودہ وقت میں ﻋﺎﻟﻤﯽ ﭘﯿﻤﺎﻧﮯ ﭘﺮ ﺍﺳﻼﻡ ﻭﻣﺴﻠﻤﺎﻥ ﺍﻏﯿﺎﺭ ﮐﮯ ﻧﺸﺎﻧﮯ ﭘﺮ ﮨﯿﮟ، ﻋﺎﻟﻢ ﺍﺳﻼﻡ ﻣﻘﺘﻞ ﻣﯿﮟ ﺗﺒﺪﯾﻞ ﮨﻮﭼﮑﺎ ﮨﮯ ﺍﺳﻼﻡ ﺩﺷﻤﻦ ﻃﺎﻗﺘﻮﮞ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﻣﮑﺮﻭﻓﺮﯾﺐ ﮐﺎ ﺟﺎﻝ ﺑﭽﮭﺎ ﺩﯾﺎ ﮨﮯ، ﺍﻣﺖ ﻣﺴﻠﻤﮧ ﺑﮯ ﺷﻤﺎﺭ ﻓﺘﻨﻮﮞ ﮐﮯ ﻧﺮﻏﮯ ﻣﯿﮟ ﮨﮯ،ﮨﻤﺎﺭﮮ ﻣﻠﮏ ﮨﻨﺪﻭﺳﺘﺎﻥ ﻣﯿﮟ ﻧﻔﺮﺕ ﻭ ﺍﺷﺘﻌﺎﻝ ﺍﻧﮕﯿﺰﯼ ﺑﺮﭘﺎ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﯽ ﻣﺴﻠﺴﻞ ﮐﻮﺷﺸﯿﮟ ﮨﻮﺗﯽ ﺭﮨﺘﯽ ﮨﯿﮟ، ﯾﮩﺎﮞ ﮐﯽ ﯾﮑﺠﮩﺘﯽ ﻭﮐﺜﺮﺕ ﻣﯿﮟ ﻭﺣﺪﺕ ﮐﮯ ﻃﺮﮦ ﺍﻣﺘﯿﺎﺯ ﮐﻮ ﭘﺎﺭﮦ ﭘﺎﺭﮦ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﻣﻠﮏ ﺩﺷﻤﻦ ﻋﻨﺎﺻﺮ ﺩﺭﭘﮯ ﮨﯿﮟ، جمعیتہ ﻋﻠﻤﺎﺀ ﮨﻨﺪ ﺟﻮ ﻣﻠﮏ ﻭﻣﻠﺖ ﮐﯽ ﻓﻼﺡ ﻭﺑﮩﺒﻮﺩ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﮨﻤﯿﺸﮧ ﺳﮯ ﺳﺮﮔﺮﻡ ﻋﻤﻞ ﺭﮨﯽ ﮨﮯ ﺍﻥ ﺣﺎﻻﺕ ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺫﻣﮧ ﺩﺍﺭﯼ ﺍﻭﺭ ﺑﮍﮪ ﮔﺌﯽ ﮨﮯ ﮨﻤﺎﺭﯼ ﮨﻤﯿﺸﮧ ﯾﮧ ﮐﻮﺷﺶ ﺭﮨﺘﯽ ﮨﮯ ﮐﮧ ﯾﮑﺠﮩﺘﯽ ﻭ ﻣﻠﮏ ﮐﮯ ﺳﯿﮑﻮﻟﺮﺯﻡ ﮐﻮ ﻧﻘﺼﺎﻥ ﭘﮩﻨﭽﺎﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﭼﮩﺮﻭﮞ ﮐﻮ ﺍﺟﺎﮔﺮ ﮐﺮﮐﮯ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﻮ ﻣﺘﻨﺒﮧ ﻭﮨﻮﺷﯿﺎﺭ ﮐﯿﺎ ﺟﺎﺋﮯ ﺍﻭﺭ ﺳﺎﺭﮮ ﻃﺒﻘﺎﺕ ﮐﻮ ﺑﻼ ﺗﻔﺮﯾﻖ ﻣﺴﻠﮏ ﻣﺬﮨﺐ ﻭﻣﻠﺖ ﺗﻤﺎﻡ ﺍﻗﻠﯿﺘﻮﮞ ﺧﺼﻮﺻﺎ ﻣﺴﻠﻤﺎﻧﻮﮞ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﮐﺎﻡ ﮐﯿﺎ ﺟﺎﺋﮯ، جمعیتہ  ﻋﻠﻤﺎﺀ ﮨﻨﺪ ﮐﮯ ﺍﮐﺎﺑﺮ ﮨﻨﺪﻭﺳﺘﺎﻥ ﮐﯽ ﺁﺯﺍﺩﯼ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﮐﻔﻦ ﺑﺮﺩﻭﺵ ﮨﺘﮭﯿﻠﯽ ﭘﺮ ﺟﺎﻥ ﺭﮐﮫ ﮐﺮ ﺁﺯﺍﺩﯼ ﻭﻃﻦ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﮐﺎﻡ ﮐﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺁﺯﺍﺩﯼ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﻣﻠﮏ ﮐﮯ ﺍﻧﺪﺭ ﻣﺴﻠﻤﺎﻧﻮﮞ ﮐﯽ ﺍﺳﻼﻣﯽ ﺷﻨﺎﺧﺖ ﺍﻭﺭ ﺗﺸﺨﺺ ﺍﻗﻠﯿﺘﻮﮞ ﮐﮯ ﺣﻘﻮﻕ ﮐﯽ ﭘﺎﺳﺪﺍﺭﯼ ﺑﺮﺍﺩﺭﺍﻥ ﻭﻃﻦ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺭﻭﺍﺩﺍﺭﯼ، ﺍﻧﺴﺎﻧﯽ ﮨﻤﺪﺭﺩﯼ ﺧﯿﺮ ﺧﻮﺍﮨﯽ ﺍﻭﺭ ﺿﺮﻭﺭﺗﻮﮞ ﮐﯽ ﺗﮑﻤﯿﻞ ﺍﻭﺭ ﺳﺴﮑﺘﯽ ﺍﻧﺴﺎﻧﯿﺖ ﮐﻮ ﺭﺍﮦ ﺭﺍﺳﺖ ﭘﺮ ﻻﻧﮯ ﮐﺎ ﮐﺎﻡ ﮐﯿﺎ ﮨﮯ، ﮨﻤﺎﺭﮮ ﺍﮐﺎﺑﺮ ﺑﻘﺎﺋﮯ ﺑﺎﮨﻢ ﮐﮯ ﺧﻮﮔﺮ ﻣﺪﺍﺭﺱ ﻭﻣﮑﺎﺗﺐ ﮐﮯ ﺗﺤﻔﻆ ﻣﻈﻠﻮﻣﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﺑﮯ ﮐﺴﻮﮞ ﮐﻮ ﺍﻧﺼﺎﻑ ﺩﻻﻧﮯ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﮨﻤﯿﺸﮧ ﮐﻤﺮ ﺑﺴﺘﮧ ﺭﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﻣﺴﻠﮏ ﻭﻣﺬﮨﺐ ﺳﮯ ﺍﻭﭘﺮ ﺍﭨﮫ ﮐﺮ ﮐﺎﻡ ﮐﯿﺎ۔ 
مذکورہ خیالات کا اظہار صدر اتر پردیش جمعیتہ علماء ہند مولانا متین الحق اسامہ قاسمی نے امروہہ میں منعقد مغربی مجلس منتظمہ جمعیتہ علماء ہند کے انتخابی اجلاس کو خطاب فرماتے ہوئے کیا.
قابل ذکر ہے کہ مجلس منتظمہ جمعیتہ علماء ہند مغربی اتر پردیش کا انتخابی اجلاس قدیمی عصری تعلیمی درس گاہ عبد الکریم خان انٹر کالج امروہہ میں منعقد ہوا.
اجلاس میں بطور نگراں و مہمان خصوصی شرکت فرما رہے معروف علم دین مولانا متین الحق اسامہ قاسمی نے مزید کہا کہ  ﺍﮐﺎﺑﺮ ﮐﮯ ﺑﻨﺎﺋﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺍﺻﻮﻝ ﺍﻭﺭ ﺍﻥ کی ﺭﻭﺷﻦ ﺗﺎﺭﯾﺦ ﮐﻮ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﺭﮐﮫ ﺧﺪﻣﺎﺕ ﺍﻧﺠﺎﻡ دی جائیں  ﺗﺎﮐﮧ ﻣﻠﮏ ﻭﻣﻠﺖ ﮐﮯ ﻣﻔﺎﺩ ﻣﯿﮟ جمعیتہ  ﻋﻠﻤﺎﺀ ﮐﻮ ﻣﺰﯾﺪ ﻓﻌﺎﻝ ﺑﻨﺎﮐﺮ ﮔﺮﺩﺵ ﺍﯾﺎﻡ ﮐﻮ ﻣﻮﺯﻭﮞ ﮐﺮﻧﮯ، جمعیتہ ﮐﮯ ﺗﻨﻈﯿﻤﯽ ﺍﺳﺘﺤﮑﺎﻡ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺫﺭﯾﻌﮧ ﺗﻌﻤﯿﺮﯼ ﮐﺎﻡ ﺳﯿﺮﺕ ﺭﺳﻮﻝ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﮐﯽ ﺭﻭﺷﻨﯽ ﻣﯿﮟ ﺍﺣﺘﺮﺍﻡ ﺁﺩﻣﯿﺖ ﺁﺋﯿﻦ ﻭﺩﺳﺘﻮﺭﮐﮯ ﻣﻄﺎﺑﻖ ﺍﻗﻠﯿﺘﻮﮞ ﻭﺗﻤﺎﻡ ﻣﻈﻠﻮﻣﻮﮞ ﮐﮯ ﺣﻘﻮﻕ ﮐﯽ ﺑﺎﺯﯾﺎﺑﯽ ﻣﯿﮟ ﮐﺎﻣﯿﺎﺑﯽ ﻧﺼﯿﺐ ﮨﻮ، ﺍﻭﺭ ﻗﻮﻣﯽ ﻭﻣﻠﯽ ﺑﮩﺒﻮﺩ ﮐﯽ ﺳﻌﯽ ﭘﯿﮩﻢ ﻣﯿﮟ ﻣﺼﺮﻭﻑ ﻋﻤﻞ رہا جا سکے، ﮨﻤﺎﺭﺍ ﻣﺸﻦ ﺟﺬﺑﺎﺗﯽ ﺳﯿﺎﺳﺖ ﺳﮯ ﮨﭧ ﮐﺮ ﺍﻋﺘﺪﺍﻝ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﮐﺎﻡ ﮐﺮﻧﺎ ﮨﮯ، ﮨﻨﺪ ﻭ ﻣﺴﻠﻢ ﺍﺗﺤﺎﺩ ﻭ ﺩﻟﺖ ﻣﺴﻠﻢ ﺁﺩﯾﻮﺍﺳﯿﻮﮞ ﮐﻮ ﺳﺎﺗﮫ ﻣﻼ ﮐﺮ ﺣﻘﻮﻕ ﮐﯽ ﺑﺎﺯﯾﺎﺑﯽ ﮐﯽ ﻟﮍﺍﺋﯽ ﻟﮍﻧﯽ ﮨﮯ، ﻣﺴﻠﮑﯽ ﺗﻨﺎﺯﻋﺎﺕ ﺳﮯ ﺑﺎﻻ ﺗﺮ ﮨﻮ ﮐﺮ ﭘﻮﺭﯼ ﻣﻠﺖ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﮐﺎﻡ ﮐﺮﻧﺎ ﮨﮯ، ﻗﻮﻡ ﮐﯽ ﮔﺎﻟﯿﺎﮞ ﺳﻦ ﮐﺮ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﮐﺎﻡ ﮐﺮﻧﺎ ﮨﮯ، ﯾﮧ ﮨﻤﺎﺭﺍ ﻭﺭﺛﮧ ﮨﮯ حالات حاضرہ پر حاضرین و ارکان جماعت کو متوجہ کرتے ہوے مولانا متین الحق قاسمی نے کہا کہ ہمیں ہندو مسلم اختلاف دشمنان انسانیت کی سازشوں کا نتیجہ ہے ہمیں ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے امت کے نوجوان اپنی ذمہ داریوں کو محسوس کریں اور انکی تکمیل کے لئے سنجیدہ ہو جاییں بولے ہمارا آپسی ربط ختم سا ہوتا جا رہا ہے جو قوم کی فلاح بہبودی میں رکاوٹ بن رہا ہے مولانا نے کہا کہ تمام مسائل کا حل دعوت دین ہے.
مولانا متین الحق اسامہ کے علاوہ صدر مدرسین و ناظم تعلیمات مدرسہ جامعیہ اسلامیہ عربیہ جامع مسجد امروہہ معروف علم دین مفتی سید محمد عفان منصور پوری نے بھی جماعت کے انتخابی اجلاس کو خطاب کیا اپنے تفصیلی خطاب کے دوران مفتی محمد عفان منصور پوری نے جمعیتہ علماء ہند کی تاریخ و حالات حاضرہ پر حاضرین کو متوجہ کرتے ہوے کہا کہ جاری اجلاس ایسے وقت میں منعقد ہو رہا ہے جب کہ مسلمانان ہند تاریخ کے نازک ترین دور سے گزر رہے ہیں اگر عالمی صورت حال کا جائزہ لیا جائے تو فلوقت برما کے روہنگیا مسلمان آگ و خوں کے سمندر میں غوطہ زن ہیں ظالموں نے مظلومین کے  حقوق کی پامالی کے سابقہ تمام ریکارڈوں کو منہدم کر دیا ہے جمعیتہ علماء ہند نے ہمیشہ مظلومین کی حمایت کا کام کیا ہے اور آج بھی جماعت برما کے روہنگیا مظلومین کی لڑائی لڑ رہی ہے عرب اور خلیجی ممالک کی خلیج اب بھی  کم نہیں ہو رہی ہے ملّت میں ہر سطح پر اتحاد کا فقدان نظر آرہا ہے جسکا خمیازہ مسلمانوں کو بھگتنا پڑ رہا ہے ملک عزیز کے موجودہ حالات بھی اب تیزی کے ساتھ تبدیل ہو رہے ہیں فرقہ پرستی کا ناگ پھن پھیلاۓ ہوے ہے جانور (گاۓ) کے تحفظ کے نام پر بے گناہ انسانوں کو دردناک طریقے سے موت کے گھاٹ اتار دیا جاتا ہے موجودہ حکومت کے عوام مخالف فیصلوں سے ملک کی معیشت تباہی کے دہانے پر ہے اور حکومتیں اپنی اصل ذمہ داریوں سے بے توجہی کا مظاہرہ کرتے ہوے مدارس اسلامیہ کے کردار کو مشقوق بنانے میں سرگرم ہیں حکمران صرف مذمت تک محدود رہ گیے ہیں موجودہ حالات میں ایک محب وطن شہری ہونے و محافظ وطن جماعت کا سپاہی ہونے کی حیثیت سے ہماری ذمہ داریاں بہت بڑھ گئی ہیں مفتی سید محمد عفان منصور پوری نے مزید کہا کہ ملک سے محبت کا تقاضہ یہ ہے کہ ہم اس ملک کی  سالمیت اور قانون کے تحفظ اور اسکے نفاز کے لئے ہر سطح پر کوشاں رہیں یہ صرف مسلمانوں کی ہی نہیں بلک تمام ہندوستانیوں کی ذمہ داری ہے برادری علاقہ اور زبان کی حدود سے باہر نکل کر اس صورت حال کو بدلنے کے لئے آگے آنا ہوگا.
بولے موجودہ حالات کو بدلنے کی بڑی ذمہ داری ملک کی دوسری بڑی اکثریت پر عائد ہوتی ہے کیونکہ مسلمانوں کے پاس وہ اعلیٰ اخلاقی اقدار ہیں جو کسی دوسری قوم کے پاس نہیں ہیں حالات کو بدلنے کے لئے ہمیں اپنی جد و جہد کو جاری رکھنا ہوگا اور آپسی اتحاد و اتفاق کو فروغ دینا ہوگا اعمال کی درستگی ضروری ہے غیر ضروری جوش سے گریز کرتے ہوے تحمل و برداشت کا مظاہرہ کیا جائے لیکن تمام تر  باوجود بھی ظالموں کے تشدد میں کمی نہیں آے تو اقدامی طور پر نہیں بلکہ دفاعی طور پر اپنے جاں و مال عزت و آبرو کے تحفظ کے لئے ہر ممکن کوشش کی جائے یہ ہمارا دستوری اور قانونی حق بھی ہے مفتی سید محمد عفان منصور پوری نے مزید کہا کہ اس سلسلہ میں دنیا کی محبت اور خوف سے اوپر اٹھ کر کام کرنے کی ضرورت ہے ضرورت اس بات کی ہے کہ اخلاص کے رشتہ کو مظبوط کیا جائے بزرگوں کی ہدایات و تعلیمات کی روشنی میں اپنی فلاف بہبودی کے اقدام کئے جائیں حالات حاضرہ کے مدنظر اپنے مسلکی و فروعی کو بھلا کر عملی میدان عمل میں اترنا ہوگا ضرورت اس بات کی بھی ہے کہ اسلام کی صحیح اور سچی تعلیم دیگر مذاہب کے پیروکاروں تک پہنچانے کی ذمہ داری کو بخوبی انجام دیا جائے.
اس موقع پر نائب مہتمم مدرسہ جامعیہ اسلامیہ  مسجد امروہہ مولانا محمد اسمعیل صدر جمعیتہ علماء ضلع امروہہ مفتی عبد الرحمان قاسمی مفتی  ریاست علی قاسمی ڈاکٹر سراج الدین ہاشمی مولانا مودود مدنی محمد یوسف میرٹھ حافظ محمد فرمان نوگاوں مولانا مسود الرحمان رام پور مولانا شکیل احمد قاری معراج مولانا ارشاد مفتی محمد شاہد مولانا امین الدین مفتی منصف ماسٹر ذاکر حسین مولانا دلدار حسین محمد حنیف مولانا امجد علی عادل رشید انصاری صوفی نعیم احمد ڈاکٹر سراج الدین ہاشمی معظم خان شہاب رضوی ایڈوکیٹ قاری عظیم مفتی عبد الکلام محمد مسلم وغیرہ کے علاوہ مغربی اتر پردیش کے تمام اضلا ع کے تمام ارکان جماعت موجود رہے اجلاس کی صدارت مولانا مفتی محمد ظہورنے  کی نظامت کے فرائض قاری محمد یامین نے انجام دئے.
 مولانا محمد عاقل صدر مغربی اتر پردیش منتخب،  چار نائب صدر و خازن کا بھی انتخاب ہوا.
جمعیتہ علماء ہند مغربی اتر پردیش کا انتخابی عمل بیحد نظم و نسق کے ساتھ امروہہ کی قدیمی عصری تعلیمی درس گاہ عبد الکریم خان انٹر کالج میں زیر نگرانی ناظم تعلیمات مدرسہ شاہی مرادآباد معروف عالم دین مفتی سید محمد سلمان منصور پوری کے مکمل ہوا صدارت سمیت تمام ہی عھدوں پر فیصلہ اتفاق راۓ سے ہوا نگراں علماء کرام کے اعلان کردہ نتائج کے مطابق مغربی اتر پردیش جمعیتہ علماء ہند کے صدر مولانا محمد عاقل مہتمم مدرسہ  بدرالعلوم گڑھی دولت شاملی منتخب ہوے انکے مقابلہ پر سابق صدر سمیت تمام ہی لوگوں نے اپنے نام واپس لیتے ہوے انتخاب کو بلا مقابلہ بنا دیا صدارتی عھدہ کے علاوہ نیابت صدارت کے لئے مفتی محمد زاھد استاد جامع مسجد امروہہ، مفتی عبد الصمد مظفر نگر، مولانا امیر عالم میرٹھ، مفتی اویس اکرم بجنور کو منتخب کیا گیا اور خازن مولانا محمد شاھد سہارنپور منتخب ہوئے
انتخابی نتائج کے بعد مفتی محمف سلمان منصور پوری نے منتخب حضرات کو مبارک باد پیش کرتے ہوے یقین کا اظہار کیا کہ ارکان جماعت کے ذریعے جن اغراض و مقاصد کے ساتھ نیے ممبران کا انتخاب کیا گیا وہ تمام ہی اپنی اپنی ذمہ داریوں کو بخوبی محسوس کرینگے اور جماعت کو مزید فعال بنانے میں اپنا سرگرم کردار ادا کرینگے آخر میں مفتی سید محمد سلمان منصور پوری کی دعا پر جلسہ کا اختتام ہوا.