رپورٹ: یاسین صدیقی قاسمی
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
لونی/غازی آباد(آئی این اے نیوز 09/اکتوبر 2017) گزشتہ چند دنوں پہلے جمعیة علماء ھند شہر لونی کی جانب سے حضرت مولانا مفتی فہیم الدین رحمانی کی قیادت میں بہار سیلاب متاثرین کی ریلیف کے لئے ایک ٹیم بھیجی گئی تھی، واپسی پر حضرت مولانا مفتی فہیم الدین رحمانی صاحب آئی ای اے نیوز نمائندہ سے گفتگو کے بیچ وہاں کی صورت حال اور روداد سناتے ہوئے کہا کہ جب ہم صوبہ بہار کے ارریہ ضلع میں پہنچے تو وہاں پہلے سے موجود مولانا امتیاز صاحب ارریاوی اور ان کے ساتھیوں نے ہمارا پر زور استقبال کیا اور ہماری خدمت میں جٹ گئے نزدیک ریلوے اسٹیشن سے باہر مسافر خانہ میں مغرب کی نماز ادا کی اور اس کے بعد وہاں سے زیرو مائل گئے اور شہر کے شملہ ریسٹورینٹ میں رات کا قیام رہا رات بھر آرام کیا پھر فجر وہاں سے متاثرہ علاقوں کا بذریعہ موٹر سائیکل دورہ کیا، اور ان لوگوں کو امداد کی رقم دی، اس سلسلہ میں ہم سب سے پہلے ارریہ ضلع کی کھریہ بستی میں پہنچے جو کہ ساحلِ ندی بسی ہوئی تھی، جب ہماری نظر اس بستی پر پڑی تو اس کی حالت بد سے بدتر تھی، وہاں کے لوگوں کو اللہ تعالی نے کرشماتی طور پر بچا لیا تھا، ورنہ وہاں پانی کا طوفانی قہر اس قدر تھا کہ پانی کا چڑھاؤ تقریباً دس سے بارہ فٹ تھا، وہاں کے باشندگان تین دن تک بھوکے پیاسے روتے بلکتے پل کے اوپر گزار دیئے، ان لوگوں جانی مالی کافی نقصان تھا، اور ان علاقوں میں آج تک ہماری جمعیت کے علاوہ اور کوئی امدادی ریلیف کو نہیں پہنچا، ہم لوگوں نے ان کو امداد کی رقم دی اور ساتھ ساتھ ان لوگوں کو تسلی دی اور حوصلہ افزائی بھی کی۔ اس کے بعد وہاں سے دیگر گاؤں کے لئے پیادہ اور سواری کے ذریعہ روانہ ہوئے جن میں صمدا، بلوا، گرگڈی، میساکول، گرمی، خواست پور، بانسباڑی، ڈھمیلی، بسنتپور، جھوا، رام پور، فرسازانگی اور آخر میں ہم سبھی حضرات بذریعہ نائو جھمٹا گھاٹ پار کیا جوکہ سمندر کی شکل اختیار کئے ہوئے تھا، اور اس پار جانے کے لئے لوگوں کا ایک جم غفیر رہتا تھا.
المختصر: ان علاقوں میں کوئی بھی مدد کو نہیں پہنچا جہاں ہم لوگ پہنچے اور ان لوگوں کا جس قدر جانی اور مالی نقصان تھا، اس لحاظ سے ان لوگوں کی جتنی مدد کی جائے اتنی ہی کم ہے، آخر میں ان تمام ساتھیوں جناب قاری عبد الجبار صاحب، بھائی اکرام الدین صاحب بھائی جان محمد صاحب اور خاص طور پر مولانا امتیاز صاحب کا جنہوں نے اپنی گاڑیوں کا ریل بنا رکھا تھا تہ دل سے شکریہ ادا کیا اور چلتے ہوئے میں نے ان لوگوں سے کہا کہ:
ـــــــــــعــــــــــ
نہ کر تقدیر کا شکوہ مقدر آزماتا جا
ملیں گی منزلیں قدم آگے بڑھاتا جا