اتحاد نیوز اعظم گڑھ INA NEWS: کسی بھی مسلم تنظیموں کا طاہر کے معاملہ میں مداخلت نہ کرنا افسوسناک!

اشتہار، خبریں اور مضامین شائع کرانے کیلئے رابطہ کریں…

9936460549, 7860601011, http://www.facebook.com/inanews.in/

Monday, 11 December 2017

کسی بھی مسلم تنظیموں کا طاہر کے معاملہ میں مداخلت نہ کرنا افسوسناک!

تحریر: یاسین صدیقی قاسمی
 9557238327
ــــــــــــــــــــــــــــــ
ملک میں مسلسل بڑھتے جرائم لوٹ  گھسوٹ، مارپیٹ، بالخصوص  علماء کرام، طلبہ مدارس سے نہایت افسوسناک ہی نہیں بلکہ ملک کو تقسیم کے دہانے اور ملک کو برباد کرنے کے درپہ ہے اور موجودہ حکمراں کی ناکامی کا عکاسی کر رہا ہے گزشتہ 7 دسمبر کو ہوئے وکرم شیلا اکسپریس میں مولانا طاہر گڈاوی کے ساتھ جو حادثہ ہوا وہ کوئی معمولی حادثہ نہیں ہے، کیونکہ راقم الحروف نے بچشم خود دیکھا ہم دونوں ایک ہی سیٹ پر سفر کررہے تھے، جب وہ لوگ مارپیٹ کرکے اتر گئے تو کچھ دیر بعد ہی میں نے کچھ ذمہ داروں سے رابطہ کیا تو انہوں نے ملک کی فعال و متحرک تنظیم جمعیتہ
علماءہند ضلع بھاگلپور کے ناظم صاحب کا نمبر دیا اور ان سے رابطہ کرنے کو کہا، جب احقر نے ان سے رابطہ کیا اور انہیں حالات سے آگاہ کیا تو جوابا انہوں نے کہاکہ آپ کیا کریں گے میں نے کہا کہ حضرت بھاگلپور پہونچ کر ہمیں ان کے خلاف رپورٹ درج کروانی ہیں تاکہ دیگر طلبہ مدارس یا ٹوپی ڈاڑھی والوں پر ہی نہیں بلکہ دیگر برادران وطن خواہ  کسی بھی مذہب کے ماننے والے  ہون ان پر دوبارہ حملہ کی جسارت نہ ہو، تو مولانا موصوف نے بے ساختہ کہا کہ رپورٹ درج کرانے سے کوئی فائدہ نہیں، تھوڑی دیر کیلئے میں سکتہ میں آگیا اور ہمت پست ہوگئی لیکن دل نے گوارا نہیں کیا اور اندر سے یہ آواز آئی کہ اگر تم ظلم سہ لیتے ہو تو پھر کل بھی تمہیں دبانے کی کوشش کی جائے گی اور اس طرح ملک میں رہنا اور اپنے حقوق  سے  بھی ہاتھ دھونا پڑے گا، بہر حال اتنا سنتے ہی میں نے فون کاٹ دیا اور کسی طرح بھاگلپور پہونچ کر جی آر پی تھانہ پہونچ گئے ابھی اس سلسلے میں ہماری ان سے بحث ہورہی تھی کہ مقامی صحافیوں(اردو  پریس کلب کے ذمہ  داروں) کا  فون آیا اور آنا فانا وہ لوگ وہاں حاضر ہوگئے جب انہوں نے مداخلت کی تو ایف آئی آر درج کرلیاگیا اور ملزمیں کے خلاف کاروائی کرانے کی یقین دہانی بھی کرائی لیکن افسوس اس بات پر ہیکہ ملک  کے کسی بھی مسلم تنظیموں  کے ذمہ داروں نے ابتک رابطہ کرنے اور حالات کو جاننے کی کوشش نہیں کی جو نہایت افسوسناک ہے کیا صرف بڑے بڑے جلسے جلوس کرکے اور بھیڑ دکھاکر مسلم قوم کے ٹھیکیدار بن رہے ہیں یا قوم وملت کودھوکہ دے رہے ہیں جب ہم نے ان سب خبروں کو شوشل میڈیا کے ذریعہ تمام مسلم تنظیموں کے کانوں تک یہ آواز پہونچادی تو پھر بیدار مغزی کا ثبوت کیوں نہیں دیا؟ آخر مقامی لوگوں کو جو عہدہ دیاگیا وہ کس لئے دیا صرف خوشحالی /مفادپرستی کیلئے یا امت کے بالخصوص امت مسلمہ کے ساتھ اگر کوئ ناگفتہ حالات آتے ہیں تو ان سے نمٹنے کیلئے اور جم کر مقابلہ کرنے کیلئے دیاگیا تو پھر ایساکیوں نہیں ہوا اسلئے میں اپنے اس مضمون کے ذریعہ ملک کی تمام مسلم تنظیموں  سےاپیل کرتاہوںکہ خدارا اس معاملہ میں مداخلت کریں اور اس مظلوم بھائی کی مدد کیلئے آگے آئیں تاکہ معاملہ آگے تک جائے اور مجرمین کو ہندوستان کے آئین کے مطابق سزا ملے.