از: عبیدالرحمن الحسینی
رکن حافظ شجاعت فیض عام چیریٹیبل ٹرسٹ آنند نگر مہراج گنج یوپی انڈیا
ــــــــــــــــــــــــــــــ
آج دنیا کے جس خطے میں دیکھئے مسلمان پریشان حال ہے ،انہیں ذلیل و رسوا کیا جا رہا ہے ،دین اسلام کی دھجیاں اڑائی جا رہی ہے ،جناب محمد صلی الله علیه وسلم کے ساتھ (نعوذبالله) تمسخر کیا جا رہا ہے ،قرآن جیسی مقدس و پاکیزه کتاب کی علی الاعلان بے حرمتی کی جا رہی ہے ،صحابہ کرام رضوان الله علیھم اجمعین کے
خلاف کتابیں لکھی جا رہی ہیں، مسلمانوں کے عائلی قوانین میں دخل اندازی کی کوشش کی جا رہی ہے، طلاق ثلاثہ کا بہانہ بنا کر یکساں سول کوڈ نافذ کرنے کی باتیں کی جا رہی ہے اور ایک طرف دہشت گردی کا الزام دے کر مسلمانوں کو سلاخوں کے پیچھے ڈھکیلا جا رہا ہے …
آخر ایسا کیوں ہو رہا ہے ؟پوری دنیا میں مسلمان کیوں مارا مارا پھر رہا ہے ؟خدا تعالی کی سرزمین اپنی تمام تر وسعت وکشادگی کے باوجود ان کے لئے کیوں تنگ ہوتی جا رہی ہے ؟ اگر ان تمام سوالوں کا جواب تلاش کیا جائے ،ایک تحقیقی جائزه لیا جائے، تو پتہ چلتا ہے کہ عالمی سطح پر مسلمانوں کی کمزوری اور ذلت و رسوائی کی اصل وجہ قرآن و سنت کی پیروی سے انحراف ہے ،تو وہیں ایک بڑا سبب آپسی اختلاف و انتشار ،آپس کے لڑائی جھگڑے ،آپسی جنگ و جدال اور اتحاد و اتفاق کا فقدان ہے …
یاد رکھئے ! کسی بھی قوم کی کامیابی و کامرانی اسکے افراد کے باہمی اتحاد و اتفاق میں مضمر ہے ،جس طرح پانی قطره قطره مل کر دریا بنتا ہے ،اسی طرح انسانوں کے متحد اور مجتمع ہونے سے ایسی اجتماعیت تشکیل پاتی ہے جس پر نگاه ڈالتے ہی دشمن وحشت زده ہو جاتا ہے اور کبھی بھی اسکی طرف میلی آنکھ سے نہیں دیکھ سکتا ،قرآن مجید نے ہمیں اپنے زمانہ نزول سے ہی یہ راز سکھا دیا تھا “تُرْهِبُوْنَ بِه عَدُوَّاللّٰهِ وَعَدُوَّكُمْ ” ترجمہ : تم اس (طاقت و صف بندی ) کے ذریعہ اپنے اور خدا کے دشمن کو خوف زده کرو …
پوری تاریخ اس بات پر شاهد ہے کہ جب تک مسلمانوں میں اتحاد و اتفاق اور اخوت و محبت کا یہ رشتہ برقرار رہا اور جب تک مسلمان قوم اتحاد و اتفاق کی لڑی میں پیوست رہی ،اس وقت تک نہ کوئی آنکھیں دکھا سکا اور نہ کوئی اس سے نظریں ملا سکا …
اسلئے ہمیں اپنے درمیان کے فروعی اختلاف کو چھوڑ کر اتحاد و اتفاق کا ایسا بندھ باندھ دینا چاہیئے جسے طوفان نوح کے مثل طاقتیں بھی نہ ہلا سکیں ورنہ اس مصرع کے مصداق بن جائیں …
“ورنہ ان بکھرے ہوئے تاروں سے کیا بات بنے
رکن حافظ شجاعت فیض عام چیریٹیبل ٹرسٹ آنند نگر مہراج گنج یوپی انڈیا
ــــــــــــــــــــــــــــــ
آج دنیا کے جس خطے میں دیکھئے مسلمان پریشان حال ہے ،انہیں ذلیل و رسوا کیا جا رہا ہے ،دین اسلام کی دھجیاں اڑائی جا رہی ہے ،جناب محمد صلی الله علیه وسلم کے ساتھ (نعوذبالله) تمسخر کیا جا رہا ہے ،قرآن جیسی مقدس و پاکیزه کتاب کی علی الاعلان بے حرمتی کی جا رہی ہے ،صحابہ کرام رضوان الله علیھم اجمعین کے
خلاف کتابیں لکھی جا رہی ہیں، مسلمانوں کے عائلی قوانین میں دخل اندازی کی کوشش کی جا رہی ہے، طلاق ثلاثہ کا بہانہ بنا کر یکساں سول کوڈ نافذ کرنے کی باتیں کی جا رہی ہے اور ایک طرف دہشت گردی کا الزام دے کر مسلمانوں کو سلاخوں کے پیچھے ڈھکیلا جا رہا ہے …
آخر ایسا کیوں ہو رہا ہے ؟پوری دنیا میں مسلمان کیوں مارا مارا پھر رہا ہے ؟خدا تعالی کی سرزمین اپنی تمام تر وسعت وکشادگی کے باوجود ان کے لئے کیوں تنگ ہوتی جا رہی ہے ؟ اگر ان تمام سوالوں کا جواب تلاش کیا جائے ،ایک تحقیقی جائزه لیا جائے، تو پتہ چلتا ہے کہ عالمی سطح پر مسلمانوں کی کمزوری اور ذلت و رسوائی کی اصل وجہ قرآن و سنت کی پیروی سے انحراف ہے ،تو وہیں ایک بڑا سبب آپسی اختلاف و انتشار ،آپس کے لڑائی جھگڑے ،آپسی جنگ و جدال اور اتحاد و اتفاق کا فقدان ہے …
یاد رکھئے ! کسی بھی قوم کی کامیابی و کامرانی اسکے افراد کے باہمی اتحاد و اتفاق میں مضمر ہے ،جس طرح پانی قطره قطره مل کر دریا بنتا ہے ،اسی طرح انسانوں کے متحد اور مجتمع ہونے سے ایسی اجتماعیت تشکیل پاتی ہے جس پر نگاه ڈالتے ہی دشمن وحشت زده ہو جاتا ہے اور کبھی بھی اسکی طرف میلی آنکھ سے نہیں دیکھ سکتا ،قرآن مجید نے ہمیں اپنے زمانہ نزول سے ہی یہ راز سکھا دیا تھا “تُرْهِبُوْنَ بِه عَدُوَّاللّٰهِ وَعَدُوَّكُمْ ” ترجمہ : تم اس (طاقت و صف بندی ) کے ذریعہ اپنے اور خدا کے دشمن کو خوف زده کرو …
پوری تاریخ اس بات پر شاهد ہے کہ جب تک مسلمانوں میں اتحاد و اتفاق اور اخوت و محبت کا یہ رشتہ برقرار رہا اور جب تک مسلمان قوم اتحاد و اتفاق کی لڑی میں پیوست رہی ،اس وقت تک نہ کوئی آنکھیں دکھا سکا اور نہ کوئی اس سے نظریں ملا سکا …
اسلئے ہمیں اپنے درمیان کے فروعی اختلاف کو چھوڑ کر اتحاد و اتفاق کا ایسا بندھ باندھ دینا چاہیئے جسے طوفان نوح کے مثل طاقتیں بھی نہ ہلا سکیں ورنہ اس مصرع کے مصداق بن جائیں …
“ورنہ ان بکھرے ہوئے تاروں سے کیا بات بنے
