اتحاد نیوز اعظم گڑھ INA NEWS: شکیل بن حنیف پر سچے مہدی کی کوئی علامت منطبق نہیں ہوتی: مفتی اسعد قاسم سنبھلی

اشتہار، خبریں اور مضامین شائع کرانے کیلئے رابطہ کریں…

9936460549, 7860601011, http://www.facebook.com/inanews.in/

Monday, 11 December 2017

شکیل بن حنیف پر سچے مہدی کی کوئی علامت منطبق نہیں ہوتی: مفتی اسعد قاسم سنبھلی

پریس ریلیز
ـــــــــــــــــــ
جوگیشوری/ممبئی(آئی این اے نیوز 11/دسمبر2017) مرکزالمعارف ایجوکیشن اینڈ ریسرچ سینٹر، جوگیشوری ،ممبئی میں علماء کرام کے لئے ردشکیلیت کے عنوان سے ایک ورکشاپ منعقد کیا گیا، جس میں ممبئی و مضافات کے علاوہ پونہ  چینئی، اجین وغیرہ سے  تقریبا  پانچ سو علماء، ائمہ  اور ذمہ داران مدارس  نے شرکت کی، مفتی عزیز الرحمن فتحپوری کی صدارت اور  مولانا محمود خاں دریاآبادی کی نظامت میں پروگرام کی ابتداء صبح  دس بجے ہوئی، جس میں سب سے پہلے مرکزالمعارف کے طالب علم مفتی حسان جامی قاسمی نے تلاوت  اور مفتی قیام الدین قاسمی نے  نعت پیش کی۔
 مولانا دریاآبادی نے موضوع کا مختصر تعارف کراتے ہوئے کہا  کہ شکیلیت کا فتنہ دیکھتے ہی دیکھتے بڑھ گیا، جس پر امت کو متنبہ کرنا   اب وقت کی ضرورت اور علماء کی ذمہ داری ہے ابتداءً عوامی طور پر اس فتنے کے خلاف آواز نہ اٹھانے کا سبب اس کی منفی شہرت سے  بچنا تھا.
بعدہ مہمان خصوصی مفتی حذیفہ قاسمی نے مدلل و جامع گفتگو کی، جس میں ختم نبوت، نزولِ عیسی اور ظہور مہدی پر پُر مغز باتیں کہیں، جن کے بعد مہدویت اور شکیلیت کے فتنے کو سمجھنے میں آسانی ہوتی ہے۔
اس پروگرام کے  مقرر خصوصی اور اس موضوع پر مستقل کام کرنے والے مفتی اسعد قاسم سنبھلی نے تفصیل سے حضرت مہدی علیہ الرضوان کے متعلق احادیث میں وارد تفصیلات کو بیان کرتے ہوئے مہدویت و مسیحیت  کا جھوٹا دعویٰ کرنے والے شکیل بن حنیف پر تفصیلی خطاب کیا، اور تقابل کے ساتھ انہوں نے واضح کیا کہ شکیل بن حنیف پر سچے مہدی کی کوئی علامت منطبق نہیں ہوتی، اس کے تمام دعوے جھوٹے اور بے بنیاد ہیں اور وہ محض سادہ لوح مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کر رہا ہے، نہ وہ سچے مہدی کی طرح خاندان نبوت سے تعلق رکھتا ہے، نہ وہ مدینہ سے ہے، نہ اس کے ہاتھ پر عراق کے ابدال نے بیعت کی ہے، نہ اس نے قسطنطنیہ فتح کیا ہے، اور نہ ہی وہ شکل و صورت میں حدیث میں وارد علامتوں کا حامل ہے۔
مرکزالمعارف کے ڈائریکٹر مولانا محمدبرہان الدین قاسمی نے ادارے کا تعارف پیش کرتے ہوئے کہا کہ اس ادارے کا مقصد بھی  یہی ہے کہ علماء کو موجودہ حالات و رائج زبان سے  آراستہ کرکے اس قابل بناناہے کہ وہ اٹھنے والے ہر فتنے کا مقابلہ  کرسکے۔
اس موقع پر سوال و جواب کی نششت بھی ہوئی اور فتنے کے سد باب کے لئے لائحہ عمل طے کیا گیا جس میں یہ تجاویز سامنے آئیں کہ جمعہ کے بیانات میں مثبت  انداز میں مسیح و مہدی کے موضوع پر گفتگو کی جائے اور مختلف زبانوں میں موضوع سے متعلق مواد تیار کرکے عوام تک پہنچایا جائے  نیز موقع بہ موقع مختلف علاقوں میں اس عنوان کے تحت نششتوں کا انعقاد کیا جائے۔
آخر میں صدر محترم نے اپنے صدارتی خطاب میں فرمایا کہ اس طرح کے فتنوں کو کچلنے کے لئے اصل  کام ختم نبوت  ، اس کی حدود، وحی کی قطعیت اور کشف والہام کےمسئلے کو سمجھنا ہے نیز یہ بھی ہمیں سمجھنا چاہئے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی بھی ایسی مامور بہ شخصیت نہیں آئے گی جن پر ایمان لا نا ضروری ہو+ انہیں کی دعاء پر جلسے کا اختتام ہوا۔
ورکشاپ میں مفتی جسیم الدین قاسمی کی مرتب کردہ کتاب "فتنہ شکیلیت اور اسلام کا صحیح عقیدہ" مرکزالمعارف کی طرف سے ،جبکہ حضرت مولانا خالد سیف اللہ رحمانی کاکتابچہ "مسیح ومہدی" الفلاح اسلامک فاؤنڈیشن کی طرف سے تقسیم کیا  گیا۔
پروگرام کے انتظامات میں مولانا زین الدین خان قاسمی، مولانا حبیب الرحمٰن مرچنٹ، مفتی محمد جنید پالنپوری اور لطیف  الرحمٰن فلاحی  کی خصوصی شرکت رہی۔