از : مفتی محمد عظیم فیض آبادی استاذ دارالعلوم النصرہ دیوبند
9358163428
ـــــــــــــــــــــــــ
مکرمی!
اس وقت وطن عزیز جن حالات سے دوچار ہے وہ کسی بھی باشعور انسان سے پوشیدہ نہیں ہے انسانیت ہمدردی اخوت و بھائی چارے کی جگہ حیوانیت درندگی وحشت و بربریت نے لے لی ہے کبھی گائے کے نام پر، کبھی لوجہاد کے نام پر حیوانیت کا ننگا ناچ ہو رہا ہے انسان نما حیوانوں نے وحشت و بربریت کی سب حدیں پار کردی ہیں چند سال قبل دادری کے اخلاق الرحمان سے حیوانیت کا جو سلسلہ شروع ہوا تھا وہ الور کے عمر خان، پہلو خان اور حافظ جنید کے بعد اب بنگال کے ضلع مالدہ کے افرازالحق نامی ایک غریب مزدور پر پہنچا، جو اپنی غربت وبے روزگاری کے سبب راجستھان میں رہ کر مزدوری کے ذریعہ اپنے بچوں کی کفالت کر رہا تھا اور اب درندگی نے افراز الحق کو اپنا شکار بنا کر انہیں بے سہارا و یتیم کردیا.
اسی درندگی اور حیوانیت کی نظر ہوکر درجنوں خاندان لٹ گیا اس طرح گذشتہ سال بہار میں ایک درخت پر دو شخص کی لاش مار کر لٹکا دی گئی، ابھی حال ہی میں پدماوتی فلم کے احتجاج کے دوران راجستھان کے ایک قلعہ پر ایک لٹکی ہوئی لاش کے ساتھ ایک نوٹ بھی ملا کہ ہم لٹکا دیتے ہیں اس طرح نہ جانے کتنے بچے یتیم اور عورتیں بیوہ ہوگئیں اور کتنوں کے ضعیف و کمزور والدین اپنے اپنے لخت جگر کو کھو کر بے سہارا ہوگئے، یہ واردت کیوں بار بار پیش آتے ہیں کن لوگوں کے اشارے پر یہ حیوانیت ننگاناچ ہو رہا ہے اسکے پس پشت کونسی طاقتیں کار فرما ہیں، اس کے کیا مقاصد ہیں اور حکومت کیو ں خاموش ہے ایسے لوگوں کو پھانسی کے پھندے پر کیوں نہیں چڑھایا جاتا کہ اس طرح کی وحشت وبربریت بند ہو، ملکی حالات کے تناظر میں یہ سمجھنا کوئی مشکل نہیں.
ابھی چند سال پہلے تک داعش کے قتل کے واقعات اور ویڈیوز کے ذریعہ قتل کے جو دل دہلا دینے والے مناظر دیکھنے میں آتے تھے اب وہی حالات واقعات اور اسی طرح کے وحشت و بربریت کے مناظر ہمارے وطن عزیز کے داعش (آریس یس ،بجرنگ دل، وشو ہندو پریسد ) انجام دے رہے ہیں اس وطن عزیز میں گئو رکچھا اور لو جہاد کے نام پر پنپنے اور پروان چڑھنے والی دہشت گردی پر اگر قدغن نہ لگی تو ملک کی جمہوریت اور اس کے تانے بانے کو بچانا دشوار ہوجائے گا.
مرکز میں بی جے پی کے سرکار آنے کے بعد سے ایک دو نہیں بلکہ سیکڑوں واقعات اس طرح کی درندگی و بربریت کے وجود میں آچکے ہیں اقلیتوں کی جان مال، عزت آبروں غیر محفوظ ہوتی جارہی ہیں
یہ سلسلہ ہر روز نئی نئی شکل میں پیش آتا ہے، ابھی گزشتہ کل علی گڑھ کے جناری قصبہ میں ایک مسجد کے امام کو اسکے کمرے کی کھڑی سے پٹرول ڈال کر زندہ جلانے کی کوشش کی گئی.
بی جے پی کی سرکار آتے سے ہر روز ایک نہ ایک دہشت گردی کا واقعہ پیش آتا ہے کبھی گائے کے نام پر تو کبھی وندے ماترم کو لےکر تو کبھی لو جہاد کے نام پر کبھی آریس یس کے ذریعہ دہشت گردی تو کبھی کرنی سینا، کہیں وشو ہندو پریسد کی دہشت و درندگی تو کہیں بجرنگ دل، اور حکومت و انتظامیہ خاموش ہے.
دراصل بی جے پی دھوکہ و فریب کذب بیانی، جملے بازی کے ذریعہ عوام کو سبز باغ دکھا کر اقتدار کی کرسی تک جتنی آسانی سے پہنچی ہے اور اب تک اپنے ہر اقدام اور حکومتی سطح پر ہر میدان میں ناکام ثابت ہو رہی ہے کہیں عوامی سطح پر جواب دہی سے بچنے کے لئے عوام کے خیالات و ذہن کو ترقی و وکاس کے اصل مدعے سے بھٹکانے کے لئے اس طرح کےدہشت گردانہ واردات کسی منصوبہ بند سازش کے تحت تو انجام نہیں دیئے جارہے ہیں ؟
ملک کی سلامتی کے لئے جس طرح سیمی پر پابندی عائد کی گئی ہے اسی طرح ملک کی سلا متی اور جمہوریت کی حفاظت کےلئے اگر آر یس ایس، بجرنگ دل اور وشو ہندو پریسد پر پابندی عائد نہ کی گئی تو ملک کو آگ لگنے اور اس آگ کے شعلے میں ہندو مسلم ایکتا اخوت و بھائی چارگی کو بھسم ہونے میں وقت نہیں لگے گا اس لئے حکومت سے درخواست ہے کہ کہ خدارا محض اپنی سیاسی روٹی سینکنے کے لئے انگریزو کی پالیسی" لڑاؤ اور حکومت کرو "پر عمل کر کےاقلیتوں کے دین و مذہب اور ہندوستان کی گنگا جمنی تہذیب سے کھیلواڑ نہ کیجئے اور نفرتوں کی دکان بند کرکے اخوت و محبت کا سودا بیچئے ہندوستان پھر سے سونے کی چڑیا بن جائے گا
ان شاءاللہ ........
9358163428
ـــــــــــــــــــــــــ
مکرمی!
اس وقت وطن عزیز جن حالات سے دوچار ہے وہ کسی بھی باشعور انسان سے پوشیدہ نہیں ہے انسانیت ہمدردی اخوت و بھائی چارے کی جگہ حیوانیت درندگی وحشت و بربریت نے لے لی ہے کبھی گائے کے نام پر، کبھی لوجہاد کے نام پر حیوانیت کا ننگا ناچ ہو رہا ہے انسان نما حیوانوں نے وحشت و بربریت کی سب حدیں پار کردی ہیں چند سال قبل دادری کے اخلاق الرحمان سے حیوانیت کا جو سلسلہ شروع ہوا تھا وہ الور کے عمر خان، پہلو خان اور حافظ جنید کے بعد اب بنگال کے ضلع مالدہ کے افرازالحق نامی ایک غریب مزدور پر پہنچا، جو اپنی غربت وبے روزگاری کے سبب راجستھان میں رہ کر مزدوری کے ذریعہ اپنے بچوں کی کفالت کر رہا تھا اور اب درندگی نے افراز الحق کو اپنا شکار بنا کر انہیں بے سہارا و یتیم کردیا.
اسی درندگی اور حیوانیت کی نظر ہوکر درجنوں خاندان لٹ گیا اس طرح گذشتہ سال بہار میں ایک درخت پر دو شخص کی لاش مار کر لٹکا دی گئی، ابھی حال ہی میں پدماوتی فلم کے احتجاج کے دوران راجستھان کے ایک قلعہ پر ایک لٹکی ہوئی لاش کے ساتھ ایک نوٹ بھی ملا کہ ہم لٹکا دیتے ہیں اس طرح نہ جانے کتنے بچے یتیم اور عورتیں بیوہ ہوگئیں اور کتنوں کے ضعیف و کمزور والدین اپنے اپنے لخت جگر کو کھو کر بے سہارا ہوگئے، یہ واردت کیوں بار بار پیش آتے ہیں کن لوگوں کے اشارے پر یہ حیوانیت ننگاناچ ہو رہا ہے اسکے پس پشت کونسی طاقتیں کار فرما ہیں، اس کے کیا مقاصد ہیں اور حکومت کیو ں خاموش ہے ایسے لوگوں کو پھانسی کے پھندے پر کیوں نہیں چڑھایا جاتا کہ اس طرح کی وحشت وبربریت بند ہو، ملکی حالات کے تناظر میں یہ سمجھنا کوئی مشکل نہیں.
ابھی چند سال پہلے تک داعش کے قتل کے واقعات اور ویڈیوز کے ذریعہ قتل کے جو دل دہلا دینے والے مناظر دیکھنے میں آتے تھے اب وہی حالات واقعات اور اسی طرح کے وحشت و بربریت کے مناظر ہمارے وطن عزیز کے داعش (آریس یس ،بجرنگ دل، وشو ہندو پریسد ) انجام دے رہے ہیں اس وطن عزیز میں گئو رکچھا اور لو جہاد کے نام پر پنپنے اور پروان چڑھنے والی دہشت گردی پر اگر قدغن نہ لگی تو ملک کی جمہوریت اور اس کے تانے بانے کو بچانا دشوار ہوجائے گا.
مرکز میں بی جے پی کے سرکار آنے کے بعد سے ایک دو نہیں بلکہ سیکڑوں واقعات اس طرح کی درندگی و بربریت کے وجود میں آچکے ہیں اقلیتوں کی جان مال، عزت آبروں غیر محفوظ ہوتی جارہی ہیں
یہ سلسلہ ہر روز نئی نئی شکل میں پیش آتا ہے، ابھی گزشتہ کل علی گڑھ کے جناری قصبہ میں ایک مسجد کے امام کو اسکے کمرے کی کھڑی سے پٹرول ڈال کر زندہ جلانے کی کوشش کی گئی.
بی جے پی کی سرکار آتے سے ہر روز ایک نہ ایک دہشت گردی کا واقعہ پیش آتا ہے کبھی گائے کے نام پر تو کبھی وندے ماترم کو لےکر تو کبھی لو جہاد کے نام پر کبھی آریس یس کے ذریعہ دہشت گردی تو کبھی کرنی سینا، کہیں وشو ہندو پریسد کی دہشت و درندگی تو کہیں بجرنگ دل، اور حکومت و انتظامیہ خاموش ہے.
دراصل بی جے پی دھوکہ و فریب کذب بیانی، جملے بازی کے ذریعہ عوام کو سبز باغ دکھا کر اقتدار کی کرسی تک جتنی آسانی سے پہنچی ہے اور اب تک اپنے ہر اقدام اور حکومتی سطح پر ہر میدان میں ناکام ثابت ہو رہی ہے کہیں عوامی سطح پر جواب دہی سے بچنے کے لئے عوام کے خیالات و ذہن کو ترقی و وکاس کے اصل مدعے سے بھٹکانے کے لئے اس طرح کےدہشت گردانہ واردات کسی منصوبہ بند سازش کے تحت تو انجام نہیں دیئے جارہے ہیں ؟
ملک کی سلامتی کے لئے جس طرح سیمی پر پابندی عائد کی گئی ہے اسی طرح ملک کی سلا متی اور جمہوریت کی حفاظت کےلئے اگر آر یس ایس، بجرنگ دل اور وشو ہندو پریسد پر پابندی عائد نہ کی گئی تو ملک کو آگ لگنے اور اس آگ کے شعلے میں ہندو مسلم ایکتا اخوت و بھائی چارگی کو بھسم ہونے میں وقت نہیں لگے گا اس لئے حکومت سے درخواست ہے کہ کہ خدارا محض اپنی سیاسی روٹی سینکنے کے لئے انگریزو کی پالیسی" لڑاؤ اور حکومت کرو "پر عمل کر کےاقلیتوں کے دین و مذہب اور ہندوستان کی گنگا جمنی تہذیب سے کھیلواڑ نہ کیجئے اور نفرتوں کی دکان بند کرکے اخوت و محبت کا سودا بیچئے ہندوستان پھر سے سونے کی چڑیا بن جائے گا
ان شاءاللہ ........
