تحریر: فضل الرحمان قاسمی الہ آبادی
ــــــــــــــــــ
مذھب اسلام میں علم کی اہمیت کااندازہ اسی بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ اللہ نے قرآن میں پہلی آیت کریمہ علم کے متعلق نازل فرمائی، اور محبوب نبی کو پڑھنے کا حکم دیا، اصل علم تعبیر کے لائق تو دینی علوم ھیں، اور عصری علوم پر مجازا علم کا اطلاق کردیاجاتا ہے، یوں تو اسلام میں علم کی اہمیت وافادیت پر روشنی ڈالی گئی ہے، اور اس پر ابھارا گیا، لیکن ھندوستان کے مسلمانوں کی علم کے میدان میں شراکت داری نہ کے برابر ھے، سچر کمیٹی رپورٹ کے مطابق مسلمانوں کی حالت دلتوں سے بدتر ہوچکی ہے.
رپورٹ کے مطابق مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد تقریبا 40%مسلم سماج میں ایسے لوگ ھیں جوتعلیم سے محروم ھیں، کچھ تواسکول کامنہ نہیں دیکھا، غریبی اور مفلسی کی وجہ سے والدین نے تعلیم کی سہولت فراھم کرنے سے عاجز وقاصر ھیں، یوں تو ھندوستان میں بیشمار مدارس ہیں، لیکن سچر کمیٹی رپورٹ کے مطابق محض ۳فیصد لوگ مدارس اسلامیہ میں تعلیم حاصل کرتے ھیں، بڑا سوال یھی ھے کہ مسلمانوں کی اتنی بڑی تعداد تعلیم سے دور ہے، آخر اس کا ذمہ دار کون؟ آخر مسلمانوں میں تعلیمی بیداری کیوں نہیں؟ الحمدللہ ہندوستان میں تو جتنے مسلم مسائل نھیں اس سے کہیں زیادہ مسلم تنظیمیں جو خود کو قوم کاسب سے ہمدرد تصور کرتی ہیں، ذراذراسی بات پر قوم کی لڑائی کے نام پر ایک نئی تنظیم قائم ہوجاتی ہے، کیا ان تنظیموں نے بھی مسلم سماج میں تعلیمی میدان میں بیداری لانے کی کوشش کی، الحمدللہ مسلم قوم کی مفاد کے لئے بڑی بڑی کانفرنس کا انعقاد یہ تنظیمیں کرتی ہیں، کروڑوں کی تعداد میں روپیہ خرچ ہوتا ہے، رہی بات حکومت کی طرف سے تعلیم کے لئے پسماندہ طبقات کے سہولت کے لئے تو آپ کو بتادیں حکومت کی طرف سے ایسی بہت سی اسکیمیں ہوتی ہیں جن سے ہمارا مسلم سماج نا آشنا ہوتا ہے، ان سے فائدہ اٹھانے سے محروم ہوتا ہے، موجودہ حالات میں قوم کا تعلیم یافتہ ہونا انتہائی ضروری ہے، اگر مسلم قوم کے رہنما ستر سال کے طویل مدت میں تعلیمی بیداری پیدا کئے ہوتے اور مسلمان تعلیم یافتہ ہوتا، اور سرکاری عھدوں پر فائز ہوتا تو ہمارے یہ حالت نہ ہوتے، لکھنو اور دھلی میں لمبی بھیڑ اکٹھا کرلینا یہ مسئلہ کا حل نہیں، کل تک تو بھیڑ دیکھ کر ہمارے مسائل حل کردئے جاتے تھے، لیکن اب وہ بھیڑ بھی اثر انداز نہیں، مسلمان جب تعلیم کے میدان میں آگے نہیں آئے گا حکومت کے افسران کے عہدوں پر فائز نہیں ہوگا تب تک قوم کی حالت بدتر ہوتی جائے گی، افسوس کی بات توتب ہوتی ہے جو مسلمان تعلیم یافتہ ہیں اونچے عہدوں پر فائز ہیں ان میں سے اکثریت نام کے مسلمان ہیں شریعت اسلامیہ پر تنقید کرنے سے کوئی کسر نہیں چھوڑتے، مسلم قوم کو ایسے تعلیم یافتہ افراد کی ضرورت ہے، جو تعلیم کے ساتھ ساتھ ان کا ذہن اسلامی ہو، شریعت محمدیہ سے محبت ہو، افسوس ہوتا ہے مسلم قوم پر کہ ان کا کوئی اسلامی کالج نہیں، جہاں دور حاضر کے تقاضوں کو شریعت کے مدنظر حاصل کیاجائے، آج کل کے کاونٹ اسکول تو مسلمان بچوں کو اسلام سے دور کررہے ییں، اسلام تشخصات انہیں معیوب نظر آتا ہے، دور حاضر میں اسلامی اسکولوں کا قیام انتہائی ضروری ہے.
قوم سے اور ملت کی ہمدرد مسلم تنظیموں کے ذمہ داروں سے عاجزانہ درخواست ہے، اس سلسلہ میں بھی پوری بیدار مغزی سے کوئی کام ہو، اور مشاعروں کے نام پر بڑی بڑی رقمیں بہانے سے میری قوم گریز کرے، اور غریب و نادار لوگوں کی تعلیم کا انتظام کریں، ورنہ یہ حالات ہماری خطاؤں کا ہی بدلہ ہیں، اگر ہم نے بھی اسی غلطی کو دہرائی تو ہماری آئندہ نسل اس سے کہیں بدتر حالات میں ہوگی، اللہ ہمیں سمجھ دے، آمیـــــن
ــــــــــــــــــ
مذھب اسلام میں علم کی اہمیت کااندازہ اسی بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ اللہ نے قرآن میں پہلی آیت کریمہ علم کے متعلق نازل فرمائی، اور محبوب نبی کو پڑھنے کا حکم دیا، اصل علم تعبیر کے لائق تو دینی علوم ھیں، اور عصری علوم پر مجازا علم کا اطلاق کردیاجاتا ہے، یوں تو اسلام میں علم کی اہمیت وافادیت پر روشنی ڈالی گئی ہے، اور اس پر ابھارا گیا، لیکن ھندوستان کے مسلمانوں کی علم کے میدان میں شراکت داری نہ کے برابر ھے، سچر کمیٹی رپورٹ کے مطابق مسلمانوں کی حالت دلتوں سے بدتر ہوچکی ہے.
رپورٹ کے مطابق مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد تقریبا 40%مسلم سماج میں ایسے لوگ ھیں جوتعلیم سے محروم ھیں، کچھ تواسکول کامنہ نہیں دیکھا، غریبی اور مفلسی کی وجہ سے والدین نے تعلیم کی سہولت فراھم کرنے سے عاجز وقاصر ھیں، یوں تو ھندوستان میں بیشمار مدارس ہیں، لیکن سچر کمیٹی رپورٹ کے مطابق محض ۳فیصد لوگ مدارس اسلامیہ میں تعلیم حاصل کرتے ھیں، بڑا سوال یھی ھے کہ مسلمانوں کی اتنی بڑی تعداد تعلیم سے دور ہے، آخر اس کا ذمہ دار کون؟ آخر مسلمانوں میں تعلیمی بیداری کیوں نہیں؟ الحمدللہ ہندوستان میں تو جتنے مسلم مسائل نھیں اس سے کہیں زیادہ مسلم تنظیمیں جو خود کو قوم کاسب سے ہمدرد تصور کرتی ہیں، ذراذراسی بات پر قوم کی لڑائی کے نام پر ایک نئی تنظیم قائم ہوجاتی ہے، کیا ان تنظیموں نے بھی مسلم سماج میں تعلیمی میدان میں بیداری لانے کی کوشش کی، الحمدللہ مسلم قوم کی مفاد کے لئے بڑی بڑی کانفرنس کا انعقاد یہ تنظیمیں کرتی ہیں، کروڑوں کی تعداد میں روپیہ خرچ ہوتا ہے، رہی بات حکومت کی طرف سے تعلیم کے لئے پسماندہ طبقات کے سہولت کے لئے تو آپ کو بتادیں حکومت کی طرف سے ایسی بہت سی اسکیمیں ہوتی ہیں جن سے ہمارا مسلم سماج نا آشنا ہوتا ہے، ان سے فائدہ اٹھانے سے محروم ہوتا ہے، موجودہ حالات میں قوم کا تعلیم یافتہ ہونا انتہائی ضروری ہے، اگر مسلم قوم کے رہنما ستر سال کے طویل مدت میں تعلیمی بیداری پیدا کئے ہوتے اور مسلمان تعلیم یافتہ ہوتا، اور سرکاری عھدوں پر فائز ہوتا تو ہمارے یہ حالت نہ ہوتے، لکھنو اور دھلی میں لمبی بھیڑ اکٹھا کرلینا یہ مسئلہ کا حل نہیں، کل تک تو بھیڑ دیکھ کر ہمارے مسائل حل کردئے جاتے تھے، لیکن اب وہ بھیڑ بھی اثر انداز نہیں، مسلمان جب تعلیم کے میدان میں آگے نہیں آئے گا حکومت کے افسران کے عہدوں پر فائز نہیں ہوگا تب تک قوم کی حالت بدتر ہوتی جائے گی، افسوس کی بات توتب ہوتی ہے جو مسلمان تعلیم یافتہ ہیں اونچے عہدوں پر فائز ہیں ان میں سے اکثریت نام کے مسلمان ہیں شریعت اسلامیہ پر تنقید کرنے سے کوئی کسر نہیں چھوڑتے، مسلم قوم کو ایسے تعلیم یافتہ افراد کی ضرورت ہے، جو تعلیم کے ساتھ ساتھ ان کا ذہن اسلامی ہو، شریعت محمدیہ سے محبت ہو، افسوس ہوتا ہے مسلم قوم پر کہ ان کا کوئی اسلامی کالج نہیں، جہاں دور حاضر کے تقاضوں کو شریعت کے مدنظر حاصل کیاجائے، آج کل کے کاونٹ اسکول تو مسلمان بچوں کو اسلام سے دور کررہے ییں، اسلام تشخصات انہیں معیوب نظر آتا ہے، دور حاضر میں اسلامی اسکولوں کا قیام انتہائی ضروری ہے.
قوم سے اور ملت کی ہمدرد مسلم تنظیموں کے ذمہ داروں سے عاجزانہ درخواست ہے، اس سلسلہ میں بھی پوری بیدار مغزی سے کوئی کام ہو، اور مشاعروں کے نام پر بڑی بڑی رقمیں بہانے سے میری قوم گریز کرے، اور غریب و نادار لوگوں کی تعلیم کا انتظام کریں، ورنہ یہ حالات ہماری خطاؤں کا ہی بدلہ ہیں، اگر ہم نے بھی اسی غلطی کو دہرائی تو ہماری آئندہ نسل اس سے کہیں بدتر حالات میں ہوگی، اللہ ہمیں سمجھ دے، آمیـــــن
