سرائے میر/اعظم گڑھ(آئی این اے نیوز 16/جنوری 2018) مدرسہ اسلامیہ عربیہ بیت العلوم سرائے میر اعظم گڑھ میں27جمادی الثانی 1439ھ مطابق 15جنوری 2018 بروز دوشنبہ تکمیل حفظ کی ایک مجلس بوقت صبح 10:30 بجے زیر اہتمام حضرت اقدس الحاج مولانا ومفتی شاہ محمد احمداللہ صاحب دامت برکاتہم العالیہ ناظم اعلی وشیخ الحدیث مدرسہ ھذا خلیفہ وجانشین شیخ المشائخ حضرت اقدس مولانا ومفتی شاہ محمد عبداللہ صاحب پھولپوری نوراللہ مرقدہ مسجد نذیر میں منعقد ہوئی،
آغاز مجلس میں کل 15طلبہ نے حفظ قرآن مجید کی تکمیل کی، بعدہ حضرت ناظم اعلیٰ صاحب نے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ اس پروگرام میں ایک ایسا بچہ ہے جس کے والد محترم کا حال میں انتقال ہوگیا، ان کی دلی خواہش اپنے بچے کو حفظ کرانے کی تھی جس کی وجہ سے کالج کی تعلیم ترک کراکر مدرسہ ھذا کے شعبہ حفظ میں داخلہ کرائے تھے، کاش آج وہ زندہ ہوتے اور اپنی آنکھوں سے اپنے لاڈلے کو حافظ قرآن کی صورت میں دیکھتے، اللہ تعالی مرحوم کی مغفرت فرمائے اور اس بچہ کے صدقۂ طفیل جنت الفردوس عطا فرمائے ۔آمیـــن.
حضرت ناظم صاحب نے اسی تعلق سے حضرت تھانوی رح کا قصہ نقل کرتے ہوئے فرمایا ایک گنہگار انسان تھا وہ اتفاق سے بیمار رہنے لگا اور اپنی زندگی سے نا امید ہوگیا، اس دوران اسکی بیوی حاملہ تھی تو اس نے وصیت کیا کہ اس بچہ کے پیدا ہونے کے بعد اس کو دینی مدرسہ میں تعلیم دینا، چنانچہ پیدائش کے بعد اتفاق سے لڑکا پیدا ہوا اور اس کے بڑے ہونے پر وصیت کے مطابق مدرسہ میں حافظ صاحب کے حوالے کردیا، جب استاذ نے بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھایا تو بچہ کے زبان سے جیسے الرحمن الرحیم لفظ جاری ہوا فورا اللہ کی رحمت جوش میں آئی اور اس بچہ کے والد محترم کے اوپر سے عذاب ہٹا دیا گیا، حفظ قرآن بہت بڑی دولت ہے ان بچوں کے اعزاز میں کمی نہیں ہونی چاہیے ان کو اچھے القاب سے پکارا جائے، بچوں کو تاکید کی جائے کہ غلط صحبت اور غلط مجلسوں سے پرہیز کریں اللہ کا کلام سب سے بڑا ہے اور یہ کلام جس کے پاس آگیا وہ بھی بڑا ہوگیا، بچوں کی نماز کی نگرانی کی جائے اور گھر والے خود بھی شریعت کے پابند بنیں، لباس اور داڑھی وغیرہ شرعی ہو، اس سے گھر کا ماحول بدلتا ہے، اور خیر و برکت نازل ہوتی ہے، جب گھر کا ماحول خراب ہوتا ہے تو بچے گھر جاکر اسی ماحول میں ڈھل جاتے ہیں، لوگوں کو چاہئیے کہ اپنے اعمال پر دھیان دیں اور کسی کام کے انجام دینے سے پہلے اپنے دل سے سوال کریں کہ یہ کام صحیح ہے یا غلط ؟ تو دل فوراً اچھائی اور برائی کی رہنمائی کردے گا، آج ہم سب دین سے دور ہوتے جارہے ہیں جس کی وجہ سے معاشرہ خراب ہوتا جارہا ہے، ہم اپنے بچوں کو پہلے دینی تعلیم دیں اور حفظ قرآن مجید وعالمیت کی تعلیم دیکر گھرمیں دینی ماحول پیدا کریں، آج ہماری سوچ وفکر میں دنیا رچی بسی ہے ہم عصری تعلیم کو دینی تعلیم پر فوقیت دے رہے ہیں۔جس کا نتیجہ آج ہماری نظروں کے سامنے ہے۔
آج کی اس مجلس میں عبدالرحیم ولد تبریز احمد راجہ پور سکرور، محمد سعود ولد ابوالکلام برولی، محمد عظیم ولد نسیم احمد رواں، محمد سلمان ولد محمد ساجد سرائے میر، محمد شاداب ولد محمد شاھد طوی، محمد مزمل ولد محی الدین چرواں، محمد ذیشان ولد محمد ظہیر سرائے میر، محمد سیف اللہ ولد عبدالحی عرف محمد دانش بستی، محمد عادل ولد ضمیر احمد سہجنہ، محمد یوسف ولد پرویز احمد کنورہ گہنی، محمد سیف اللہ ولد آفاق احمد سرائے میر، محمد احمد ولد محمد اکرم بیریڈیہ، محمد شہریار ولد محمد ارشد بیریڈیہ، محمد آفاق ولد آفتاب عالم پرسہا، محمد معاذ ولد ماسٹر محمد عارف صاحب مرحوم سندری، کل پندرہ طلبہ میں سے بیشتر نے 3سال میں حفظ قرآن مجید مکمل کیا۔
اس پروگرام میں ہزاروں کی تعداد میں لوگ شریک رہے، آخر میں مفتی محمد احمد اللہ صاحب پھولپوری دامت برکاتہم ناظم اعلیٰ مدرسہ ھذا کی دعا پر مجلس اختتام پذیر ہوئی۔
اس مجلس میں نائب ناظم مفتی محمد اجوداللہ صاحب پھولپوری ومولانا جمال انور صاحب قاسمی بھی شریک رہے اور قاری کلیم اللہ صاحب صدر شعبہ حفظ نے آئے ہوئے مہمانوں کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا۔
آغاز مجلس میں کل 15طلبہ نے حفظ قرآن مجید کی تکمیل کی، بعدہ حضرت ناظم اعلیٰ صاحب نے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ اس پروگرام میں ایک ایسا بچہ ہے جس کے والد محترم کا حال میں انتقال ہوگیا، ان کی دلی خواہش اپنے بچے کو حفظ کرانے کی تھی جس کی وجہ سے کالج کی تعلیم ترک کراکر مدرسہ ھذا کے شعبہ حفظ میں داخلہ کرائے تھے، کاش آج وہ زندہ ہوتے اور اپنی آنکھوں سے اپنے لاڈلے کو حافظ قرآن کی صورت میں دیکھتے، اللہ تعالی مرحوم کی مغفرت فرمائے اور اس بچہ کے صدقۂ طفیل جنت الفردوس عطا فرمائے ۔آمیـــن.
حضرت ناظم صاحب نے اسی تعلق سے حضرت تھانوی رح کا قصہ نقل کرتے ہوئے فرمایا ایک گنہگار انسان تھا وہ اتفاق سے بیمار رہنے لگا اور اپنی زندگی سے نا امید ہوگیا، اس دوران اسکی بیوی حاملہ تھی تو اس نے وصیت کیا کہ اس بچہ کے پیدا ہونے کے بعد اس کو دینی مدرسہ میں تعلیم دینا، چنانچہ پیدائش کے بعد اتفاق سے لڑکا پیدا ہوا اور اس کے بڑے ہونے پر وصیت کے مطابق مدرسہ میں حافظ صاحب کے حوالے کردیا، جب استاذ نے بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھایا تو بچہ کے زبان سے جیسے الرحمن الرحیم لفظ جاری ہوا فورا اللہ کی رحمت جوش میں آئی اور اس بچہ کے والد محترم کے اوپر سے عذاب ہٹا دیا گیا، حفظ قرآن بہت بڑی دولت ہے ان بچوں کے اعزاز میں کمی نہیں ہونی چاہیے ان کو اچھے القاب سے پکارا جائے، بچوں کو تاکید کی جائے کہ غلط صحبت اور غلط مجلسوں سے پرہیز کریں اللہ کا کلام سب سے بڑا ہے اور یہ کلام جس کے پاس آگیا وہ بھی بڑا ہوگیا، بچوں کی نماز کی نگرانی کی جائے اور گھر والے خود بھی شریعت کے پابند بنیں، لباس اور داڑھی وغیرہ شرعی ہو، اس سے گھر کا ماحول بدلتا ہے، اور خیر و برکت نازل ہوتی ہے، جب گھر کا ماحول خراب ہوتا ہے تو بچے گھر جاکر اسی ماحول میں ڈھل جاتے ہیں، لوگوں کو چاہئیے کہ اپنے اعمال پر دھیان دیں اور کسی کام کے انجام دینے سے پہلے اپنے دل سے سوال کریں کہ یہ کام صحیح ہے یا غلط ؟ تو دل فوراً اچھائی اور برائی کی رہنمائی کردے گا، آج ہم سب دین سے دور ہوتے جارہے ہیں جس کی وجہ سے معاشرہ خراب ہوتا جارہا ہے، ہم اپنے بچوں کو پہلے دینی تعلیم دیں اور حفظ قرآن مجید وعالمیت کی تعلیم دیکر گھرمیں دینی ماحول پیدا کریں، آج ہماری سوچ وفکر میں دنیا رچی بسی ہے ہم عصری تعلیم کو دینی تعلیم پر فوقیت دے رہے ہیں۔جس کا نتیجہ آج ہماری نظروں کے سامنے ہے۔
آج کی اس مجلس میں عبدالرحیم ولد تبریز احمد راجہ پور سکرور، محمد سعود ولد ابوالکلام برولی، محمد عظیم ولد نسیم احمد رواں، محمد سلمان ولد محمد ساجد سرائے میر، محمد شاداب ولد محمد شاھد طوی، محمد مزمل ولد محی الدین چرواں، محمد ذیشان ولد محمد ظہیر سرائے میر، محمد سیف اللہ ولد عبدالحی عرف محمد دانش بستی، محمد عادل ولد ضمیر احمد سہجنہ، محمد یوسف ولد پرویز احمد کنورہ گہنی، محمد سیف اللہ ولد آفاق احمد سرائے میر، محمد احمد ولد محمد اکرم بیریڈیہ، محمد شہریار ولد محمد ارشد بیریڈیہ، محمد آفاق ولد آفتاب عالم پرسہا، محمد معاذ ولد ماسٹر محمد عارف صاحب مرحوم سندری، کل پندرہ طلبہ میں سے بیشتر نے 3سال میں حفظ قرآن مجید مکمل کیا۔
اس پروگرام میں ہزاروں کی تعداد میں لوگ شریک رہے، آخر میں مفتی محمد احمد اللہ صاحب پھولپوری دامت برکاتہم ناظم اعلیٰ مدرسہ ھذا کی دعا پر مجلس اختتام پذیر ہوئی۔
اس مجلس میں نائب ناظم مفتی محمد اجوداللہ صاحب پھولپوری ومولانا جمال انور صاحب قاسمی بھی شریک رہے اور قاری کلیم اللہ صاحب صدر شعبہ حفظ نے آئے ہوئے مہمانوں کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا۔
