تحریر: مفتی فہیم الدین رحمانی چیئرمین شیخ الھند ایجوکیشنل ٹرسٹ آف انڈیا
ــــــــــــــــــــــــــــ
صنف نازک کا مسئلہ صرف نازک ہی نہیں بلکہ اس کی زلف پریشان کی طرح پیچیدہ اور پر یشان کن بھی ہے اور اگر اس صنف کو یہ بات ناگوار نہ گزرے تو قدرے جرأت کے ساتھ یے گوش گزار کر دیا جائے کہ تمام پیچیدگیوں کا مرکز بھی ہے اب آپ ہی دیکھ لیجئے کوئی بے ساختہ شاعر ہو یا بے حجاب نثر نگار جب بھی ان کے قلم کا قدم کسی کلام کے جال میں پھنستا ہے تو جھٹ سے زلف لیلیٰ سے تشبیہ دی اور دامنِ کلام کو سمیٹ کر کنارہ کش ہو گئے ہاں تو بات قضیہ صنف نازک کی چل رہی تھی کہ جتنا پیچیدہ ہے اتنا ہی کہنہ اب ظاہر سی بات ہے کہ یہ مسئلہ نازک مگر حیران و پریشان کن جب ھمارے پرکھوں کے سامنے آیا ہوگا تو اپنی انگلیوں کے ناخن اور منھ کے دانتوں کو اس کی گتھی کے سلجھا نے کےخا طر ضرور تیز کیا ہوگا اور بات بھی ایسی ہی ہے کہ ہرقوم اور ہر ملک نے عورت کے مسئلے کو سلجھا نے کےلئے کچھ نہ کچھ دانشمدوں کو ضرور لگایا ہے چاہے وہ پیشہ ور ہی دانش مند کیوں نہ ہوں مگر کامیابی کے دربارِ عالی میں بار یابی کےشرف سے ھم کنار نہ ہوسکے ۔ توپھر ایک چبھتا ہوا سوال زہریلے بچھو کی ڈنک کی طرح محور افکار کو ڈسنے لگتا ہے کہ آخر یہ مسئلہ وہیں کاوہیں کیوں رہاآیا اس کی نزاکت کو سہارا نہیں مل پارہاہے جس کے بل پریہ چل سکے یااس کی الجھی ہوئی گتھی ہی کچھ البیلی ہے اچھا جی تو چلئے بات کو آگےبڑھاتےہیں اور آپ کےذہن کے بند دروازے کو زور زور سے کھٹکھٹا تےہیں کہ اگر چاہیں تو اس معمے کو تین نظریوں میں الگ الگ تقسیم کرسکتے ہیں ذراسا جھانک کردیکھئے تھوڑاسا۔۔۔۔۔تھوڑاسا درد توآپ کوزمانہ جاہلیت نظر آئےگا جس مشہور زمانہ کے حکماء تہی ماندن دردو مرؤت نےعورت کواپنے معاشرے میں ایک ایسا مقام دیا تھا کہ اگرسچ کہ دیا جائے تو اس کی حیثیت متاع بےثمن سے زیادہ کچھ نہیں تھی عورت صرف ایک استعمال کی چیز تھی تسکینِ ہوس پرستی کا مرکز مطموح تھی نہ اس کا کوئی حق تھا نہ کچھ اختیار نہ کوئی عزت تھی نہ کوئی وقار مزید برآں وہ تھی ظلم و ستم کی شکار جن کی تفصیل اگر ہودرکار تو صفحوں کی ہوجائے گی بھر مار انسانیت شرم ساری سے ہوگی دوچار اس لئے اس سے گریزاں ہونا لابدی اور تذکرہ ہے بیکار اسی لئے اسلامی نظریے سے بہتر جوصرف خدائی قانون ہےکوئی بھی دوسرا نظریہ نہیں ہوسکتا جن کوبنانے والےوہ حضرات ہیں جنھوں نے اپنی خواہشات نفس کی تکمیل کو مدنظر رکھ کر بنایا ہے اسلام نےعورت کوعزت وبرتری کادرجہ دیا ہے اگرچہ مردوں کو ان کا حاکم اور نگہبان بنایا ہے لیکن شرف ومنزلت میں اپنی صنفِ حریف سے چنداں ہیچ نہیں کہیں ماں کی شکل میں کہیں بیٹی اور بہن کی شکل میں توکہیں بیوی کی صورت میں ہر جگہ ان کو عزت و شرف کے مسندِ عالی پربیٹھایا ہے چونکہ عورت فطری اور پیدائشی طور پر نرم و نازک اور کمزور ہو تی ہے تو دوسری طرف تولید وتربیت اولاد میں اس کا اھم کردار ہوتا ہے اس لئے شریعت الہیہ نےاس کو گھر کا حاکم بنا دیا تاکہ وہ امورِ خانہ داری کی ذمّہ داری کو سنبھالے اور مرد جو فطرتاً اس سے قوی اور مضبوط ہوتا ہے وہ کفالت اور امورِ سیاست وقیادت کی ذمّہ داری نبھائے عورت کی عزت اسی میں پنہاں ہےکہ وہ پردے کے ساتھ اپنے گھروں کو لازم پکڑے جس سے اس کی عصمت و عفت محفوظ رہے گی اور اسی بنیاد پر لوگوں کی نگاہوں میں محترم و پروقار ہوگی۔
ــــــــــــــــــــــــــــ
صنف نازک کا مسئلہ صرف نازک ہی نہیں بلکہ اس کی زلف پریشان کی طرح پیچیدہ اور پر یشان کن بھی ہے اور اگر اس صنف کو یہ بات ناگوار نہ گزرے تو قدرے جرأت کے ساتھ یے گوش گزار کر دیا جائے کہ تمام پیچیدگیوں کا مرکز بھی ہے اب آپ ہی دیکھ لیجئے کوئی بے ساختہ شاعر ہو یا بے حجاب نثر نگار جب بھی ان کے قلم کا قدم کسی کلام کے جال میں پھنستا ہے تو جھٹ سے زلف لیلیٰ سے تشبیہ دی اور دامنِ کلام کو سمیٹ کر کنارہ کش ہو گئے ہاں تو بات قضیہ صنف نازک کی چل رہی تھی کہ جتنا پیچیدہ ہے اتنا ہی کہنہ اب ظاہر سی بات ہے کہ یہ مسئلہ نازک مگر حیران و پریشان کن جب ھمارے پرکھوں کے سامنے آیا ہوگا تو اپنی انگلیوں کے ناخن اور منھ کے دانتوں کو اس کی گتھی کے سلجھا نے کےخا طر ضرور تیز کیا ہوگا اور بات بھی ایسی ہی ہے کہ ہرقوم اور ہر ملک نے عورت کے مسئلے کو سلجھا نے کےلئے کچھ نہ کچھ دانشمدوں کو ضرور لگایا ہے چاہے وہ پیشہ ور ہی دانش مند کیوں نہ ہوں مگر کامیابی کے دربارِ عالی میں بار یابی کےشرف سے ھم کنار نہ ہوسکے ۔ توپھر ایک چبھتا ہوا سوال زہریلے بچھو کی ڈنک کی طرح محور افکار کو ڈسنے لگتا ہے کہ آخر یہ مسئلہ وہیں کاوہیں کیوں رہاآیا اس کی نزاکت کو سہارا نہیں مل پارہاہے جس کے بل پریہ چل سکے یااس کی الجھی ہوئی گتھی ہی کچھ البیلی ہے اچھا جی تو چلئے بات کو آگےبڑھاتےہیں اور آپ کےذہن کے بند دروازے کو زور زور سے کھٹکھٹا تےہیں کہ اگر چاہیں تو اس معمے کو تین نظریوں میں الگ الگ تقسیم کرسکتے ہیں ذراسا جھانک کردیکھئے تھوڑاسا۔۔۔۔۔تھوڑاسا درد توآپ کوزمانہ جاہلیت نظر آئےگا جس مشہور زمانہ کے حکماء تہی ماندن دردو مرؤت نےعورت کواپنے معاشرے میں ایک ایسا مقام دیا تھا کہ اگرسچ کہ دیا جائے تو اس کی حیثیت متاع بےثمن سے زیادہ کچھ نہیں تھی عورت صرف ایک استعمال کی چیز تھی تسکینِ ہوس پرستی کا مرکز مطموح تھی نہ اس کا کوئی حق تھا نہ کچھ اختیار نہ کوئی عزت تھی نہ کوئی وقار مزید برآں وہ تھی ظلم و ستم کی شکار جن کی تفصیل اگر ہودرکار تو صفحوں کی ہوجائے گی بھر مار انسانیت شرم ساری سے ہوگی دوچار اس لئے اس سے گریزاں ہونا لابدی اور تذکرہ ہے بیکار اسی لئے اسلامی نظریے سے بہتر جوصرف خدائی قانون ہےکوئی بھی دوسرا نظریہ نہیں ہوسکتا جن کوبنانے والےوہ حضرات ہیں جنھوں نے اپنی خواہشات نفس کی تکمیل کو مدنظر رکھ کر بنایا ہے اسلام نےعورت کوعزت وبرتری کادرجہ دیا ہے اگرچہ مردوں کو ان کا حاکم اور نگہبان بنایا ہے لیکن شرف ومنزلت میں اپنی صنفِ حریف سے چنداں ہیچ نہیں کہیں ماں کی شکل میں کہیں بیٹی اور بہن کی شکل میں توکہیں بیوی کی صورت میں ہر جگہ ان کو عزت و شرف کے مسندِ عالی پربیٹھایا ہے چونکہ عورت فطری اور پیدائشی طور پر نرم و نازک اور کمزور ہو تی ہے تو دوسری طرف تولید وتربیت اولاد میں اس کا اھم کردار ہوتا ہے اس لئے شریعت الہیہ نےاس کو گھر کا حاکم بنا دیا تاکہ وہ امورِ خانہ داری کی ذمّہ داری کو سنبھالے اور مرد جو فطرتاً اس سے قوی اور مضبوط ہوتا ہے وہ کفالت اور امورِ سیاست وقیادت کی ذمّہ داری نبھائے عورت کی عزت اسی میں پنہاں ہےکہ وہ پردے کے ساتھ اپنے گھروں کو لازم پکڑے جس سے اس کی عصمت و عفت محفوظ رہے گی اور اسی بنیاد پر لوگوں کی نگاہوں میں محترم و پروقار ہوگی۔