اتحاد نیوز اعظم گڑھ INA NEWS: میری بستی کے لوگوں اب نہ روکو راستہ میرا.

اشتہار، خبریں اور مضامین شائع کرانے کیلئے رابطہ کریں…

9936460549, 7860601011, http://www.facebook.com/inanews.in/

Sunday, 14 January 2018

میری بستی کے لوگوں اب نہ روکو راستہ میرا.

ازقلم: عبداللہ الاعظمی
متعلم: جامعہ فیض عام، فیض نگر، دیوگاؤں، اعظم گڑھ، یوپی (انڈیا)
ــــــــــــــــــــ
میری بستی کے لوگوں اب نہ روکو راستہ میرا
میں سب کچھ چھوڑ کر جاتا ہوں دیکھو حوصلہ میرا

استاذ عالی مرتبت مخدومی گرامی قدرحضرت مولانا سرور صاحب کی وفات کے جاں کاہ حادثے پر دل بلبلا اٹھا، طبیعت بے چین ہوگئی، جگر پارہ پارہ ہوگیا، نہ جانے کتنے دلوں کی دنیا زیروزبر ہوگئی، اور نہ معلوم کتنوں کے قلوب میں صفِ ماتم بچھ گئی ...........
آخر اضطراب وبے کیفی سے دوچار، اشکبارودل فگار آج جب ان کے احوال قلم بند کرنے بیٹھا تو ماضی کی ایک ایک یادیں چشمِ تصور کے سامنے جھلملانے لگیں ......
لاریب حضرت مولانا عہد ساز و مردم گر تھے ،دارالعلوم کے مسلک و مشرب کے محافظ، اسکی پاکیزہ روایات کے امین اور سلف کے سچے جانشین تھے ،علم و تقوی کے اعلی مقام پر فائز ہونے کے باوجود سادہ طبیعت، سراپا تواضع ،مجسم اخلاق تھے، خرد نوازی،اور جزبہءِ شفقت نے آپ کو لوگوں کی نگاہوں میں  ہردل عزیز اور سب کو آپ کا اسیر بنادیا تھا.........
نصف صدی سے مستزاد آپ نسلوں کے مربی و معلم رہے ، علم سے دوستی و شغف آپ کے رگ و ریشے میں پیوست تھا چنانچہ آپ نے اسکی اشاعت و ترویج میں اپنی ساری صداقتیں اور توانائیاں وقف کر رکھی تھیں، اس طرح اگر دیکھا جائے تو آپ کی وفات ایک عہد کا خاتمہ ہے.
 یہ کون جارہا ہے میرا گاؤں چھوڑ کر
آنکھوں نے رکھدئے ہیں سمندر نچوڑ کر

ساحل پر کھڑے ہوکر طوفان کا نظارہ کرنے والے تو بہت ہیں لیکن دریا میں اتر کر طوفانوں کی ہولناکیوں اور ہلاکت خیزیوں سے پنجہ آزمائ  کا حوصلہ اور ہمت بہت کم لوگوں میں ہوتی ہے،انکی تعداد اتنی مختصر ہوتی ہے کہ ہردور میں انھیں انگلیوں پر گنا جاسکتا ہے ایسے کمیاب افراد میں حضرت الاستاذ بھی شامل تھے.
جب بھی ان سے ملاقات ہوتی ہمیشہ یہی دیکھتا کہ انکا عزم آہنی، انکی ہمت فولادی ،انکا جوش عمل طوفان بدوش ،انکا حوصلہ ناقابل شکست ،دین اور تعلیم کی راہ میں انکی جدوجہد  سیماب صفت ،قوی کےلاغر ونحیف ہونے کے باوجود بھی عزم جواں ،ہمت بلند ،پارے کے مانند ہمہ وقت متحرک اور رواں دواں تھی، انکا ماننا بھی یہی تھا کہ انسان جس مہم پر چلے پورے جوش و خروش، پورے حوصلے اور ولولے کے ساتھ چلے، ان کی فکر ہمہ وقت طلبہ کی ذہن سازی اور دینِ حق کے واسطے جذبہءِ جاں سپاری پیدا کرنے میں لگی رہتی تھی،  سست گامی انھوں نے کبھی سیکھا ہی نہیں ،تیز گامی بلکہ برق رفتاری انکی فطرت تھی .......
مجھے آج بھی وہ دن اچھی طرح یاد ہے جب حضرت جامعہ میں تدریسی خدمت  انجام دینے کے لئے تشریف لائے اسی سال میں نے بھی قرآن کریم کا دور مکمل کرکے عربی اول میں داخلہ لیا تھا مولانا کے علم و کمال کا چرچا آتے ہی یہاں کی فضا میں گونج اٹھا مگر ہنوز ملاقات کا شرف حاصل نہ ہوا تھا.....
 الغرض جب آپ درس دینے کے لیے درسگاہ کی طرف آنے لگے  تو کیا دیکھتا ہوں ایک بزرگ، وقارومتانت کے پیکر سانولہ رنگ، چھوٹا قد ،چشمہ لگائے ،ہاتھوں میں عصا لیے چلے آرہے ہیں،  بے پناہ سادگی اور تکلفات و تصنعات سے بالکل خالی شخص کو دیکھکر ذہن نے قبول ہی نہیں کیا کہ یہ وہی ستودہ صفات اور علم و عمل کے بحر بیکراں ہیں جنکا چرچا جامعہ میں گونج رہا ہے ،طائر فکر کی کوتاہ پروازی نے یہ محسوس کیا کہ یہ کوئ جماعت تبلیغ سے وابستہ بزرگ ہیں ،لیکن دوسرے ہی پل ذہن کا یہ خاکہ منہدم ہو گیا جب حضرت مسندِ درس پر آکر بیٹھ گئے پھر فردا فردا ہر ایک نے اپنا تعارف کرایا اس سلسلہ کے منقطع ہونے کے بعد حضرت نے سبق شروع کرا دیا اور ایسی جامع تقریر کی کہ دل جھوم گیا اور سادگی کی چادر میں چھپا علم کا گوہر نایاب جھلک اٹھا. اس طرح ہم لوگوں کو جامعہ میں ان سےسب سے پہلے سبق پڑھنے موقع ملا اورپھر انکی موجودگی ہی میں مجھے تدریسی خدمت انجام دینے کا شرف بھی حاصل ہوا.  اثنائے درس اپنی سادہ زبانی سے وہ نکتے بیان کرجاتے  جو دوسروں کو غورو فکر کے بعد بھی نہ سوجھتے. باتوں باتوں میں ان مسائل کی گرہ کشائی کرجاتے جو سالہا سال کے مطالعہ سے بھی نہ حل ہوپاتے.
انکی عتاب آمیز شفقت طلبہ کی فطری صلاحیتوں کو ابھارنے میں سب سے اہم کردار ادا کرتی تھی.
حضرت الاستاذ حقیقت کو سمجھنے والی نظر رکھتے تھے وہ اپنے طلبہ کی حالت قبض و بسط کو بڑی گہرائ و گیرائ سے محسوس کرتے اور انکی طبیعت کو ملحوظ خاطر رکھکر اس انداز سے انکو لیاقت علمی سے مرصع کرتے کہ کسی کوبھی گرانی محسوس نہیں ہوتی تھی یہی وجہ تھی کہ غبی و کند ذہن اور کمزور طالب علم بھی انکی صحبت سے بلند حوصلہ اور مضبوط کردار بن کر ابھرتا تھا.
یقینا جن کی صحبت سے ہمارا ذوق بیدار نہ ہو ،روحانی اور ذہنی تسکین نہ ملے ،ہم میں قوت و حرکت نہ پیدا ہو ہمارا جزبہءِحسن اخلاق نہ جاگے جو ہم میں مشکلات پر فتح پانے کے لئے سچا استقلال نہ پیدا کرسکے  اسکی صحبت ہمارے لئے بیکار ہے .
میں حضرت کی اس شفقت آمیز بات کو کیسے بھول سکتا ہوں کہ میرے سارے ساتھیوں نے صرفی گردان سنا دی مگر مجھے یاد نہ ہوسکی ہم درسوں کے سبق سنادینے کی وجہ سے میرے اوپر اک عجیب طرح کابار خفت تھا اس اضطرابی کیفیت سے دوچار ہوکر میں نے مغموم لہجے میں حضرت سے کہا ایسا لگتا ہے  میں پڑھ نہیں پاؤنگا ابتدا ہی میں انتہائ قدم اٹھانے کی اس سوچ سے حضرت جیسے تڑپ گئے اور برجستہ کہا "تمہیں تو پڑھوگے"اسوقت اس لفظ نے میرے حوصلے کو اس طرح مہمیز کیا کہ مانو کسی نے بجھتے ہوئے دئے میں تیل ڈالدیا ہو اسی دن سے حضرت سے قربت و انسیت بڑھتی گئ اور اس قدر بڑھی کی درس نظامی کی تمام کتابیں ،میں خارجی اوقات میں ان سے پڑھنے لگا جسکے سبب امتحان میں بھی اکثر امتیازی نمبر لانے لگا، حضرت سے میری بے تکلفی کا یہ عالم تھا کہ آپ سے جہاں علم و معرفت کی باتیں ہوتیں وہیں لطائف و ظرائف کی خوش گپیاں بھی چلتیں.
مجھے مضمون نگاری و غزل نویسی کا شوق شروع ہی سے تھا اور حضرت اس فن میں بھی کمال کی مہارت رکھتے تھے. چنانچہ جب میں کوئ مضمون لکھتا یا کوئ شعر تیار کرتا حضرت کو سنانے تک دل بیقرار رہتا اور سنانے کےبعد جب دادو تحسین حاصل کر لیتا تب پھولے نہیں سماتا. کیونکی انکے تشجیعی کلمات بڑے مؤثر اور دلنواز ہوتے تھے
چند دن پہلے کی بات ہے کہ میں پڑھا کر نکل رہا تھا تو مجھکو بلائے اور کہا کہ میں نے ایک مصرعہ تیار کیا ہے آپ اس پر پوری غزل ڈھالئے
وہ مصرعہ یہ تھا
"سر بکف پھرتا ہوں میں لیکن کوئ قاتل نہیں"
 یہ ساری یادیں اور باتیں جب حضرت کی حیات میں بیان کرتا تھا تو ہنسی کے ساتھ ساتھ قلب کو سکون بھی ملتا تھا مگر آج جب انکو بیان کررہا ہوں تو جیسے ایک ایک لفظ  خاموش دریا میں تلاطم پیدا کررہے ہوں جنکی موجیں آنکھوں کے ساحل سے ٹکرا کر بھگوجانے کے لیے بے تاب ہوں

کچھ تو نازک مزاج تھے ہم بھی
اور یہ چوٹ بھی نئ ہے ابھی
یاد کے بے نشاں جزیروں سے
 تیری آواز آرہی ہے ابھی
انکی سب سے خاص بات یہ تھی کہ اگر انکا کوئی طالب علم کسی بھی طرح حلقہءِ علمیہ سے کٹ جاتا تو اتنا افسوس کرتے کہ جیسے کوئ خزانہ لٹ گیا ہو انکے اس قدر والہانہ تعلقات ہی کے باعث تمام طلبہ ان سے بڑا لگاؤ رکھتے تھے کیونکہ ہر رند کو اس بزم میں بادہ کشی کی اجازت تھی.
روشنی مزاجوں کا کیا عجب مقدر ہے
ایک ایک تنکے سے آشیاں بنانے میں
 خوشبوئین پکڑنے میں
 گلستاں سجانے میں
عمر کاٹ دیتے ہیں
اور اپنے حصے کے پھول بانٹ دیتے ہیں
مگر یہ بات بھی حقیقت ہے کہ اس ناسوتی ظلمت کدے میں جس نے بھی آنکھیں کھولیں انھیں موت کے سامنے گھٹنے ٹیکنے ہیں حسب معمول جب میں مدرسہ پڑھانے کے لئے صبح گیا تو ٹھنڈک اپنے شباب پر تھی یہ اطلاع موصول ہوئ کہ حضرت رات تہجد کے لئے بیدار ہوئے تو منہ سے خون آگیا یہ خبر سنتے ہی میں فورا حضرت کے کے کمرے گیا تو دیکھا کہ آگ لئے بیٹھے ہیں چند اور لوگ بھی موجود ہیں حضرت نے اسی والہانہ انداز میں ملاقات کرتے ہوئے کہا کہ ارے علامہ آپ آگئے میں تو آپ ہی کا انتظار کررہا تھا اور میں حضرت کے پاس ہی بیٹھ گیا
 مجھے کیا خبر تھی کہ آج اس چراغ کو جس سے سیںکڑوں دئے روشن ہوئے ہیں قضاؤ قدر کی آندھیاں بجھا دینگی مجھے کیا علم تھا کہ گلشن بشری کا اس جوہر آبدارسے یہ آخری مصافحہ ہے کون جانتا تھا کہ حیات کی کشتی پر سوار یہ مسافر  کچھ ہی دیر میں چپکے سے موت کے دریا میں غوطہ زن ہوجائے گا مگر رہے نام اللہ کا، بالآخر افق فیض عام پر اپنی علمی روشنی سے جگمگانے والا یہ سورج اپنی تمام رعنائیوں دلفریبوں کو سمیٹ کر ہمیشہ ہمیش کے لئے غروب ہوگیا

بچھڑا کچھ اس ادا سے کہ رت ہی بدل گئی
اک شخص پورے شہر کو ویران کر گیا
دعا ہے کہ باری تعالی! عزیزوں سے بڑھ کر عزیز مخلصوں سے بڑھکر مخلص حضرت مولانا سرور صاحب کو اپنے مقربین میں شامل فرمائے

اے خدائے واحد و لم یزل
تیری اک نگاہ کے صید ہیں یہ زماں مکاں
تیرے رحم کی نہیں حد کوئی
تیرے عفو کی نہیں انتہاء
میری التجا ہے تو بس یہی
میری زندگی کا جو وقت ہے
کٹے اسکی اجلی دعاؤں میں
تیرے در گزر کے حضور میں
کسی چیز کی بھی کمی نہیں
تیری بخششوں کے دیار میں

میرے شیخ کی روح جمیل کو صدا رکھنا اپنے جوار میں
صدا پر فضا وہ لحد رہے تیرے لطف خاص کی چھاؤں میں