اتحاد نیوز اعظم گڑھ INA NEWS: علوم وفنون کے اصل وارث مسلمان ہیں : ڈاکٹر اقتدار فاروقی

اشتہار، خبریں اور مضامین شائع کرانے کیلئے رابطہ کریں…

9936460549, 7860601011, http://www.facebook.com/inanews.in/

Saturday, 14 April 2018

علوم وفنون کے اصل وارث مسلمان ہیں : ڈاکٹر اقتدار فاروقی

معہد دارالعلوم ندوۃ العلماء میں منعقد جلسہ تقسیم انعامات میں علماء و دانشوروں کا اظہار خیال.

لکھنؤ(آئی این اے نیوز 14/اپریل 2018) یورپ میں آج جو علم وہنر کی روشنی ہے مسلمانوں کے دور عروج کی دین ہے ، ایک وقت تھا کہ پوری دنیا اسلامی دنیا کے علوم و فنون اور صنعت و حرفت کی محتاج تھی ، مسلمانوں کی یونیورسٹیاں دنیا کی نمبر ایک یونیورسٹیوں میں شمار ہوتی تھیں ، زہراوی ، ابن الہیثم، جابر بن حیان، زکر یا رازی ، ابن سینا ، الخوارزمی یہ تمام حضرات علوم و فنون کے بانی تھے ،
آج یورپ انہیں فادر کے لقب سے یاد کرتا ہے ، خواہ وہ علم ریاضی ہو ، فلسفہ و منطق ہو ، جغرافیہ یا فزکس، کیمسٹری اور سائنس ہو کوئی ایسا میدان نہیں ہے جو علماء اسلام کی خدمات سے خالی ہو ، دور عباسی علوم وفنون کی ترویج کا سنہرا دور تھا ، لیکن جب مسلمانوں کا زوال ہوا تو وہی تناسب جو سو فیصد تھا دو فیصد تک پہنچ گیا ۔ ان خیالات کا اظہار مشہور سائنس داں اور ماہر نباتات ڈاکٹر اقتدار فاروقی نے کیا ۔وہ معہد دارالعلوم ندوۃ العلماء میں منعقد سالانہ تقسیم انعامات کے موقع پر بطور مہمان خصوصی خطاب کر رہے تھے، ڈاکٹر فاروقی نے مسلمانوں کی موجودہ صورت حال کا بھی جائزہ لیا اور انہوں نے بتایاکہ انہوںنے یورپ اور امریکہ اور جرمنی کے متعدد سفر کئے انہوں نے قطر یونیورسٹی کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ اس میں اسی فیصد طالبات زیرتعلیم ہیں۔اپنے صدارتی خطاب میں مولانا سید محمد رابع حسنی ندوی نے کہا کہ علم انسان کو روشنی عطا کرتا ہے، دنیا میں جو بھی انبیائے کرام تشریف لائے انھوں نے علم وحکمت کی تعلیم دی ، اسلام سے قبل دنیا جہالت اور تاریکی میں ڈوبی ہوئی تھی ، اسلام نے اپنی تعلیمات کے ذریعہ جہالت اور تاریکی کو دور کیا ، اسلام نے علم کی اہمیت کو اجاگر کیا ، اور قرآن مجید کی وحی کی ابتداء علم کے زور سے شروع ہوئی ، صحابہ کرام نے پوری دنیا میں اسلام کی تعلیم کو عام کیا ، انھوں نے دنیا کی زبانوں کو سیکھا اور ملکوں میں جا کر زبانوں میں دعوت دی، ندوۃ العلماء نے دعوت اسلامی کو عام کرنے کے لئے دنیا میں سب سے زیادہ رائج زبانوں کو داخل نصاب کیا ، جس کا الحمد للہ پورا فائدہ نظر آیا ہے ۔پروگرام کے مہمان خصوصی اور انٹیگرل یونیورسٹی کے چانسلر پروفسیر وسیم اختر نے اپنے خطاب میں مفکر اسلام حضرت مولانا سید ابوالحسن علی حسنی ندویؒ سے اپنے تعلق کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ انہوں نے حضرت کے ساتھ معہد کے مہمان خانہ میں قیام کیا اور انہوں نے تکیہ رائے بریلی میں ماہ رمضان کی برکتوں اور مولانا علی میاں کی شفقتوں کو بڑے جذباتی انداز میں ذکر کیا ، اس موقع پر انہوں نے کہا کہ انٹیگرل یونیورسٹی کے ابتدائی مراحل کو بھی بیان کیا ، کس طرح ایک چھوٹی سی عمارت کے پرائمری درجوںسے اس کی شروعات ہوئی اور پھر دھیرے دھیرے الحمد للہ یہ آج ایک عالیشان یونیورسٹی کی شکل میں موجود ہے ، اس کی بنیاد مفکر اسلام حضرت مولانا سید ابوالحسن علی حسنی ندوی نے اپنے دست مبارک سے رکھی ، اور آج اس سے ایک تعداد فیض یاب ہو رہی ہے ، انھوں نے طلبہ کو نصیحت کی کہ وہ علم و ادب کے میدان میں آگے بڑھیں ، اور اپنی محنت و کاوش سے دین و دنیا میں سرخروئی حاصل کریں ، ۔پروگرام میں صدر جلسہ مولانا سید رابع حسنی ندوی کے دست مبارک سے معہد سے شائع ہونے والے سالانہ مجلہ الاصلاح کی رسم اجراء عمل میں آئی اور طلبہ کے ما بین انعامات تقسیم کئے گئے۔