اتحاد نیوز اعظم گڑھ INA NEWS: لاولد حکمران ھــــند!

اشتہار، خبریں اور مضامین شائع کرانے کیلئے رابطہ کریں…

9936460549, 7860601011, http://www.facebook.com/inanews.in/

Saturday, 14 April 2018

لاولد حکمران ھــــند!

بقلم :صابر علی بینائی

زندگی سے گھبرائیے مت، کیونکہ زندگی نام ہی ہے نشیب و فراز کا.

ابھی چند دنوں پہلے مندرجہ بالا جملے کو میں  نے سوشل میڈیا پر شیئر کرنے کےلئے ایک انسٹی ٹیوٹ کو ارسال کیا تھا اور شاید وہ سوشل میڈیا پر شیئر بھی کردیا گیا ہوگا ۔
لیکن اب میں بذاتِ خود اس بیان کے گئے اصول سے منحرف ہوتا ہوا نظر آرہا ہوں , اور شاید میرا یہ انحراف بجا بھی ہے ۔
کیونکہ میری زندگی کے یہ نشیب و فراز کچھ زیادہ ہی گہرے اور کچھ زیادہ ہی اونچے ہوگئے ہیں , اونچائی اتنی ہے کہ چڑھتے چڑھتے تھک سا جاتا ہوں اور گہرائی اتنی ہے کہ اس میں گرنے کے بعد میرا نکلنا مشکل ہوجاتا ہے۔
ابھی قندوز کی کسک دل  سے نکل بھی نہ پائی تھی کہ کشمیر کی ننھی بنجارن آصفہ کی خبر نے دل کو چھلنی کردیا ۔

سمجھ نہیں آتا کہ میں کیا کروں ؟؟؟
کس کس پر کتنا کتنا روؤں ؟؟؟
وہ کون سا آنسو کہاں سے لاؤں جس  کے بہانے سے دل کا بوجھ ذرا ہلکا ہو ۔
وہ کون سی دوا کس طبیب سے
 کیا کہہ کر  لوں کہ  دل کو سکون حاصل ہو   ۔
بہت ڈھونڈنے تلاشنے کے  بعد بھی  مجھے  اس طرح کا کوئی اپائے نظر نہیں آتا جس سے میں اپنا  غم غلط کرسکوں  ۔

البتہ دل کرتا ہے کہ ان حیوانوں کی سفاکیت , بربریت کا صلہ ضرور  دوں ؟؟؟
جو کبھی  گائے گوبر کے نام پرمعصوموں کو جان سے مار دیتے ہیں , تو کبھی داڑھی کرتے کو جبر و تشدد کا نشانہ بناتے ہیں , کبھی زچگی کی حالت میں بیوی سے ملنے جارہے شخص کی آنکھ پھوڑ دیتے ہیں تو کبھی آسنسول کے امام کے لختِ جگر صبغت اللّٰہ کو موت کے گھاٹ اتار دیتے ہیں تو کبھی نجیب کی بوڑھی ماں کو پولس کے ہاتھوں روڈ پر گھسیٹتے نظر آتے  ہیں ۔
     پر شاید میں وہ بھی نہیں کرسکتا کیونکہ قانون مجھے اسکی اجازت نہیں دیتا ۔لیکن سوال یہ ہے کہ جب قانون اسکی اجازت نہیں دیتا تو وہ خود اس کا انصاف کرے , ان تمام درندہ صفت حیوانوں کو انکے کیفرِکردار تک پہونچائے جو درندگی انہوں نے انسانی شکل میں انجام دی ہے ۔

لیکن افسوس صد افسوس

 آج مملکت کے چاروں ستون مقننہ , انتظامیہ , عدلیہ اور صحافت سب ایک حمام کے ننگے نظر آرہے ہیں , رہبر بھی  رہزنوں کا امام ہے , محافظ بھی گھات لگائے بیٹھا ہے کہ کب موقع ملے اور بہتی گنگا میں ہاتھ دھولیا جائے ,
ہم نے پڑھا تھا " امن بنائے رکھنے کےلیے شعبہ پولس  ہوتا  ہے " لیکن آج اسی امن کے ٹھیکیدار کو اپنی کھلی آنکھوں سے معصوم بچی کے ساتھ اسکی زندگی سے کھلواڑ کرتے ہوئے دیکھا ۔
معذرت کےساتھ اگر میں یہ کہوں تو بیجا نہ ہوگاکہ " آبروریزی کا سیزن " چل رہا ہے ۔
      آ ج جب ایک عورت کی آبرو تار تار کی جاتی ہے اور وہ انصاف کی خاطر پولس اسٹیشن جاتی ہے تو وہ امن کا ٹھیکیدار دھمکی آمیز جملوں کےساتھ اسے دھکے مار کر کھدیڑ دیتا ہے پھر بھی اسکی حیوانیت یہی نہیں رکتی بلکہ اس مظلومہ کے بعض نا آنے پر اسکے باپ کا بھی قتل کردیا جاتا ہے ۔
جب ایک طرف ایک ہی وقت میں دو دو بچیوں کے ساتھ جماع بالجماعة کیا جاتا ہے اور دوسری طرف مظلومہ کے باپ کا قتل ہوجاتا ہے
تو انسانیت کو تار تار ہوتے دیکھ کر جب زندہ دل , باضمیر لوگ احتجاج کرتے ہیں تو یہی امن کے ٹھیکیدار الٹا انہیں مظلوم احتجاجیوں پر برس پڑتے ہیں اور صرف یہی نہیں برستے بلکہ عدلیہ کے کالے سفید لباسوں میں ملبوس وہ منصف حضرات  بھی  حیوانوں کے بچاؤ میں سراپا احتجاج بن جاتے ہیں ۔

"برباد گلستاں کرنے کو بس ایک ہی الو کافی تھا
ہر شاخ پہ الو بیٹھا ہے انجامِ گلستاں کیا ہوگا" ۔

میں تو بس یہی کہوں گا  کہ آپ  جب بھی  گھر سے نکلیں اللّٰہ توکل پر نکلیں اور گھر سے نکلنے کی دعا " بسم اللہ توکلت علی اللہ " ضرور پڑھیں , اور یاد رکھیں کہ ہماری حفاظت ہمیں خود کرنی ہے کسی امن کے ٹھیکدار اور محافظ پر کوئی بھی بھروسہ کرنا پتھر سے  دودھ کی  طلب کرنا  ہے اور بھلا وہ حفاظت ہی کیوں کریں گے جنہیں اولاد کی محبت کا اندازہ ہی نہیں ۔
مرد ہوتے  تو صاحبِ اولاد ہوتے , صاحبِ اولاد ہوتے  تو اولاد کی محبت کا اندازہ ہوتا۔
"مجھے کیوں ہو کسی کی وکالت کی احتیاج
میرا وکیل وہ ہے جو نعم الوکیل ہے ۔"