اتحاد نیوز اعظم گڑھ INA NEWS: فتنہ ٕ ارتداد، ایک لمحہ ٕ فکریہ!

اشتہار، خبریں اور مضامین شائع کرانے کیلئے رابطہ کریں…

9936460549, 7860601011, http://www.facebook.com/inanews.in/

Monday, 12 November 2018

فتنہ ٕ ارتداد، ایک لمحہ ٕ فکریہ!

مفتی فہيم الدین رحمانی چیئرمین شیخ الھند ٹرسٹ انڈیا
ـــــــــــــــــــــــــــــ
اس وقت پورے ملک میں عیسائی مشنریوں کا ایک سیلاب آیا ہوا ہے ملک کے طول و عرض میں دور دراز دیہاتوں اور ناخواندہ آبادیوں کو نشانہ بناکر انہیں عیسائی بنانے کی تحریک سرگرمی سے جاری ہے بعض صوبوں میں تو لاکھوں کی تعداد میں ھندو اور بدھسٹ عیسائی بن چکے ہیں، وہیں غریب مسلمان اور جدید تعلیم یافتہ افراد بھی عیسائیوں کے نشانہ پر ہیں اور بہت زیادہ نہ سہی لیکن کسی نہ کسی حدتک ارتدادی زہر ان میں بھی پھیلایا جارہا ہے، ملک کے کونے کونے میں پھیلے ہوئے عیسائی اسکول اور خدمت خلق کے ادارے عیسائیت کے مراکز ہیں اور تمام تر مادی طاقت کےساتھ یہ ارتدادی مہم چل رہی ہے.
مسلم معاشرہ میں ارتداد کی ایک صورت وہ بھی ہے، جو بین المذاھب شادیوں کی شکل میں عام ہے مسلم لڑکیوں کے غیر مسلم لڑکوں کے ساتھ شادی رچانے کے معاملات بھی آئے دن بڑھتے جارہے ہیں، کالجوں یونیورسٹیوں کا مخلوط ماحول فحاشی وبے حیائی کا طوفان موبائل کا آزادانہ استعمال اور دینی واخلاقی شعور کی کمی اس قسم کی صورت حال پیداکر رہی ہے، اس حوالے سے بعض فرقہ پرست تنظیمیں بھی کافی سرگرم ہیں مسلم لڑکيوں کو دام محبت میں پھانسنے کے لئے غیر مسلم لڑکوں کو باقاعدہ ٹرینڈ کیا جارہا ہے، کالجوں میں زیر تعلیم تربیت یافتہ غیر مسلم لڑکے مذھبی مہم کے طور پر اس کام کو انجام دے رہے ہیں، اسی طرح لوجہاد کا ہوا کھڑا کرنے کے لٸے غیر مسلم لڑکیوں کو بھی استعمال کیا جارہا ہے تربیت یافتہ غیرمسلم لڑکیاں مسلم لڑکوں سے فون پر رابطہ کر کے انہیں کسی مقام پر ملاقات کے لئے مدعو کرتی ہیں جہاں قریب ہی اس کے کچھ غیر مسلم ساتھی چھپے رہتے ہیں، مسلم لڑکا جونہی ملاقات کے لئے پہنچتا ہے فورا اس پر ہلہ بولا جاتا ہے اور شور مچایا جاتاہے کہ یہ لڑکا غیر مسلم لڑکی کے ساتھ تعلقات بنارہا ہے، آج ضرورت اس بات ہے کہ ہم اپنے نوجوانوں کو اس قسم کی سازشوں سے چوکنا رکھیں اور مخلوط ماحول کی تباہ کاریوں سے انہیں بچائیں.
حقیقی ارتداد کے علاوہ اس وقت امت مسلمہ میں ذہنی اور ثقافتی ارتداد کی صورت حال بھی کچھ کم تشویشناک نہیں ہے، مسلم معاشرے تیزی کے سا تھ ثقافتی یلغار کا شکار بن رہے ہیں، غیر مسلم کے مذھبی تہواروں میں مسلم نوجوانوں اور خواتین کی شرکت کی خبریں اخبارات اور سوشل میڈیا میں آتی رہتی ہیں ہولی دیپاولی اور سنکرانتی کے موقع پر رنگ بازی پتنگ بازی اور آتش بازی کا رواج اب مسلم نوجوانوں میں بھی خوب عام ہورہا ہے ثقافتی یلغار پر روک لگانے کےلٸے نوجوانوں میں مذھبی شعور بیدار کرنا بےحد ضروری ہے.
اتناہی نہیں بلکہ یکے بعد دیگرے مختلف خوفناک مناظر سے پردے اٹھتے رہیں گے اور عقلیں حیران و دنگ رہ جائیں گی کوئی شعبہ زندگی کا ایسا نہیں ملے گا، جہاں عیسائیوں اور ان کی مشینریوں نے اپنے زہریلے اثرات سکون مرہم امداد سہارا تعلیم خدمت ترقی بازآبادکاری معاونت بھائی چارگی علاج صنعت و حرفت کے حسین ناموں سے نہ پہنچائے ہوں ۔