ذیشان الہی منیر تیمی
ــــــــــــــــــــــــــــــــــ
اس دنیا کے اندر صرف ہندوستان ہی ایک ایسا ملک ہے جس میں مختلف مذہب ،ذات اور لسان و زبان کے بولنے والے لوگ پائے جاتے ہیں، یہی وہ سرزمین ہے جہاں پر ایک ساتھ رام ،رحیم ،بودھ ،عیسی اور گڑونانک کے نام کی آواز فضا کے اندر گونجتی ہے، اس سرزمین میں ہندو ،مسلمان ،سکھ اور عیسائی ہزاروں سال سے ایک ساتھ بھائی بھائی بن کے ایک دوسرے کے خوشی و غم میں شریک ہوتے ہوئے آرہے ہیں اور اسی چیز کو ہمارے اسلاف نے گنگا جمنی تہذیب کا نام دیا تھا اور تاریخ شاہد ہے کہ اسی گنگا جمنی تہذیب کی وجہ کر ہندوستان نے اس طرح ترقی کی کہ اسے پوری دنیا میں سونے کی چڑیا کے نام سے جانا جانے لگا لیکن افسوس صد افسوس کہ اس گنگا جمنی تہذیب کو کسی کی بری نظر لگ گئی اور اس کی بین ثبوت ہندوستان کے اندر ہورہے غلط افکار و نظریات اور غلط بیانات کو بڑھاوا دینا ہے ۔کبھی بابری مسجد کے غنڈے اور بدمعاشوں کو رام بھگت بتایا جاتا ہے تو کبھی مسلم نام سے جڑے ہوئے شہروں کو بھگوا رنگ دے دیا جاتا ہے ۔کبھی تاج محل کو تیجو محل بتایا جاتا ہے تو کبھی گائے کے نام پر کمزور و لاچار مسلمانوں کو آر ایس ایس ،بی جے پی ،بجرنگ دل اور وشو ہندو پریسد کے غنڈے پیٹ پیٹ کر سرے عام قتل کر دیتے ہیں اور اس کی تمام حدو کو تو بھگوا لباس میں ملبوس بھگوادھاری غنڈوں نے ۸ دسمبر ۲۰۱۸کو رام لیلا میدان میں ہوئے پروگرام کے اندر یہ کہہ کر توڑ دی کہ ایک دھکا اور دو جامع مسجد توڑ دو ۔یہ صرف ایک جملہ ہی نہیں تھا بلکہ ہندوستان کے سیکولر ملک ہونے کے دعوی پر ایک زوردار طمانچہ تھا کیونکہ بھری مجلس کے اندر وہ بھی ہندوستان کی راجدھانی دھلی کے اندر تاریخی جامع مسجد دھلی کو بھگوا دھاری غنڈے اور دہشت گرد توڑنے کی بات کررہے ہیں اور وہی پر پولیس تماشائی بنی دیکھ رہی تھیں ۔ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ اس طرح کی دنگائی جملہ بولنے والے نام نہاد ڈھونگی بابا کو ہماری سرکار غدار وطن اور دیش کو توڑنے والے انسان کی طرح اس کو سخت سے سخت سزا دیتے لیکن ہمارے وزیر اعظم نریندر مودی کے ساتھ ساتھ تمام پاڑٹیوں کے لیڈران چپی سادھے رہیں جو اس بات کی دلیل ہے کہ آج ہندوستان کے اندر لاقانونیت کا دور دورہ ہے ہر طرف بد امنی اور فتنہ و فساد کا بازار گرم ہے.
جامع مسجد دھلی کو مغل بادشاہ جہانگیر نے اپنے دور حکومت میں بنوایا تھا یہ مسجد جہاں ایک طرف تاریخی اور ہندوستان کی سب سے بڑی مسجد ہے وہی دوسری طرف اس کا رشتہ مسلمانوں سےجسم و روح کے رشتے کی طرح ہے گویا جامع مسجد کو توڑنے کی بات کہہ کر ہندوستان میں موجود تمام مسلمانوں کے جذبات سے ڈھونگی بابا کھلواڑ کررہے ہیں اور اس کے پیچھے سب سے بڑا ہاتھ تو ساکچھی مہاراج کا ہے جنہوں نے سب سے پہلے اپنے چناوء پرچار میں کہا تھا کہ کاسی متھڑا تو چھوڑو جامع مسجد کی سیڑھیاں توڑو اگر سیڑھیوں کے نیچے سے مورتی نہ نکلا تو مجھے پھانسی کے پھندے پر لٹکادینا ۔یہ جہالت اور کذب سے پر جملہ ڈھونگی بابا نے سنسد تک جانے کے لئے ایک سوشہ چھوڑ دیا تھا اسی وقت سے وقتا فوقتا بھگوادھاری غنڈے جامع مسجد کو توڑنے کا نعرہ لگاتے ہیں ۔ مگر جو امن پسند اور حق پرست غیر مسلم بھائی ہیں وہ اس قسم کے ڈھونگی باباوں کے بات کو جہالت پر مبنی بات قرار دیتے ہیں لیکن ان تمام کے باوجود ۸ دسمبر کو جس طرح بھگوادھاری غنڈے دھلی کے سڑکوں پے جامع مسجد کے خلاف نعرہ لگارہے تھے اس سے تو صاف ظاہر تھا کہ ملک میں ایک وسیع پیمانے پر دنگا کرانے کی ان لوگوں نے سوچ بنا لی ہیں۔
آج ہندوستان کے اندر یہ لوگ نفرت کے بازار کو گرم کررہے ہیں ۱۵ فیصد مسلمانوں کا ڈر دیکھاکر ۸۵ فیصد ہندووں کو ڈرا رہے ہیں اور انہیں ہر پل اور ہر لمحہ فتنہ و فساد کے لئے اکسا رہے ہیں تاکہ ہندوستان کا ماحول خراب ہو ۔تاریخ شاہد ہے کہ یہی وہ لوگ تھے جو آزادی سے قبل انگریزوں کے چمچے اور خصیہ بردار تھے ان کے آباء و اجداد نے جنگ آزادی میں حصہ نہیں لیا بلکہ ہمیشہ انگریزوں کے جاسوسی میں لگے رہے اور آج یہی لوگ اپنے آپ کو اصل ہندوستانی ثابت کرتے ہیں اور جو اس کے خلاف بولے وہ آتنک واد ہے وہ دیش دروہی ہے ۔
۸ دسمبر کو رام لیلا میدان سے جامع مسجد کو توڑنے کی بات کہہ کر ان لوگوں نے ثابت کردیا کہ یہ لوگ ہندوستان کے قانون اور عدلیہ کو اپنی جوتی پر رکھتے ہیں اور کھلے عام جسے چاہے مار سکتے ہیں جس کو چاہے چوٹ پہنچا سکتے ہیں، اگر یہی حالت رہی اور اس پر قابو نہیں پایا گیا تو وہ دن دور نہیں جب یہ بھگوادھاری غنڈے ہندوستان کی گنگا جمنی تہذیب کو مٹی میں ملا دیں گے اور یہاں کی سرزمین پر قتل و خونریزی کا بازار گرم کریں گے، اس لئے ضرورت اس امر کی ہے کہ سرکار اس قسم کی تنظیم پر پابندی لگائے اور ایسے غلط بیان بازی کرنے والے دہشت گردوں کو سخت سے سخت سزا دے تاکہ بلا ثبوت کبھی بھی کوئی بات بولنے سے پہلے لاکھ مرتبہ سوچے۔اگر ہماری سرکار نے اس موقع پر ان لوگوں کے خلاف کاروائی کی تو ہندوستان میں پھر سے امن و امان بحال ہوگا ورنہ یہ لوگ اسے سرکار کی کمزوری سمجھ کر کھلے عام تشدد برپا کریں گے اور پوری دنیا یہی کہے گی -
خدا ہی محافظ ہے بھارت تیرا
لٹیرا جو تھا رہنما بن گیا
ــــــــــــــــــــــــــــــــــ
اس دنیا کے اندر صرف ہندوستان ہی ایک ایسا ملک ہے جس میں مختلف مذہب ،ذات اور لسان و زبان کے بولنے والے لوگ پائے جاتے ہیں، یہی وہ سرزمین ہے جہاں پر ایک ساتھ رام ،رحیم ،بودھ ،عیسی اور گڑونانک کے نام کی آواز فضا کے اندر گونجتی ہے، اس سرزمین میں ہندو ،مسلمان ،سکھ اور عیسائی ہزاروں سال سے ایک ساتھ بھائی بھائی بن کے ایک دوسرے کے خوشی و غم میں شریک ہوتے ہوئے آرہے ہیں اور اسی چیز کو ہمارے اسلاف نے گنگا جمنی تہذیب کا نام دیا تھا اور تاریخ شاہد ہے کہ اسی گنگا جمنی تہذیب کی وجہ کر ہندوستان نے اس طرح ترقی کی کہ اسے پوری دنیا میں سونے کی چڑیا کے نام سے جانا جانے لگا لیکن افسوس صد افسوس کہ اس گنگا جمنی تہذیب کو کسی کی بری نظر لگ گئی اور اس کی بین ثبوت ہندوستان کے اندر ہورہے غلط افکار و نظریات اور غلط بیانات کو بڑھاوا دینا ہے ۔کبھی بابری مسجد کے غنڈے اور بدمعاشوں کو رام بھگت بتایا جاتا ہے تو کبھی مسلم نام سے جڑے ہوئے شہروں کو بھگوا رنگ دے دیا جاتا ہے ۔کبھی تاج محل کو تیجو محل بتایا جاتا ہے تو کبھی گائے کے نام پر کمزور و لاچار مسلمانوں کو آر ایس ایس ،بی جے پی ،بجرنگ دل اور وشو ہندو پریسد کے غنڈے پیٹ پیٹ کر سرے عام قتل کر دیتے ہیں اور اس کی تمام حدو کو تو بھگوا لباس میں ملبوس بھگوادھاری غنڈوں نے ۸ دسمبر ۲۰۱۸کو رام لیلا میدان میں ہوئے پروگرام کے اندر یہ کہہ کر توڑ دی کہ ایک دھکا اور دو جامع مسجد توڑ دو ۔یہ صرف ایک جملہ ہی نہیں تھا بلکہ ہندوستان کے سیکولر ملک ہونے کے دعوی پر ایک زوردار طمانچہ تھا کیونکہ بھری مجلس کے اندر وہ بھی ہندوستان کی راجدھانی دھلی کے اندر تاریخی جامع مسجد دھلی کو بھگوا دھاری غنڈے اور دہشت گرد توڑنے کی بات کررہے ہیں اور وہی پر پولیس تماشائی بنی دیکھ رہی تھیں ۔ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ اس طرح کی دنگائی جملہ بولنے والے نام نہاد ڈھونگی بابا کو ہماری سرکار غدار وطن اور دیش کو توڑنے والے انسان کی طرح اس کو سخت سے سخت سزا دیتے لیکن ہمارے وزیر اعظم نریندر مودی کے ساتھ ساتھ تمام پاڑٹیوں کے لیڈران چپی سادھے رہیں جو اس بات کی دلیل ہے کہ آج ہندوستان کے اندر لاقانونیت کا دور دورہ ہے ہر طرف بد امنی اور فتنہ و فساد کا بازار گرم ہے.
جامع مسجد دھلی کو مغل بادشاہ جہانگیر نے اپنے دور حکومت میں بنوایا تھا یہ مسجد جہاں ایک طرف تاریخی اور ہندوستان کی سب سے بڑی مسجد ہے وہی دوسری طرف اس کا رشتہ مسلمانوں سےجسم و روح کے رشتے کی طرح ہے گویا جامع مسجد کو توڑنے کی بات کہہ کر ہندوستان میں موجود تمام مسلمانوں کے جذبات سے ڈھونگی بابا کھلواڑ کررہے ہیں اور اس کے پیچھے سب سے بڑا ہاتھ تو ساکچھی مہاراج کا ہے جنہوں نے سب سے پہلے اپنے چناوء پرچار میں کہا تھا کہ کاسی متھڑا تو چھوڑو جامع مسجد کی سیڑھیاں توڑو اگر سیڑھیوں کے نیچے سے مورتی نہ نکلا تو مجھے پھانسی کے پھندے پر لٹکادینا ۔یہ جہالت اور کذب سے پر جملہ ڈھونگی بابا نے سنسد تک جانے کے لئے ایک سوشہ چھوڑ دیا تھا اسی وقت سے وقتا فوقتا بھگوادھاری غنڈے جامع مسجد کو توڑنے کا نعرہ لگاتے ہیں ۔ مگر جو امن پسند اور حق پرست غیر مسلم بھائی ہیں وہ اس قسم کے ڈھونگی باباوں کے بات کو جہالت پر مبنی بات قرار دیتے ہیں لیکن ان تمام کے باوجود ۸ دسمبر کو جس طرح بھگوادھاری غنڈے دھلی کے سڑکوں پے جامع مسجد کے خلاف نعرہ لگارہے تھے اس سے تو صاف ظاہر تھا کہ ملک میں ایک وسیع پیمانے پر دنگا کرانے کی ان لوگوں نے سوچ بنا لی ہیں۔
آج ہندوستان کے اندر یہ لوگ نفرت کے بازار کو گرم کررہے ہیں ۱۵ فیصد مسلمانوں کا ڈر دیکھاکر ۸۵ فیصد ہندووں کو ڈرا رہے ہیں اور انہیں ہر پل اور ہر لمحہ فتنہ و فساد کے لئے اکسا رہے ہیں تاکہ ہندوستان کا ماحول خراب ہو ۔تاریخ شاہد ہے کہ یہی وہ لوگ تھے جو آزادی سے قبل انگریزوں کے چمچے اور خصیہ بردار تھے ان کے آباء و اجداد نے جنگ آزادی میں حصہ نہیں لیا بلکہ ہمیشہ انگریزوں کے جاسوسی میں لگے رہے اور آج یہی لوگ اپنے آپ کو اصل ہندوستانی ثابت کرتے ہیں اور جو اس کے خلاف بولے وہ آتنک واد ہے وہ دیش دروہی ہے ۔
۸ دسمبر کو رام لیلا میدان سے جامع مسجد کو توڑنے کی بات کہہ کر ان لوگوں نے ثابت کردیا کہ یہ لوگ ہندوستان کے قانون اور عدلیہ کو اپنی جوتی پر رکھتے ہیں اور کھلے عام جسے چاہے مار سکتے ہیں جس کو چاہے چوٹ پہنچا سکتے ہیں، اگر یہی حالت رہی اور اس پر قابو نہیں پایا گیا تو وہ دن دور نہیں جب یہ بھگوادھاری غنڈے ہندوستان کی گنگا جمنی تہذیب کو مٹی میں ملا دیں گے اور یہاں کی سرزمین پر قتل و خونریزی کا بازار گرم کریں گے، اس لئے ضرورت اس امر کی ہے کہ سرکار اس قسم کی تنظیم پر پابندی لگائے اور ایسے غلط بیان بازی کرنے والے دہشت گردوں کو سخت سے سخت سزا دے تاکہ بلا ثبوت کبھی بھی کوئی بات بولنے سے پہلے لاکھ مرتبہ سوچے۔اگر ہماری سرکار نے اس موقع پر ان لوگوں کے خلاف کاروائی کی تو ہندوستان میں پھر سے امن و امان بحال ہوگا ورنہ یہ لوگ اسے سرکار کی کمزوری سمجھ کر کھلے عام تشدد برپا کریں گے اور پوری دنیا یہی کہے گی -
خدا ہی محافظ ہے بھارت تیرا
لٹیرا جو تھا رہنما بن گیا
