اتحاد نیوز اعظم گڑھ INA NEWS: ماہنامہ نقوش حیات کے مدیر مولانا صادق علی قاسمی بستوی کا انتقال!

اشتہار، خبریں اور مضامین شائع کرانے کیلئے رابطہ کریں…

9936460549, 7860601011, http://www.facebook.com/inanews.in/

Saturday, 15 December 2018

ماہنامہ نقوش حیات کے مدیر مولانا صادق علی قاسمی بستوی کا انتقال!

بستی(آئی این اے نیوز 15/دسمبر 2018) نہایت افسوس کے ساتھ اطلاع دی جاتی ہے کہ ہندوستان کے متبحر عالم دین، کئی کتابوں کے مصنف امام المنطق و الفلسفہ، مدیر ماہنامہ نقوش حیات،
غیر منقوط سیرت کی کتاب داعئ اسلام کے مصنف، مدرسہ عربیہ اطہر العلوم لڈوا مہوا کے سابق صدرالمدرسین حضرت مولانا صادق علی صاحب قاسمی بستوی (لھرولی) آج اس دنیا سے رخصت فرماکر عالم آخرت کی طرف کوچ کر گئے، اللہ پاک حضرت والا کی مغفرت فرماکر جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا فرمائے، پسماندگان کو صبر جمیل عطا فرمائے آپ سے بھی حضرت کے لیے ایصال ثواب اور مغفرت کی دعا کی درخواست ہے ۔
صادق بستوی کا پورا نام صادق علی انصاری قاسمی دریابادی بستوی ہے ۔ یہ 15اپریل1936کو اترپر دیش کے ضلع بستی کے موضع دریاباد کے ایک غریب کنبے میں پیدا ہو ئے ۔ ابتدائی تعلیم گاؤں کے مکتب میں حاصل کی ۔ان کے مکتب کے اساتذہ ماسٹر شہرت علی دریابادی ، ماسٹر وکیل احمد اور ماسٹر عبدالحمید نے ان کو نکھارنے میں اہم رول اداکیا ۔ فارسی وابتدائی عربی تعلیم مدرسہ دینیہ مونڈا ڈیہہ بیگ بستی میں حاصل کی ۔یہاں انھوںنے مفتی مرتضی حسین اور مولانا عبدالوہاب سے کسب فیض کیا ۔ پھر متوسطات کی تعلیم کے لئے جامعہ مسعودیہ نورالعلوم بہرائچ ، یوپی کا رخ کیا اور وہاں کے ماہر اساتذہ سے علم حاصل کیا ۔ اعلیٰ تعلیم کے لئے دارالعلوم دیوبند گئے اور وہاں سے1955 میں فراغت حاصل کی ۔ اس کے بعد انھوں نے وہیں سے دورہ تفسیر کیا ۔ دارالعلوم دیوبند میں انھوں نے مولانا حسین احمد مدنی ، علامہ ابراہیم بلیا ور اور ملا بہاری وغیرہ جیسے نابغۂ روزگار اساتذہ کے سامنے زانوئے تلمذ تہہ کیا۔ اتنے سے ان کی علمی تشنگی نہیں بجھی تو انھوں نے پنجاب پونیورسٹی سے مولوی فاضل ، پوپی بورڈ الہ آ باد سے فاضل معقولات ، لکھنؤ یونیور سٹی سے فاضل تفسیر اور جامعہ اردو علی گڑھ سے ادیب کامل کا امتحان پاس کیا۔
تعلیم مکمل کرنے کے بعد مولانا صادق علی قاسمی بستوی نے میدان عمل میں قدم رکھا۔ چوں کہ شروع سے انھوں نے دینی درس گاہوں میں تعلیم حاصل کی تھی اس وجہ سے درس وتدریس کا پیشہ اختیار کیا۔
مولانا صادق کی پوری زندگی حوادث سے گھری نظر آتی ہے۔ دوران تعلیم والد کا سایہ سر سے اٹھ گیا اور فراغت کے بعد عملی زندگی میں قدم رکھتے ہی چھوٹے بھائی کا انتقال ہوگیا۔ صادق بستوی کسی خوشحال گھر انے کے چشم وچراغ توتھے نہیں اس وجہ سے گھر کی ساری ذمہ داری ان کے دوش ناتواں پر پڑگئی۔ انھوں نے جامعہ خادم الا سلام ہاپوڑ ، یوپی ،مدرسہ اطہر العلوم امرڈوبھا، بستی ، یوپی اور مدرسہ ہدایت العلوم کرہی، بستی میں تدریسی خدمات انجام دیں ،مگر اس سے بات نہ بن سکی۔ پھر ایک دواخانہ کھولا مگر پیسے کی کمی کی وجہ سے یہ بھی درد کاد رماں نہ بن سکا۔
1966 میں صادق بستوی نے دریاباد چھوڑ کر لہرولی میں آباد ہونے کا فیصلہ کیا۔ لہر ولی بازار میں آباد ہونے کی وجہ یہ تھی کہ وہ قصبہ ہونے کے ساتھ بستی ۔ مہنداول روڈ پر واقع تھا۔ یہاں سے نقل وحمل کی بہت آسانیاں تھیں لہر ولی میں انھوں نے خالد کمال اشاعت گھر کی بنیاد رکھی اور تصنیف وتالیف کا کام شروع کیا۔ یہاں صادق بستوی نے اپنا مجموعہ کلام م' نقوش زندگی' بچوں کی نظموں کا مجموعہ 'گلدستہ' 'صنف نازک کے لئے دعوت فکر ' ' نماز کیاہے'؟ 'رمضان کی باتیں ' دوسرا مجموعہ کلام' تب وتاب ' کہانی' مظلوم شہزادہ' 'قبر پر اذان ' عربی کتاب'مرقات' کی شرح 'تشریحات علیٰ المرقات' عربی کتاب 'تعریف الا شیاء' کی شرح' تسہیل الآلہ' ' ریاض الصرف ' 'ریاض النحو'' میزان منشعب 'منظوم' عبد اللہ بن سلام بحضور سید خیرالا نام' یعنی کل چودہ کتابیں لکھیں اوراپنے اشاعتی ادارے 'خالد کمال اشاعت گھر' سے شائع کیں۔ یہ کتابیں کافی مقبول ہوئیں اور کئی کتابوں کے متعدد ایڈیشن شائع ہوئے۔ اس کے علاوہ چار کتابیں 'خیر المفہوم' شرح سلم العلوم ' چار ستارے ' ' چاند کی شرعی حیثیت' اور' داعئی اسلام' غیر منقوط (نثر )زیر طبع ہیں۔
مذکورہ بالا تصنیفی کام کرتے ہوئے صادق بستوی نے صحافت کے میدان میں بھی قدم رکھ دیا۔ انھوں نے روزنامہ اردو ٹائمز ممبئی، روزنامہ مشرقی آواز گور کھپور ، روز نامہ قومی آواز، لکھنؤ کے نامہ نگار کی حیثیت سے صحافتی خدمات انجام دیں۔ گورکھپور سے روزنامہ' راپتی' نکلا تو اس کے ایڈیٹر بنائے گئے۔
انھوں نے اپنا ایک رسالہ 'نقوش حیات' کے نام سے نکالا جو عوام میں کافی مقبول ہوا۔ ان سب کاموں سے کئی حد تک معاشی مسئلہ حل ہوا' لیکن سب سے بڑا فائدہ یہ ہوا کہ ان کی شہرت خالص علمی حلقوں کے علاوہ دیگر عوامی حلقوں میں بھی بڑھنے لگی۔ اس شہرت کی وجہ سے ان کو بہت سے اداروں کا سرپرست اور رکن بنایا گیا۔ اس کے علاوہ ان کو آل انڈیا ریڈیوگورکھپور سے بھی پروگرام ملنے لگے۔ریڈیو پران کے پروگرام مولانا آزاد اور سیکولرزم، ادب وصحافت کا رشتہ ، مسلمانوں کی پسماندگی کا سبب (مباحثے) کفایت شعاری کا میاب زندگی ، بہادر شاہ ظفر : نغمہ خواں اجالوں کے ،جنگ آزادی میں علماء کا حصہ ، مجاہد آزادی مولانا رحم اللہ دریابادی ، اردو رسائل کا مستقبل، فلسفۂ صدقۂ فطر ، اردو مجلات اور ان کے مدیر ، قرآن امن عالم کا داعی (مقالات) اور میرا پیارا چمن: خلیل آباد (فیچر) کافی مقبول ہوئے۔
نوٹ: نماز جنازہ ان شاءاللہ آج ہی (15/دسمبر 2018) عصر کے بعد 04:15 بجے دریاباد میں ادا کی جائے گی۔