رپورٹ: محمد دلشاد قاسمی
ــــــــــــــــــــــــــــــــــ
کھیکڑہ/باغپت (آئی این اے نیوز11/جنوری 2019) ضلع باغپت کے قصبہ کھیکڑہ کی مین نالا پار بستی کے مدرسہ اداراہ ناصر الامت میں ششماہی امتحان منعقد کرائے گئے، جس میں قرب و جوار سے تشریف لائے ممتحن حضرات نے طلباء کا جائزہ لیا اور تعلیمی نظام پر اطمینان کا اظہار فرمایا.
اداراہ کے مہتمم قاری محمد نسیم صاحب نے نمائندہ کو اطلاع دیتے ہوئے بتایا کہ رواں سال کے بروز جمعرات مدرسہ ھذا کے طلباء کے امتحان کرائے گئے، جس میں باغپت سے مفتی محمد عاقل سراج مفتاحی نعمانی صاحب مہتمم مدرسہ دارالعلوم سراجیہ، اور مفتی محمد دلشاد قاسمی ناظم اعلی مدرسہ اسلامیہ انوارالاسلام روشن گڑھ، قاری محمد طارق فلاحی نمائندہ اخبار مشرق اسارہ سمیت دیگر مقامات سے ممتحن حضرات تشریف لائے، جنہوں نے جائزہ لیا ،اور خوشی کا اظہار فرمایا ،اور طلباء اور اساتذہ کی محنت کو سراہا اور خوب دعائیں دی.
بعد امتحان ایک مجلس منعقد کی گئی جس میں طلباء کو خطاب کیا گیا، مفتی محمد عاقل سراج مفتاحی نعمانی صاحب نے مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے ملک میں مدارس اسلامیہ یہ ہمارے اسلاف کی دین ہے اگر وہ جنگ آزادی میں حصہ نہ لیتے اور ملک و ملت کے قربانیان پیش نہ کرتے اور مدارس کا جال نہ بچھاتے تو شاید آج ہم مسلمان بھی نہ ہوتے، اس لیے یہ مدرسہ اللہ کی بہت بڑی نعمت ہے اور ان کی قدر کرنا اور علم دین کو حاصل کرکے اس کو پھیلانا یہ ہماری عین ذمہ داری ہے اس لیے تمام طلباء صحیح دل جمعی کے ساتھ اور لگن کے ساتھ علم دین حاصل کرے.
مفتی محمد دلشاد قاسمی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ علم کے حصول کے ادب شرط اول ھے،اس لیے اساتذہ کا والدین کا اپنے کا اپنے مدرسہ کا اپنی کتابوں کا ان سب چیزوں کا ادب بے حد لازمی ہے ورنہ تو پھر اس کو کسی بھی طرح علم دین حاصل ہونا محال ہے اس لیے اساتذہ اور کتابوں کے ادب کو لازمی سمجھے اور بےحد ادب بجا لائے.
آخر میں مفتی محمد عاقل سراج مفتاحی نعمانی صاحب کی دعاء پر مجلس کا اختتام ہوا.
اس موقع پر مفتی محمد رضوان قاسمی ناظم تعلیمات ادارہ ھذا، مولانا محمد راحل مفتاحی صاحب، قاری محمد فرمان صاحب و اہل بستی موجود رہے، آخر میں قاری محمد نسیم صاحب نے آنے والے مہمانوں کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا.
ــــــــــــــــــــــــــــــــــ
کھیکڑہ/باغپت (آئی این اے نیوز11/جنوری 2019) ضلع باغپت کے قصبہ کھیکڑہ کی مین نالا پار بستی کے مدرسہ اداراہ ناصر الامت میں ششماہی امتحان منعقد کرائے گئے، جس میں قرب و جوار سے تشریف لائے ممتحن حضرات نے طلباء کا جائزہ لیا اور تعلیمی نظام پر اطمینان کا اظہار فرمایا.
اداراہ کے مہتمم قاری محمد نسیم صاحب نے نمائندہ کو اطلاع دیتے ہوئے بتایا کہ رواں سال کے بروز جمعرات مدرسہ ھذا کے طلباء کے امتحان کرائے گئے، جس میں باغپت سے مفتی محمد عاقل سراج مفتاحی نعمانی صاحب مہتمم مدرسہ دارالعلوم سراجیہ، اور مفتی محمد دلشاد قاسمی ناظم اعلی مدرسہ اسلامیہ انوارالاسلام روشن گڑھ، قاری محمد طارق فلاحی نمائندہ اخبار مشرق اسارہ سمیت دیگر مقامات سے ممتحن حضرات تشریف لائے، جنہوں نے جائزہ لیا ،اور خوشی کا اظہار فرمایا ،اور طلباء اور اساتذہ کی محنت کو سراہا اور خوب دعائیں دی.
بعد امتحان ایک مجلس منعقد کی گئی جس میں طلباء کو خطاب کیا گیا، مفتی محمد عاقل سراج مفتاحی نعمانی صاحب نے مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے ملک میں مدارس اسلامیہ یہ ہمارے اسلاف کی دین ہے اگر وہ جنگ آزادی میں حصہ نہ لیتے اور ملک و ملت کے قربانیان پیش نہ کرتے اور مدارس کا جال نہ بچھاتے تو شاید آج ہم مسلمان بھی نہ ہوتے، اس لیے یہ مدرسہ اللہ کی بہت بڑی نعمت ہے اور ان کی قدر کرنا اور علم دین کو حاصل کرکے اس کو پھیلانا یہ ہماری عین ذمہ داری ہے اس لیے تمام طلباء صحیح دل جمعی کے ساتھ اور لگن کے ساتھ علم دین حاصل کرے.
مفتی محمد دلشاد قاسمی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ علم کے حصول کے ادب شرط اول ھے،اس لیے اساتذہ کا والدین کا اپنے کا اپنے مدرسہ کا اپنی کتابوں کا ان سب چیزوں کا ادب بے حد لازمی ہے ورنہ تو پھر اس کو کسی بھی طرح علم دین حاصل ہونا محال ہے اس لیے اساتذہ اور کتابوں کے ادب کو لازمی سمجھے اور بےحد ادب بجا لائے.
آخر میں مفتی محمد عاقل سراج مفتاحی نعمانی صاحب کی دعاء پر مجلس کا اختتام ہوا.
اس موقع پر مفتی محمد رضوان قاسمی ناظم تعلیمات ادارہ ھذا، مولانا محمد راحل مفتاحی صاحب، قاری محمد فرمان صاحب و اہل بستی موجود رہے، آخر میں قاری محمد نسیم صاحب نے آنے والے مہمانوں کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا.
