شیرگھاٹی/گیا(آئی این اے نیوز 11/جنوری 2019) عوامی اردو نفاذ کمیٹی مگدھ کمشنری، شیرگھاٹی اکائی کے زیر اہتمام مقامی مدرسة الہدیٰ میں یوم اردو تقریب کا انعقاد کیا گیا، جس میں علاقے کے دانشوران ملت نے الحاج غلام سرور کی یوم پیدائش پر انہیں خراج عقیدت پیش کیا، اور ان کی ادبی، صحافتی اور تحریکی خدمات پر اظہار خیال فرمایا، تقریب سے خطاب کرتے ہوئے عوامی اردو نفاذ کمیٹی مگدھ کمشنری کے صدر جمشید اشرف نے کہا کہ الحاج غلام سرور بہار میں اردو تحریک کو پروان چڑھانے میں جو قربانیاں پیش کی ہیں وہ ناقابل فراموش ہیں، ان کی ہی کد و کاوش کے نتیجے میں بہار میں اردو کو دوسری سرکاری زبان کا درجہ حاصل ہوا، انہوں نے صحافت سے لے کر سیاست تک ملی مسائل کو اولین ترجیح دیتے ہوئے عوام کے دلوں میں اپنی مقبولیت کے سکے بٹھائے، آج وہ ہمارے درمیان نہیں ہیں مگر ان کے جلائے ہوئے چراغ ہمارے لئے مشعل راہ ہیں۔
اس موقع پر جمشید اشرف نے اعلان کیا کہ عوامی اردو نفاذ کمیٹی کے زیر اہتمام اسی سال کے اپریل ماہ سے حمزہ پور اور شیرگھاٹی میں مفت اردو لرننگ کورس کا آغاز کیا جائے گا، جس میں بلا تفریق مذہب و ملت کوئی بھی داخلہ لے سکتا ہے۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے گاندھی آزاد پبلک اسکول کے پرنسپل حاجی ظہیر انور نے کہا کہ غلام سرور نے اردو کی جو تحریک چھیڑی تھی اس تحریک کو پھر سے زندہ کرنے کی ضرورت ہے، معروف سماجی و ملی رہنما عمران علی نے کہا کہ اردو ہماری شناخت ہے لہذا اسے محفوظ رکھنا ہماری اولین ذمہ داری ہے، ہم غلام سرور کی روشن کی ہوئی شمع کو محفوظ رکھنے کا عزم کرتے ہیں، کمیٹی کے فعال رکن سہراب خان نے غلام سرور کی ادبی، صحافتی و سیاسی خدمات پر پرمغز تقریر کی، انہوں نے کہا کہ غلام سرور مرحوم نے اردو اور اپنی قوم کے لئے جو قربانیاں پیش کی ہیں انہیں یاد کرنا وقت کا اہم تقاضا ہے، انہوں نے کہا کہ غلام سرور صحافت سے لے کر سیاست تک کا سفر کیا۔مگر انہوں نے کبھی حکومت کی غلامی نہیں کی، اپنی صحافت اور سیاست کے ذریعے انہوں نے اپنی قوم کی خدمت کی ہے۔
ماسٹر کلام الدین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ غلام سرور کی شخصیت ایک انقلابی شخصیت تھی، اردو تحریک کو جلا بخشنے میں انہوں نے نمایاں کارنامہ انجام دیا ہے، مریم اکیڈمی کے ڈائریکٹر حاجی ابو اریبہ عرف شبو نے کہا کہ آج اردو اپنے ہی گھر سے بے گھر ہوتی جارہی ہے، لہذا اس کی بقا و تحفظ کے لئے ہمیں غلام سرور کی تحریک کو سامنے رکھنا ہوگا، ان کے علاوہ سید راشد، ندیم اختر، امروز علی وغیرہ نے بھی خطاب کیا۔
اس موقع پر محمد علی، اشراق حمزہ پوری، رمان بدر، ایڈوکیٹ نسیم الدین وغیرہ موجود رہے، تمام شرکائے مجلس نے الحاج غلام سرور کی روشن کی ہوئی شمع کو باد مخالف جھونکوں سے محفوظ رکھنے کا عہد کیا، اور اردو کی ترویج و ترقی میں اہم کردار نبھانے کا حلف لیا۔
اس موقع پر جمشید اشرف نے اعلان کیا کہ عوامی اردو نفاذ کمیٹی کے زیر اہتمام اسی سال کے اپریل ماہ سے حمزہ پور اور شیرگھاٹی میں مفت اردو لرننگ کورس کا آغاز کیا جائے گا، جس میں بلا تفریق مذہب و ملت کوئی بھی داخلہ لے سکتا ہے۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے گاندھی آزاد پبلک اسکول کے پرنسپل حاجی ظہیر انور نے کہا کہ غلام سرور نے اردو کی جو تحریک چھیڑی تھی اس تحریک کو پھر سے زندہ کرنے کی ضرورت ہے، معروف سماجی و ملی رہنما عمران علی نے کہا کہ اردو ہماری شناخت ہے لہذا اسے محفوظ رکھنا ہماری اولین ذمہ داری ہے، ہم غلام سرور کی روشن کی ہوئی شمع کو محفوظ رکھنے کا عزم کرتے ہیں، کمیٹی کے فعال رکن سہراب خان نے غلام سرور کی ادبی، صحافتی و سیاسی خدمات پر پرمغز تقریر کی، انہوں نے کہا کہ غلام سرور مرحوم نے اردو اور اپنی قوم کے لئے جو قربانیاں پیش کی ہیں انہیں یاد کرنا وقت کا اہم تقاضا ہے، انہوں نے کہا کہ غلام سرور صحافت سے لے کر سیاست تک کا سفر کیا۔مگر انہوں نے کبھی حکومت کی غلامی نہیں کی، اپنی صحافت اور سیاست کے ذریعے انہوں نے اپنی قوم کی خدمت کی ہے۔
ماسٹر کلام الدین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ غلام سرور کی شخصیت ایک انقلابی شخصیت تھی، اردو تحریک کو جلا بخشنے میں انہوں نے نمایاں کارنامہ انجام دیا ہے، مریم اکیڈمی کے ڈائریکٹر حاجی ابو اریبہ عرف شبو نے کہا کہ آج اردو اپنے ہی گھر سے بے گھر ہوتی جارہی ہے، لہذا اس کی بقا و تحفظ کے لئے ہمیں غلام سرور کی تحریک کو سامنے رکھنا ہوگا، ان کے علاوہ سید راشد، ندیم اختر، امروز علی وغیرہ نے بھی خطاب کیا۔
اس موقع پر محمد علی، اشراق حمزہ پوری، رمان بدر، ایڈوکیٹ نسیم الدین وغیرہ موجود رہے، تمام شرکائے مجلس نے الحاج غلام سرور کی روشن کی ہوئی شمع کو باد مخالف جھونکوں سے محفوظ رکھنے کا عہد کیا، اور اردو کی ترویج و ترقی میں اہم کردار نبھانے کا حلف لیا۔
