میں اکیلا ہی چلا تھا جانب منزل مگر
راہ رو آتے گئے اور کارواں بنتا گیا
نبراس امین اعظمی
ـــــــــــــــــــــــــــــ
منگراواں/اعظم گڑھ(آئی این اے نیوز 12/جنوری 2019) تعلیم ہی انسان کو اعلی مقام اور جاہ و حشمت سے نوازتی ہے اور اسی کے ذریعہ سے انسان اوج ثریا پر پہونچتا ہے، بغیر علم کے انسان جانور سے بھی بدتر ہے اور اسی سلسلے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ "من سلك طریقا یلتمس فیه علما سھل الله له طریقا الی الجنة او کما قال علیہ الصلاۃ والسلام" علم کے ذریعہ آدمی ایمان ویقین کی دنیا آباد کرتا ہے، بھٹکی ہوئی انسانیت کو راہ راست کی طرف گامزن کرتا ہے، علم کی عظمت وفضیلت اسلام میں جس بلیغ ودل آویز انداز میں پائی جاتی ہے اس کی نظیر سے سارا عالم تہی وعاعی ہے، درس وتدریس تو گویا اس دین برحق کا جزو لا ینفک ہو، کسی بھی قوم وملک کی ترقی وخوشحالی کا دارومدار تعلیم ہی پر مرکوز ہے، اسی سلسلے کی ایک اہم کڑی الامین نیشنل اسکول منگراواں کی عمارت کی سنگ بنیاد عالمی شہرت یافتہ اسلامی اسکالر و جامعہ الفلاح کے سابق ناظم حضرت مولانا محمد طاہر مدنی صاحب کے بدست مبارک پوری ہوئی،
اس موقع پر مولانا مدنی نے معیاری اسکولوں کی ضرورت واہمیت کو بیان کرتے ہوئے کہا کہ تعلیمی ادارے ہی کسی قوم کا سب سے بڑا سرمایہ ہوتے ہیں انہیں احسن طریقے سے جاری رکھنا اور ان کی بقا کی فکر کرنا بھی ہماری اہم ذمہ داریوں میں سے ایک ہے، آج اس بات کی اشد ضرورت ہے کہ ہر طرف ایک مشن کے تحت معیاری تعلیم گاہیں قائم کی جائیں، جس میں نونہالان قوم کو اس طرح تیار کیا جائے کہ وہ ایک اچھے انسان کے ساتھ دنیوی دوڑ میں سبقت لے جانے والے ہوں، مولانا نے مزید کہا کہ ہم نے صرف اپنی علم وحکمت کے باعث دنیا پر کافی عرصے تک حکومت کی ہے جیسے جیسے یہ امت علم سے دور ہوتی ہوگئی اقتدار کی دولت بھی ہمارے ہاتھوں سے پھسلتی چلی گئی اور ہم اسی وقت اپنا کھویا ہوا وقار حاصل کر سکتے ہیں جب تعلیم کے میدان میں آگے آئیں گے اسی وقت ہماری عظمت رفتہ بحال ہو سکتی ہے، آج اس مادیت پرستی کے دور میں علم کی اہمیت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ چکی ہے تمام انسانی ترقی کی کلید علم ہی ہے، مولانا نے ادارے اور اسکے ذمہ داران کی شتائش کرتے ہوئے کہا کہ نئی نسل کی تعلیم وتربیت میں الامین نیشنل اسکول نے نمایاں کردار ادا کیا ہے، گزشتہ چار سالوں سے یہ ادارہ شاندار خدمات انجام دے رہا ہے منتظمین اور اساتذہ کی انتھک محنت رنگ لا رہی ہے، جس کے سبب سے ادارے کی مقبولیت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، سالانہ پروگروم میں طلبہ وطالبات کی پیشکش لائق تحسین ہوتی ہے، ابتک ادارہ کرائے کی عمارت میں اپنی خدمات انجام دے رہا تھا، بشکر اللہ اب ادارے کی اپنی عمارت کا تعمیری سلسلہ شروع ہو رہا ہے اس کار خیر میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینا ہمارا ملی فریضہ ہے، تعلیم کے ذریعہ ہی قوم کی ترقی کا خواب شرمندہ تعبیر ہوگا.
اسکول کے ڈائریکٹر احمد ریحان فلاحی نے کہا کہ ہمارا مقصد یہ ہے کہ بچوں کو دینی تعلیم کے ساتھ عصری تعلیم سے بھی واقفیت ہو اور معیاری اسکول بنانے کی راہ پر ہم گامزن ہوں، اس چار سال کی قلیل مدت میں لوگوں نے جو اعتماد دکھایا ہے ہم اسی اعتماد کو بحال رکھتے ہوئے اسے اور بہتر کرتے ہوئے آگے کا سفر جاری رکھنے کا قصد کرتے ہیں ہم تمام بہی خواہان خاص طور پر استاذ محترم مولانا محمد طاہر مدنی اور عظمت گروپ آف انسٹی ٹیوشن (Azmat group of institution) کے ممبران اور انتظامیہ کمیٹی کے ممبران کے شکر گزار ہیں کہ آج ہم جس مقام پر ہیں.
اس موقع پرحافظ مفید، مفتی شاھد مسعود قاسمی، مفتی ذیشان قاسمی، طاہر جمال، عارف اصلاحی، حسان منیب قاسمی، مفتی احمد نیاز قاسمی، ڈاکٹر ثروت عالم، ہاشم مہاپردھان، رشاد بسہمی، فہیم احمد، ابو عامر، عبداللہ، محمد عامر، شاہ عالم، محمد جاوید، محمد راشد، آفتاب عالم، راشد بسہمی، محمد اشہد، نبراس امین، محمد عمار، عادل، اسفر، حافظ ماجد سمیت کئی اسکولوں کے ذمے داران اور علاقے کے معزز افراد کثیر تعداد میں موجود رہے۔
