ہریانہ(آئی این اے نیوز 23/مارچ 2019) بروز جمعہ جمعیة علماء ہریانہ پنجاب وہماچل پردیش کے صدر مولانا یحییٰ کریمی کی نگرانی میں پنہانہ میں ورلڈ واٹر ڈے کے موقع پر پانی بچاؤ بیداری ریلی نکالی گئی، جس میں جمعیة یوتھ کلب کے بچوں کو خاص طور پر شامل کیا گیا جو بھارت اسکاؤٹ ٹریننگ یافتہ تھے کیونکہ آج کا بچہ ہی کل قوم کا معمار ہوگا اور وہی قوم و ملت کے رہنما ہوں گے۔
مولانا یحییٰ کریمی اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پانی انسانی زندگی کا سب سے اہم اور لازمی حصہ ہے کیونکہ مشہور حقائق کے مطابق دنیا کا 70 فیصد رقبہ آج بھی پانی پر مشتمل ہے اس کے برخلاف دنیا بھر میں پائے جانے والے مجموعی پانی کا صرف ایک فیصد حصہ ہی انسان کے لئے قابل استعمال ہے، کرۂ ارض کو چھوڑیں آپ Human Anatomy کی بات کریں تو انسانی جسم کا 60 فیصد پانی ہے۔
اسلامی نقطہ نظر سے پانی کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے حدیث رسول کا حوالہ دیا اور کہا کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی کے غلط استعمال کی وجہ سے پیدا ہونے والے مشاکل اور مسائل کو آج سے 1450 سال پہلے بھانپ لیا تھا اور امت کو آگاہ کرتے ہوئے ایک صحابی کو حکم دیا کہ ندی کے کنارہ بیٹھ کر بھی پانی کے استعمال میں اسراف نہ کریں۔
ان خیالات کا اظہار مولانا کریمی نے اقوام متحدہ کی طرف سے دنیا کے 193 ممبر ممالک میں ہر سال22 مارچ کو منائے جانے والے ورلڈ واٹر ڈے کے موقع پر ایک بیداری مہم کو خطاب کرتے ہوئے کیا۔
مولانا کریمی کا کہنا تھا کہ اس دن بیداری مہم کا مقصد گھر گھر یہ پیغام پہنچانا ہے کہ کس طرح دنیا بھر کے انسانوں کی صاف پانی تک رسائی، نکاسی آب اور انسانی صحت پر فوکس کیا جا سکتا ہے، قطرے قطرے سے دریا بنتا ہے لہٰذا پانی کا دانشمندانہ استعمال ہی ہم سب کے لئے اہم ترین چیز ہے۔ کیونکہ ہندی کی کہاوت "جل ہی جیون ہے- مبنی بر حقیقت ہے اور پانی بچائیں ملک بچائیں ہمارا سب سے بڑا نعرہ ہونا چاہیے کیوں کہ پانی بچانا انسانی زندگیوں کو بچانے کے مترادف ہے.
اس موقع پر اہم شرکاء مولانامحمد ارشد قاسمی صاحب ترواڑہ، مولانا منور حسن ٹھیک، مولانا محمد توفیق احمد قاسمی پھوسیتہ، مولانا محمد جمشید نولگڑھ، حافظ شبیر سرولی، ابراہیم بگھولا، ماسٹر جاوید بچھور، قاری محمد عارف و قاری شمیم، ماسٹر افضل ترواڑہ کا نام قابل ذکر ہے.
مولانا یحییٰ کریمی اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پانی انسانی زندگی کا سب سے اہم اور لازمی حصہ ہے کیونکہ مشہور حقائق کے مطابق دنیا کا 70 فیصد رقبہ آج بھی پانی پر مشتمل ہے اس کے برخلاف دنیا بھر میں پائے جانے والے مجموعی پانی کا صرف ایک فیصد حصہ ہی انسان کے لئے قابل استعمال ہے، کرۂ ارض کو چھوڑیں آپ Human Anatomy کی بات کریں تو انسانی جسم کا 60 فیصد پانی ہے۔
اسلامی نقطہ نظر سے پانی کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے حدیث رسول کا حوالہ دیا اور کہا کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی کے غلط استعمال کی وجہ سے پیدا ہونے والے مشاکل اور مسائل کو آج سے 1450 سال پہلے بھانپ لیا تھا اور امت کو آگاہ کرتے ہوئے ایک صحابی کو حکم دیا کہ ندی کے کنارہ بیٹھ کر بھی پانی کے استعمال میں اسراف نہ کریں۔
ان خیالات کا اظہار مولانا کریمی نے اقوام متحدہ کی طرف سے دنیا کے 193 ممبر ممالک میں ہر سال22 مارچ کو منائے جانے والے ورلڈ واٹر ڈے کے موقع پر ایک بیداری مہم کو خطاب کرتے ہوئے کیا۔
مولانا کریمی کا کہنا تھا کہ اس دن بیداری مہم کا مقصد گھر گھر یہ پیغام پہنچانا ہے کہ کس طرح دنیا بھر کے انسانوں کی صاف پانی تک رسائی، نکاسی آب اور انسانی صحت پر فوکس کیا جا سکتا ہے، قطرے قطرے سے دریا بنتا ہے لہٰذا پانی کا دانشمندانہ استعمال ہی ہم سب کے لئے اہم ترین چیز ہے۔ کیونکہ ہندی کی کہاوت "جل ہی جیون ہے- مبنی بر حقیقت ہے اور پانی بچائیں ملک بچائیں ہمارا سب سے بڑا نعرہ ہونا چاہیے کیوں کہ پانی بچانا انسانی زندگیوں کو بچانے کے مترادف ہے.
اس موقع پر اہم شرکاء مولانامحمد ارشد قاسمی صاحب ترواڑہ، مولانا منور حسن ٹھیک، مولانا محمد توفیق احمد قاسمی پھوسیتہ، مولانا محمد جمشید نولگڑھ، حافظ شبیر سرولی، ابراہیم بگھولا، ماسٹر جاوید بچھور، قاری محمد عارف و قاری شمیم، ماسٹر افضل ترواڑہ کا نام قابل ذکر ہے.
