تحریر: حضرت مولانا مفتی سید محمد عفان منصور پوری
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
ابھی تو نیوزی لینڈ کے دلخراش حادثہ کے نتیجے میں پچاس نمازیوں کے جاں بحق ہونے کا زخم بھی مندمل نہ ہوا تھا کہ آج نماز جمعہ سے فراغت کے بعد جب واٹس اپ کے پیغامات پر نظر پڑی تو اس خبر نے کچھ دیر کے لئے سکتہ میں ڈال دیا کہ پڑوسی ملک میں عالم اسلام کے نامور عالم دین حضرت مولانا مفتی تقی عثمانی صاحب مدظلہ العالی پر قاتلانہ حملہ کیا گیا ہے، پھر حضرت کے بعافیت ہونے کی خبر پڑھکر کچھ اطمینان سا ہوا اور بے ساختہ شکر کے کلمات زبان پر آگئے ۔
اس بزدلانہ حملہ میں گوکہ حضرت مولانا بہ فضل الہی محفوظ رہے مگر اطلاعات کے مطابق آپ کے ساتھیوں میں سے دو جام شہادت نوش کر گئے اور متعدد زخمی ہیں، باری تعالی مرحومین کی مغفرت فرمائے، ان کے لواحقین اور اہل خانہ کو صبر جمیل عطا فرمائے، زخمیوں کو جلد صحتیاب فرمائے اور حضرت مولانا کو دشمنوں کے شر، حاسدین کے حسد اور ناگہانی حوادث سے محفوظ فرمائے اور امت مسلمہ کو آپ کے بافیض وجود سے خوب خوب استفادے کے مواقع مرحمت فرمائے ۔
سمجھ میں نہیں آرہا ہے کہ ایک بے ضرر ، عالم با عمل، یکسو، سادہ مزاج، انسانیت کا درد رکھنے والی، جہاں دیدہ اور عالمی شخصیت کو نشانہ کیوں بنا گیا، آپ تو ان لوگوں میں سے ہیں جو اپنی پاک فطرت کے مطابق بروں کا بھی برا نہیں چاہتے، جن کے زبان و قلم اور اسلامی کردار سے متاثر ہوکر نہ جانے کتنے دلوں کی دنیا بدلی، کتنے جھگڑے مٹے اور کتنے لوگ راہ راست پر آئے ۔
ہم یہ سمجھتے ہیں کہ حضرت مولانا پر حملہ دراصل دنیا بھر کے طبقہ علماء، دینی مزاج رکھنے والے افراد اور انصاف پسندوں کے لئے چیلنج ہے ۔
برا ہو ان بد نصیبوں کا جنہوں نے یہ گھناؤنا قدم اٹھاکر اپنے ناپاک ارادوں کا اظہار کیا اور ملت اسلامیہ کو گہرے رنج و الم ، اور قلق و بے چینی میں مبتلا کردیا ۔
حکومت پاکستان اور اس کے تفتیشی اداروں کو اس واقعہ کا گہرائی سے جائزہ لیکر جلد از جلد حملہ آوروں تک رسائی حاصل کرکے ان کو عبرت ناک سزا دینی ہوگی اور ان طاقتوں کا بھی سراغ لگانا ہوگا جن کے آلہ کار بن کر یہ انسان نما درندے کسی کو بھی نشانہ بنالیتے ہیں ۔
پاکستان میں یہ واقعہ کوئی نیا نہیں ھے اس سے پہلے بھی کئی معتبر و مقتدر علماء کرام نامعلوم بندوق برداروں کی دھشت گردی کا نشانہ بن کر جام شھادت نوش کرچکے ہیں مگر افسوس اس بات پر ہے کہ برسوں گزر جانے کے بعد بھی قاتلوں کا کوئی سراغ نہ لگ سکا یہ انٹلی جینس اور حکومتی اداروں کی کھلی ناکامی ہے اگر پہلے ہی بر وقت اقدام کیا گیا ہوتا تو شاید آج کا یہ حد درجہ قابل مذمت واقعہ رونما نہ ہوا ہوتا ۔
بہر حال ھند و پاک ہی نہیں دنیا بھر کے علماء ، دینی درد رکھنے والے افراد ، اور حضرت مفتی صاحب دامت برکاتھم کے بالواسطہ یا بلا واسطہ شاگرد و فیض یافتگان اس واقعہ سے بہت متاثر ہیں اور دعا گو ہیں کہ باری تعالی صحت و عافیت کے ساتھ حضرت والا کے سایہ عاطفت کو دراز فرمائے اور ہر مکروہ سے حفاظت فرمائے ۔آمیـن
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
ابھی تو نیوزی لینڈ کے دلخراش حادثہ کے نتیجے میں پچاس نمازیوں کے جاں بحق ہونے کا زخم بھی مندمل نہ ہوا تھا کہ آج نماز جمعہ سے فراغت کے بعد جب واٹس اپ کے پیغامات پر نظر پڑی تو اس خبر نے کچھ دیر کے لئے سکتہ میں ڈال دیا کہ پڑوسی ملک میں عالم اسلام کے نامور عالم دین حضرت مولانا مفتی تقی عثمانی صاحب مدظلہ العالی پر قاتلانہ حملہ کیا گیا ہے، پھر حضرت کے بعافیت ہونے کی خبر پڑھکر کچھ اطمینان سا ہوا اور بے ساختہ شکر کے کلمات زبان پر آگئے ۔
اس بزدلانہ حملہ میں گوکہ حضرت مولانا بہ فضل الہی محفوظ رہے مگر اطلاعات کے مطابق آپ کے ساتھیوں میں سے دو جام شہادت نوش کر گئے اور متعدد زخمی ہیں، باری تعالی مرحومین کی مغفرت فرمائے، ان کے لواحقین اور اہل خانہ کو صبر جمیل عطا فرمائے، زخمیوں کو جلد صحتیاب فرمائے اور حضرت مولانا کو دشمنوں کے شر، حاسدین کے حسد اور ناگہانی حوادث سے محفوظ فرمائے اور امت مسلمہ کو آپ کے بافیض وجود سے خوب خوب استفادے کے مواقع مرحمت فرمائے ۔
سمجھ میں نہیں آرہا ہے کہ ایک بے ضرر ، عالم با عمل، یکسو، سادہ مزاج، انسانیت کا درد رکھنے والی، جہاں دیدہ اور عالمی شخصیت کو نشانہ کیوں بنا گیا، آپ تو ان لوگوں میں سے ہیں جو اپنی پاک فطرت کے مطابق بروں کا بھی برا نہیں چاہتے، جن کے زبان و قلم اور اسلامی کردار سے متاثر ہوکر نہ جانے کتنے دلوں کی دنیا بدلی، کتنے جھگڑے مٹے اور کتنے لوگ راہ راست پر آئے ۔
ہم یہ سمجھتے ہیں کہ حضرت مولانا پر حملہ دراصل دنیا بھر کے طبقہ علماء، دینی مزاج رکھنے والے افراد اور انصاف پسندوں کے لئے چیلنج ہے ۔
برا ہو ان بد نصیبوں کا جنہوں نے یہ گھناؤنا قدم اٹھاکر اپنے ناپاک ارادوں کا اظہار کیا اور ملت اسلامیہ کو گہرے رنج و الم ، اور قلق و بے چینی میں مبتلا کردیا ۔
حکومت پاکستان اور اس کے تفتیشی اداروں کو اس واقعہ کا گہرائی سے جائزہ لیکر جلد از جلد حملہ آوروں تک رسائی حاصل کرکے ان کو عبرت ناک سزا دینی ہوگی اور ان طاقتوں کا بھی سراغ لگانا ہوگا جن کے آلہ کار بن کر یہ انسان نما درندے کسی کو بھی نشانہ بنالیتے ہیں ۔
پاکستان میں یہ واقعہ کوئی نیا نہیں ھے اس سے پہلے بھی کئی معتبر و مقتدر علماء کرام نامعلوم بندوق برداروں کی دھشت گردی کا نشانہ بن کر جام شھادت نوش کرچکے ہیں مگر افسوس اس بات پر ہے کہ برسوں گزر جانے کے بعد بھی قاتلوں کا کوئی سراغ نہ لگ سکا یہ انٹلی جینس اور حکومتی اداروں کی کھلی ناکامی ہے اگر پہلے ہی بر وقت اقدام کیا گیا ہوتا تو شاید آج کا یہ حد درجہ قابل مذمت واقعہ رونما نہ ہوا ہوتا ۔
بہر حال ھند و پاک ہی نہیں دنیا بھر کے علماء ، دینی درد رکھنے والے افراد ، اور حضرت مفتی صاحب دامت برکاتھم کے بالواسطہ یا بلا واسطہ شاگرد و فیض یافتگان اس واقعہ سے بہت متاثر ہیں اور دعا گو ہیں کہ باری تعالی صحت و عافیت کے ساتھ حضرت والا کے سایہ عاطفت کو دراز فرمائے اور ہر مکروہ سے حفاظت فرمائے ۔آمیـن
