اتحاد نیوز اعظم گڑھ INA NEWS: نیوزی لینڈ میں دو مسجدوں میں دھشت گردانہ حملہ، مسلم ممالک کا صرف مذمتی بیان، افســـوس!

اشتہار، خبریں اور مضامین شائع کرانے کیلئے رابطہ کریں…

9936460549, 7860601011, http://www.facebook.com/inanews.in/

Sunday, 17 March 2019

نیوزی لینڈ میں دو مسجدوں میں دھشت گردانہ حملہ، مسلم ممالک کا صرف مذمتی بیان، افســـوس!


ڈاکٹر محمد عمار خان
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــ
کل نیوزی لینڈ کے پر امن شہر کرائسٹ چرچ کی دو مسجدوں  مسجد النور اور مسجد لن وڈ میں نماز جمعہ کے دوران منظم منصوبندی کے تحت لائیو دہشت گردی  ظلم۔وبربریت کی ایک نئی عبارت لکھی گئی اور براہ راست اس دہشتگرانہ بزدلانہ عمل کو شوشل میڈیا پر نشر کیا جسے دیکھ کر ہر آنکھ اشکبار اور ہر دل غمگین ہوگیا.
دہشت گرد جدید ہتھیاروں کے ذریعہ نہتے مسلمان جو اللہ کی عبادت میں مشغول تھے گولیوں کی ایسی بارش کی مانو انسان نہیں بلکہ کیڑے مکوڑے ہو اور اسکے ہاتھ میں گن نہیں بلکہ ہٹ ہو  خدا غارت کریں ہر اس ملعون جو اس حملہ میں کسی طرح بھی شریک رہا ہو یہ دہشتگردانہ حملہ پہلی بار نہیں ہوا بلکہ ماضی میں  بھی ایسا ہوتا آیا ہے فرق ہے تو جگہ کا جگہ  مسجد مقتول مسلمان دن جمعہ وقت نماز مقتولین کے ہاتھوں میں قران  اور سارے مقتولین مسلمان ذرا اپنے قیمتی اوقات میں تھوڑا سا وقت نکال کر ماضی میں دیکھے  سوچئے اگر یہ بربریت وحشیانہ عمل مسجد کے علاوہ کسی اور عبادت گاہ پر ہوتا تو کیا نیشنل  یا انٹرنیشنل میڈیا پر ایسی ہی خاموشی نظر آتی نہیں قطعاً نہیں بلکہ اب تک تو بریکنگ نیوز چلتی ماسٹر مائنڈ کی تصویریں ٹی وی کی بڑی بڑی اسکرینوں پر چلتی بلکہ دنیا کی تمام ہیومن رائٹس تنظیمیوں کا سکون غارت ہو گیا ہو تا  ایمرجنسی اجلاس منعقد ہوتے اور دہشت گردوں کے ٹھکانوں تلاش کرکے بمباری کرنے کا ایکشن  پلان تیار ہوتا  مگر    افسوس اس بات کا ہے  ہمارے مسلم ممالک بھی صرف مذمتی بیان شائع کرکے اپنے فرا ئض سے سبکدوش ہو لئے  ہمار ے ملک کے موم بتی گروپ بھی ہندوستانی  الیکشن کو مد نظر مصلحتاً خاموش تماشائی بنے دور سے واچ کر رہی ہیں ہمارے ملک کے  لیڈران تو میرٹھ کے سانحہ پر کچھ بولنے اور جانے کو مناسب نہیں سمجھ رہے کہ کہیں ہمارا ووٹ پولوراِز نہ ہو جائے تو نیوزی لینڈ تو بہت دور ہے  آج جب دہشتگرد کا مذہب قوم ملک سب کچھ ثابت ہو گیا تو اسے ایک ذہنی مریض ثابت کیا جارہاہے، مگر سابقہ روایات کے مطابق نہ تو اس جیسے لباس، شکل و صورت  والے شک کی نظر سے دیکھے جارہے ہیں نہ تو اسکی قوم کو کوئی مائی کا لا ل دہشت گرد کہنے کی ہمت جٹاپارہا ہے نہ ہی اسکے ملک کو زودکوب کیا جارہا ہے، نہ جانے کب وہ وقت آئے گا جب مسلمان متحد ہونگے، نہ جانے کب مذمتی بیان سے آگے بڑھ کر مستقبل کے لئے عملی کوشش کریں گے، اللہ ہم تمام مسلمانوں میں اتحاد پیدا فرما.آمیـن