اتحاد نیوز اعظم گڑھ INA NEWS: گلستانِ ادب کی پہلی شعری نشست کا انعقاد!

اشتہار، خبریں اور مضامین شائع کرانے کیلئے رابطہ کریں…

9936460549, 7860601011, http://www.facebook.com/inanews.in/

Tuesday, 19 March 2019

گلستانِ ادب کی پہلی شعری نشست کا انعقاد!

رپورٹ:محمد عارف شبلی
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
لکھنؤ(آئی این اے نیوز 19/مارچ 2019) گلستان ادب کی پہلی شعری نشست کا انعقاد بمقام سہیلی 1/788 جانکی پورم، سیکٹر ایچ، لکھنؤ میں ہوا، جس کی صدارت جناب ڈاکٹر طارق فراز صاحب نے فرمائی، اس شعری نشست کا آغاز جناب عرفان صدیقی صاحب، جناب غلام جیلانی صاحب اور جناب محمد عارف صاحب کی حمد پاک سے ہوا.
پھر اس کے بعد جناب عارف ندوی صاحب اور یونس پرتاپ گڑھی نے نعت پاک پڑھ کر بارگاہِ رسالت میں نذرانہ عقیدت پیش کیا، بعدہ طالب علم شعراء نے سامعین کے دل و دماغ کو سنجیدہ و مزاحیہ اشعار سے محظوظ کیا،
اس نشست میں خاص طور پر جن لوگوں نے شرکت کی ان سب کا تذکرہ کرنا تو میرے لئے مشکل ہے لیکن ان میں سے خاص طور پر جناب محمد راشد صاحب (ریسرچ اسکالر، لکھنؤ یونیورسٹی)، جناب ابو نعمان اعظمی اصلاحی، جناب طارق عزیز بلرام پوری، جناب نفیس چودھری صاحب اور جناب محمد ساجد صاحب قابل ذکر ہیں.
شعری نشست کے آخری دور میں بیت بازی کا ایک شاندار مقابلہ طے پایا۔
جس کے حکم جناب ڈاکٹر طارق فراز صاحب اور جناب ابو نعمان اصلاحی صاحب رہے.
اس مقابلے میں عظیم الدین اشرف اسلامیہ انٹر کالج بارہ بنکی کی جانب سے "خمار بارہ بنکوی" نامی ٹیم میں محمد انس اور محمد عارف ندوی نے، حضرت فاطمہ انٹرکالج صالح پور سنت کبیر نگر کی جانب سے "جون ایلیا" نامی ٹیم میں مقصود احمد اور محمد شاداب نے، انٹیگرل یونیورسٹی لکھنؤ کی جانب سے "مجاز لکھنوی" نامی  ٹیم میں طارق عزیز اور نبیل مجتبیٰ نے شرکت کی، خواجہ معین الدین چشتی اردو عربی فارسی یونیورسٹی کی جانب سے تین ٹیمیں شامل ہوئیں. جس میں "فراز احمد فراز" نامی ٹیم میں محمد عارف شبلی اور یونس آتش پرتاپ گڑھی نے، "بشیر بدر" نامی ٹیم میں غلام جیلانی اور محمد ساجد نے، "مومن خاں مومن" نامی ٹیم میں عظیم اللہ اور محمد حذیفہ نے شرکت کی، اس طرح دو دو افراد پر مشتمل کل چھ ٹیمیں شامل ہوئیں،  یوں تو بیت بازی کے سارے مقابلے شاندار، دلچسپ، قابل دید، اور لائق سماعت تھے۔ ٹیموں کے مابین مقابلہ  اس قدر سخت تھا کہ حکم صاحبان کے لئے کسی ایک ٹیم کے حق میں فیصلہ کرنا دشوار ہو گیا تھا لیکن وہی ہوتا ہے جو منظور خدا ہوتا ہے آخرکار فراز احمد فراز اور مومن خاں مومن نامی ٹیم کے درمیان فائنل طے پایا۔ فائنل مقابلے میں یوں تو کئی اتار چڑھاؤ آئے لیکن مومن خاں مومن ٹیم کی کشتی وہاں ڈوبی جہاں اس کے پاس لفظ جزدان سے کوئی شعر نہیں تھا اس کے بعد فراز احمد فراز نامی ٹیم سے یونس آتش پرتاپ گڑھی نے مسکراتے ہوئے پڑھا کہ
 کالی کملی لگے جزدان رسول عربی
 آپ کا چہرہ ہے قرآن رسول عربی
اور پھر فیصلے کے لیے حکم صاحبان کی راہ آسان ہو گئی۔ اس طرح فاتح کا خطاب فائنل کی مضبوط دعویدار عارف شبلی اور یونس آتش پرتاپ گڑھی کے نام رہا۔
اخیر میں صدر محفل جناب ڈاکٹر طارق فراز صاحب نے اردو زبان کا فروغ اور ہماری ذمے داریاں جیسے اہم مسئلے پر طلبہ سے تبادلہ خیال کیا اور پروگرام میں شریک تمام سامعین اور اراکین بزم کا یہ کہتے ہوئے شکریہ ادا کیا کہ
اس انجمن میں آپ کو آنا ہے بار بار
دیوارودر کو غور سے پہچان لیجئے