احتشام الحق مظاہری
ـــــــــــــــــــــــــــــــــ
آج یہ روح پرور خبر سنتے ہی فرحت وشادمانی محسوس کررہا ہوں کہ چمنستان علم و معرفت، گلشن دین اسلام، گہوارہ رشدو ھدایت. باغ رسالت ، منبع توحید وسنت، مرکز اہل سنت والجماعت مدرسہ عربیہ مصباح العلوم روضہ ضلع سنت کبیر نگر یوپی میں ایک روزہ عظیم الشان اجلاس عام بڑے تزک واحتشام، کرو فر، ٹھاٹھ باٹ کے ساتھ ( یکم اپریل2019 بروز دوشنبہ بعد نماز عشاء ) زیر صدارت عاشقِ یزداں، سربراہ عارفاں، فدائے فخر رسولاں، خلاصۃ الازکیاء، مردِ خدا، مینارِ ہدا، صوفئ باصفا، بانئِ میخانہ حضرت اقدس الحاج مولانا مقبول احمد صاحب جونپوری دامت برکاتہم العالیہ، زیر سرپرستی مخدوم امت، خادم ملت، پیر طریقت، ماہر شریعت، عارف باللہ، جنید وقت، اویس زماں، شبلئ دوراں، حضرت اقدس الحاج مولانا قمر الزماں صاحب الہ آبادی دامت برکاتہم العالیہ، زیر قیادت و سیادت ،رہبرِ دوراں ،عاشق ذوالمنن، ، خادم دین وطن،نازشِ علم و فن،زینتِ انجمن،رشکِ خورشیدِ گگن،صاحبِ فضل و کمال معرفت کے جامِ زلال، عاشقِ ذوالجلال، حضرت الاستاذ مولانا ابوالکلام صاحب حماد مظاھری دامت برکاتہم العالیہ ناظم اعلی مادرعلمی مدرسہ عربیہ بستان العلوم پولی منعقد ہو رہا ہے.
اسی مزدۂ جانفزاں کے ساتھ دل گلشنِ علمی مصباح العلوم کی عکاسی کرنے پر مجبور ہے، یہ ناچیز اپنی حرما نصیبی اور شومئ قسمت پر آنسو بہارہا ہے کہ اتنی قربت کے باوجود بھی پانچ سال قبل اس گلشنِ علی میں چند ساعتوں کا گزر اور صرف ایک مرتبہ حضرت والا کی خدمت میں حاضری کا شرف حاصل ہوا، یہی لمحات آپ کی نظر نواز کررہا ہوں.
گلشنِ علمی مدرسہ مصباح العلوم روضہ کو آیت قرآنیہ (بواد غیر ذی زرع) سے تعبیر کرنا مناسب معلوم ہو رہا ہے، کیونکہ جس وقت بانئِ میخانہ حضرت مالانا مقبول احمد صاحب جونپوری دامت برکاتہم العالیہ نے اپنے وطن سے رخت سفر باندھا اور ایک ناخواندہ، اور پس ماندہ ،گاؤں روضہ (مہولی ضلع سنت کبیر نگر) میں فروکش ہوئے. چناچہ اس گوہر بے بہانے ،یہی عزم ذہن و دماغ میں مرتسم کئے ہوئے کہ اس سنگلاخ سر زمین میں کس طرح گلشن علم کے اس گلِ رعناکو ڈھونڈھ نکالیں، چناچہ دلوں میں یہی الوالعزمی و ثبات قدمی ،اور عزم و استقلال کا جزبۂ بیکراں لے کر اطراف و اکناف میں پیادہ پا اسفار شروع فرما دیا، پاؤں میں چھالے پڑ کر پھوٹ جاتے، پاؤں تھک جاتے لیکن ان کے سمندِ عزم کی رفتار ذرا بھی کم نہ ہوتی اور ہر گام تازہ دم ، اور ہر قدم تیز رو ہوتے رہتے، چنانچہ حضرت والا علم دین کے اس چراغ کو روشن کر نے کے لئے جب کسی مہم پر روانہ ہوتے، تو جزبۂ اخلاص ان کا رہنماء، استقلال انکی طبیعت پر غالب، استقامت انکی رہ گزر کے لئے سنگ میل، ثبات قدمی انکے قدموں پر نثار، رکاوٹوں کا کوہ ہمالہ ان کی گردِ راہ، للہیت ان کا زادِ سفر تقوی و طہارت توشۂ مرغوب ، خوف خدا وندی ہر آن دامن گیر ، سر کشوں کو رام کرنے کےلئے آخرت میں باز پرسی کا احساس ،،غمزدوں کے لئے ایثار و وفا بطورِ تحفہ، مہر الفت کا دلرباء ہربہ، شفقتوں و محبتوں سے لبریز اندازِ دعوت و تبلیغ، دلوں کو موہ لینے والا طرز تکلم ،خوابیدہ نصیبوں کو بیدار کرنے والا وعظ، آخرت سے سینوں کو معمور کرنے والی تقریر ، نرم خوئی و سہل گوئی کا برتاؤ، سنگ دلوں کو موم بنانے والا پُر اثر بیان، خدمتِ خلق کا حوصلہ ، حق گوئی کا بوزرانہ ولولہ، زہد و قناعت کا اویسانہ پیرہن، ذیب تن ہوتا، غرض یہ کہ ایک مخلص وہمدرد، صادق القول ، اور کامل الیقین داعی و مبلغ کے جتنے اچھے اوصاف ہوسکتے ہیں سب ان میں بدرجۂ اتم پائے جاتے ہیں.
حضرت کی علمی اور تعلمی خدمات کا دائرہ بہت وسیع ہے، اگر میں یہ کہوں کی ان کی ذات میں علم و معرفت، ایثار و قربانی، درس و تدریس ،کا ایک عالم اکبر آباد ہے تو بلکل بجا ہے، یہی وجہ ہے کہ حضرت والا دامت برکاتہم کی انتھک کوششیں ، جانفشانہ محنتیں، مخلصانہ دعوتیں، داعیانہ صلاحیتین، شب و روز کی دعائیں، اور پے بہ پے تگ و دو رنگ لائی، چناچہ اسی (روضہ ضلع سنت کبیر نگر) کہ سرزمیں پر ایک چراغ جلا اور جلتا چلاگیا، ایک آفتاب چمکا اور اسکی شعائیں پر نور یوتی چلی گئیں، ایک پھول کھلا اور خوشبؤں سے معطر کرنے لگا، سبزہ لہلہایا اور آسمان کی بلندیوں کو چھوگیا.
حضرت والا کی ہمہ گیر شخصیت سے سارے روضہ اور اسکے اطراف و اکناف کے لوگ بے حد متاثر ہوئے اور ان پر جان چھڑکنے لگے، خستہ حال مسلمانوں نے اپنے نونہالوں اور جگر کے ٹکڑوں کو دینی تعلیم کے لئے حضرت کے حوالے کردیا اور طالبانِ علم درِ مقبولی پر جوق در جوق آنے لگے.
یوں تو ضلع سنت کبیر نگر کے تمام ھی دہی علاقہ سے بچے آتے ہیں لیکن روضہ اور اسکے اطراف کے گاؤں زیادہ قابل ذکر ہیں.
مصباح العلوم کی تاسیس میں حضرت کا خلوص اینٹ کے طور پر ورع و تقوی گارے کی شکل، اور للہیت پلاشٹر کے روپ میں شامل ہے، یہی وجہ ہے کہ وہ ننھا منا پودا جو چھپر اور مٹی کے چند کمروں کی شکل میں لگایا گیا تھا آج ایک عظیم تن آور سایہ داردرخت کی صورت میں جلوہ گر ہے، جس کی علمی پھل دار شاخیں ضلعی و صوبائی اور ملکی سے متجاوز ہوکر پورے ایشیاء کے طول عرض میں چھول رہی ہے ،جس کے عرفانی و نورانی چھاؤں میں بیٹھ کر سیکڑوں میکشانِ علم و معرفت اپنی علمی تشنگی بجھارہے ہیں، اور قل اللہ قال الرسول کی جاں نواز و دلبر صداؤں سے انسانیت کےمشام جان کو معطر کررہے ہیں، حضرت کے صدقات جاریہ کی فہرست میں مصباح العلوم بھی بطور خاص داخل و شامل ہے.
صدقۂ جاری تجھے کام آئیگا محشر کے روز
مستحقِ خلد بن کر آئیگا محشر کے روز
چنانچہ یکم اپریل کو منعقد ہونے والے اس عظیم الشان اجلاس عام کی تیاریوں کو خود بانئِ میخانہ اور محبانِ مصباح العلوم برویکار لانے میں ہر آن کوشاں ہیں، ان شاء اللہ جو ایک نورانی شب کی شکل میں جلوہ گر ہوگی ایسی زمین پر رحمت و نور کی موسلہ دھار بورش کیوں نہ ھو جہاں ایسے ایسے عارفِ رحماں نائبِ فخرِرسولاں کی آمد ھو ،
الحمدللہ راقم نے خود مادر علمی معین الاسلام چھتہی اور بستان العلوم پولی میں حصولِ علم کے دوران مصباح العلوم روضہ کے کئی ایک اجلاس عام میں اس فرحت بخش منظر کی۔منظر کشی کی ہے کہ عین جلسہ کے وقت کا وہ پر کیف سما ،در و دیوار، یہاں تک کہ درختوں پر معلق شدہ قمقمے ہر چہار جانب سے انسانی مجسمہ کی شکل میں امڈتا ہوا سیلاب اسی گلشن علمی کی جانب اس قدر بڑھتا ہوا چلا جاتا ہے، ہر ایک کی نگاہیں انہیں وارثان انبیاء کی طرف اس قدر ہوتی ہیں جیسے یہ اپنے درد کا درماں تلاش کرنے جمع ہوئے ہوں، اور یہ محسوس کررہے ہوں کہ جب تک یہ دنیاں اسلام کے قدموں میں گر کر اپنے درد کا درماں تلاش نھیں کریگی، اس وقت تک دکھوں، محرومیوں ، لپکتے ہوئے شعلوں اور سگتے ہوئے داغوں کے سوا اسکے حصہ میں کچھ نہیں آئیگا، کیونکہ دنیا انسان کے لیے آرام گاہ نہیں ہے جس میں وہ مزے اڑانے کے لیے پیدا کیا گیا ہو، بلکہ یہاں اس کی پیدائش ہی مشقت کی حالت میں ہوئی ہے، اس بات کو اگر سورۂ نجم کی آیت 39 (لیس للانسان الا ما سعٰی) کے ساتھ ملا کر دیکھا جائے تو بات بالکل واضح ہو جاتی ہے کہ اس کارگاہ دنیا میں انسان کے مستقبل کا انحصار اس کی سعی و کوشش اور محنت و مشقت پر ہے۔
حضرت والا کا اس اجلاس کے قائم کرنے کا سب سے بڑا مقصد یہی ھے کہ اس اجلاس کے ذریعہ پوری انسانیت کو یہ پیغام دیا جائے کہ اخلاص و للہیت کے ساتھ اللہ کو راضی کرنے کے جزبے سے جب کام کیا جاتا ھے تو اللہ کی مدد شامل حال ہوتی ہے اللہ اس میں ترقی اور برکت عطا فرماتے ہیں
گویا مصباح العلوم کی مثال اب ایسی ہوگئی ہے آیت قرآنی (کشجرۃ طیبۃ اصلھا ثابۃ و فرعھا فی السماء) کہ ایک پاکیزہ درخت ھے جس کی جڑ تو زمین کے اندر لیکن اسکی شاخیں آسمان کی بلندی کو چھو رہی ہے.
میں شکر گزار ہوں حضرے والا کااور مصباح العلوم کے تمام اساتذۂ صغار و کبار کا کہ آپ نے اس خوبصورت بزم کا انعقاد کیا اور ملک کے مؤقر علمائے ربانین کی شرکت قابل صد افتخار سمجھا.
اللہ تعالی سے دعاء کہ اللہ آپ کے سائے کو ہمارے اُپر اور اس تن آور درخت کے اپر تادیر قائم و دائم رکھے اور حاضرین بزم کے ایک ایک فرد کو قبول فرمائے اور اس نورانی اجلاس کو کامیابی کہ منزل سے بہرور فرمائے، آمیـن
ـــــــــــــــــــــــــــــــــ
آج یہ روح پرور خبر سنتے ہی فرحت وشادمانی محسوس کررہا ہوں کہ چمنستان علم و معرفت، گلشن دین اسلام، گہوارہ رشدو ھدایت. باغ رسالت ، منبع توحید وسنت، مرکز اہل سنت والجماعت مدرسہ عربیہ مصباح العلوم روضہ ضلع سنت کبیر نگر یوپی میں ایک روزہ عظیم الشان اجلاس عام بڑے تزک واحتشام، کرو فر، ٹھاٹھ باٹ کے ساتھ ( یکم اپریل2019 بروز دوشنبہ بعد نماز عشاء ) زیر صدارت عاشقِ یزداں، سربراہ عارفاں، فدائے فخر رسولاں، خلاصۃ الازکیاء، مردِ خدا، مینارِ ہدا، صوفئ باصفا، بانئِ میخانہ حضرت اقدس الحاج مولانا مقبول احمد صاحب جونپوری دامت برکاتہم العالیہ، زیر سرپرستی مخدوم امت، خادم ملت، پیر طریقت، ماہر شریعت، عارف باللہ، جنید وقت، اویس زماں، شبلئ دوراں، حضرت اقدس الحاج مولانا قمر الزماں صاحب الہ آبادی دامت برکاتہم العالیہ، زیر قیادت و سیادت ،رہبرِ دوراں ،عاشق ذوالمنن، ، خادم دین وطن،نازشِ علم و فن،زینتِ انجمن،رشکِ خورشیدِ گگن،صاحبِ فضل و کمال معرفت کے جامِ زلال، عاشقِ ذوالجلال، حضرت الاستاذ مولانا ابوالکلام صاحب حماد مظاھری دامت برکاتہم العالیہ ناظم اعلی مادرعلمی مدرسہ عربیہ بستان العلوم پولی منعقد ہو رہا ہے.
اسی مزدۂ جانفزاں کے ساتھ دل گلشنِ علمی مصباح العلوم کی عکاسی کرنے پر مجبور ہے، یہ ناچیز اپنی حرما نصیبی اور شومئ قسمت پر آنسو بہارہا ہے کہ اتنی قربت کے باوجود بھی پانچ سال قبل اس گلشنِ علی میں چند ساعتوں کا گزر اور صرف ایک مرتبہ حضرت والا کی خدمت میں حاضری کا شرف حاصل ہوا، یہی لمحات آپ کی نظر نواز کررہا ہوں.
گلشنِ علمی مدرسہ مصباح العلوم روضہ کو آیت قرآنیہ (بواد غیر ذی زرع) سے تعبیر کرنا مناسب معلوم ہو رہا ہے، کیونکہ جس وقت بانئِ میخانہ حضرت مالانا مقبول احمد صاحب جونپوری دامت برکاتہم العالیہ نے اپنے وطن سے رخت سفر باندھا اور ایک ناخواندہ، اور پس ماندہ ،گاؤں روضہ (مہولی ضلع سنت کبیر نگر) میں فروکش ہوئے. چناچہ اس گوہر بے بہانے ،یہی عزم ذہن و دماغ میں مرتسم کئے ہوئے کہ اس سنگلاخ سر زمین میں کس طرح گلشن علم کے اس گلِ رعناکو ڈھونڈھ نکالیں، چناچہ دلوں میں یہی الوالعزمی و ثبات قدمی ،اور عزم و استقلال کا جزبۂ بیکراں لے کر اطراف و اکناف میں پیادہ پا اسفار شروع فرما دیا، پاؤں میں چھالے پڑ کر پھوٹ جاتے، پاؤں تھک جاتے لیکن ان کے سمندِ عزم کی رفتار ذرا بھی کم نہ ہوتی اور ہر گام تازہ دم ، اور ہر قدم تیز رو ہوتے رہتے، چنانچہ حضرت والا علم دین کے اس چراغ کو روشن کر نے کے لئے جب کسی مہم پر روانہ ہوتے، تو جزبۂ اخلاص ان کا رہنماء، استقلال انکی طبیعت پر غالب، استقامت انکی رہ گزر کے لئے سنگ میل، ثبات قدمی انکے قدموں پر نثار، رکاوٹوں کا کوہ ہمالہ ان کی گردِ راہ، للہیت ان کا زادِ سفر تقوی و طہارت توشۂ مرغوب ، خوف خدا وندی ہر آن دامن گیر ، سر کشوں کو رام کرنے کےلئے آخرت میں باز پرسی کا احساس ،،غمزدوں کے لئے ایثار و وفا بطورِ تحفہ، مہر الفت کا دلرباء ہربہ، شفقتوں و محبتوں سے لبریز اندازِ دعوت و تبلیغ، دلوں کو موہ لینے والا طرز تکلم ،خوابیدہ نصیبوں کو بیدار کرنے والا وعظ، آخرت سے سینوں کو معمور کرنے والی تقریر ، نرم خوئی و سہل گوئی کا برتاؤ، سنگ دلوں کو موم بنانے والا پُر اثر بیان، خدمتِ خلق کا حوصلہ ، حق گوئی کا بوزرانہ ولولہ، زہد و قناعت کا اویسانہ پیرہن، ذیب تن ہوتا، غرض یہ کہ ایک مخلص وہمدرد، صادق القول ، اور کامل الیقین داعی و مبلغ کے جتنے اچھے اوصاف ہوسکتے ہیں سب ان میں بدرجۂ اتم پائے جاتے ہیں.
حضرت کی علمی اور تعلمی خدمات کا دائرہ بہت وسیع ہے، اگر میں یہ کہوں کی ان کی ذات میں علم و معرفت، ایثار و قربانی، درس و تدریس ،کا ایک عالم اکبر آباد ہے تو بلکل بجا ہے، یہی وجہ ہے کہ حضرت والا دامت برکاتہم کی انتھک کوششیں ، جانفشانہ محنتیں، مخلصانہ دعوتیں، داعیانہ صلاحیتین، شب و روز کی دعائیں، اور پے بہ پے تگ و دو رنگ لائی، چناچہ اسی (روضہ ضلع سنت کبیر نگر) کہ سرزمیں پر ایک چراغ جلا اور جلتا چلاگیا، ایک آفتاب چمکا اور اسکی شعائیں پر نور یوتی چلی گئیں، ایک پھول کھلا اور خوشبؤں سے معطر کرنے لگا، سبزہ لہلہایا اور آسمان کی بلندیوں کو چھوگیا.
حضرت والا کی ہمہ گیر شخصیت سے سارے روضہ اور اسکے اطراف و اکناف کے لوگ بے حد متاثر ہوئے اور ان پر جان چھڑکنے لگے، خستہ حال مسلمانوں نے اپنے نونہالوں اور جگر کے ٹکڑوں کو دینی تعلیم کے لئے حضرت کے حوالے کردیا اور طالبانِ علم درِ مقبولی پر جوق در جوق آنے لگے.
یوں تو ضلع سنت کبیر نگر کے تمام ھی دہی علاقہ سے بچے آتے ہیں لیکن روضہ اور اسکے اطراف کے گاؤں زیادہ قابل ذکر ہیں.
مصباح العلوم کی تاسیس میں حضرت کا خلوص اینٹ کے طور پر ورع و تقوی گارے کی شکل، اور للہیت پلاشٹر کے روپ میں شامل ہے، یہی وجہ ہے کہ وہ ننھا منا پودا جو چھپر اور مٹی کے چند کمروں کی شکل میں لگایا گیا تھا آج ایک عظیم تن آور سایہ داردرخت کی صورت میں جلوہ گر ہے، جس کی علمی پھل دار شاخیں ضلعی و صوبائی اور ملکی سے متجاوز ہوکر پورے ایشیاء کے طول عرض میں چھول رہی ہے ،جس کے عرفانی و نورانی چھاؤں میں بیٹھ کر سیکڑوں میکشانِ علم و معرفت اپنی علمی تشنگی بجھارہے ہیں، اور قل اللہ قال الرسول کی جاں نواز و دلبر صداؤں سے انسانیت کےمشام جان کو معطر کررہے ہیں، حضرت کے صدقات جاریہ کی فہرست میں مصباح العلوم بھی بطور خاص داخل و شامل ہے.
صدقۂ جاری تجھے کام آئیگا محشر کے روز
مستحقِ خلد بن کر آئیگا محشر کے روز
چنانچہ یکم اپریل کو منعقد ہونے والے اس عظیم الشان اجلاس عام کی تیاریوں کو خود بانئِ میخانہ اور محبانِ مصباح العلوم برویکار لانے میں ہر آن کوشاں ہیں، ان شاء اللہ جو ایک نورانی شب کی شکل میں جلوہ گر ہوگی ایسی زمین پر رحمت و نور کی موسلہ دھار بورش کیوں نہ ھو جہاں ایسے ایسے عارفِ رحماں نائبِ فخرِرسولاں کی آمد ھو ،
الحمدللہ راقم نے خود مادر علمی معین الاسلام چھتہی اور بستان العلوم پولی میں حصولِ علم کے دوران مصباح العلوم روضہ کے کئی ایک اجلاس عام میں اس فرحت بخش منظر کی۔منظر کشی کی ہے کہ عین جلسہ کے وقت کا وہ پر کیف سما ،در و دیوار، یہاں تک کہ درختوں پر معلق شدہ قمقمے ہر چہار جانب سے انسانی مجسمہ کی شکل میں امڈتا ہوا سیلاب اسی گلشن علمی کی جانب اس قدر بڑھتا ہوا چلا جاتا ہے، ہر ایک کی نگاہیں انہیں وارثان انبیاء کی طرف اس قدر ہوتی ہیں جیسے یہ اپنے درد کا درماں تلاش کرنے جمع ہوئے ہوں، اور یہ محسوس کررہے ہوں کہ جب تک یہ دنیاں اسلام کے قدموں میں گر کر اپنے درد کا درماں تلاش نھیں کریگی، اس وقت تک دکھوں، محرومیوں ، لپکتے ہوئے شعلوں اور سگتے ہوئے داغوں کے سوا اسکے حصہ میں کچھ نہیں آئیگا، کیونکہ دنیا انسان کے لیے آرام گاہ نہیں ہے جس میں وہ مزے اڑانے کے لیے پیدا کیا گیا ہو، بلکہ یہاں اس کی پیدائش ہی مشقت کی حالت میں ہوئی ہے، اس بات کو اگر سورۂ نجم کی آیت 39 (لیس للانسان الا ما سعٰی) کے ساتھ ملا کر دیکھا جائے تو بات بالکل واضح ہو جاتی ہے کہ اس کارگاہ دنیا میں انسان کے مستقبل کا انحصار اس کی سعی و کوشش اور محنت و مشقت پر ہے۔
حضرت والا کا اس اجلاس کے قائم کرنے کا سب سے بڑا مقصد یہی ھے کہ اس اجلاس کے ذریعہ پوری انسانیت کو یہ پیغام دیا جائے کہ اخلاص و للہیت کے ساتھ اللہ کو راضی کرنے کے جزبے سے جب کام کیا جاتا ھے تو اللہ کی مدد شامل حال ہوتی ہے اللہ اس میں ترقی اور برکت عطا فرماتے ہیں
گویا مصباح العلوم کی مثال اب ایسی ہوگئی ہے آیت قرآنی (کشجرۃ طیبۃ اصلھا ثابۃ و فرعھا فی السماء) کہ ایک پاکیزہ درخت ھے جس کی جڑ تو زمین کے اندر لیکن اسکی شاخیں آسمان کی بلندی کو چھو رہی ہے.
میں شکر گزار ہوں حضرے والا کااور مصباح العلوم کے تمام اساتذۂ صغار و کبار کا کہ آپ نے اس خوبصورت بزم کا انعقاد کیا اور ملک کے مؤقر علمائے ربانین کی شرکت قابل صد افتخار سمجھا.
اللہ تعالی سے دعاء کہ اللہ آپ کے سائے کو ہمارے اُپر اور اس تن آور درخت کے اپر تادیر قائم و دائم رکھے اور حاضرین بزم کے ایک ایک فرد کو قبول فرمائے اور اس نورانی اجلاس کو کامیابی کہ منزل سے بہرور فرمائے، آمیـن
