ہندوستان میں کسی کی زبردستی داڑھی کاٹنا جمہوریت کی پیشانی پر کلنک: مولانا یحییٰ کریمی
ہریانہ(آئی این اے نیوز 20/مارچ 2019) ہریانہ کے چرخی دادری میں ایک بار پھر جمہوریت کو شرمسار کرنے والا واقعہ رونما ہوا ہے ویسے تو ہریانہ موب لنچنگ اور نام نہاد گایوں کے محافظین کی گنڈہ گردی کی وجہ سے پورے تقریباً پانچ سالوں سے سرخیوں میں ہے، لیکن نفرت، تعصب اور تنگ نظری کے تازہ واقعہ نے مسلمانوں اور جمہوریت پسند لوگوں کے زخموں پر نمک پاشی کا کام کیا ہے۔واقعہ یہ ہے کہ اقلیتی برادری کے دو افراد باپ ادریس اور بیٹا محسن گاؤں آچنا گاؤں سے اپنے گاؤں سانجرواس جانے کے لیے سانجرواس کے بس اسٹینڈ پر پہنچیں تو چار فرقہ پرست افراد ان دونوں کے پاس پہنچے اور ان کے نام معلوم کرنے لگے اور جیسے ہی نام سے پتہ چلا کہ یہ مسلمان ہیں فوری طور پر انہوں نے گالی گلوچ شروع کردی اور اسی پر بس نہیں کیا بلکہ ان دونوں کو زدو کوب کرتے ہوئے ان کی ڈاڑھی کاٹ ڈالی۔
مولانا یحییٰ کریمی صدر جمعیتہ علماء ہریانہ پنجاب وہماچل پردیش اور چنڈی گڑھ نے اس واقعہ پر ردِعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک گھناؤنا عمل ہے اور ہندوستان جیسے جمہوری ملک میں یہ ناقابل قبول ہے، اور مزید کہاکہ حکومت سے ہم مطالبہ کرتے ہیں ان فرقہ پرست عناصر کو گرفتار کرکے ان کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔
مولانا کریمی صاحب نے کہا کہ ایسے فرقہ پرست لوگ ہندوستان کی امن پسند عوام کے درمیان نفرت اور اشتعال انگیزی کا کام کررہے ہیں، ہندوستان کے آپسی بھائی چارہ، مذہبی ہم آہنگی اور باہمی روادرای کو برقرار رکھنے کے لئے اس قسم کے لوگوں کے خلاف سخت ایکشن لینے کی ضرورت ہے، اگر اس سے پہلے پیش آئے اس قسم کے واقعات میں متاثرین کو انصاف فراہم کیا گیا ہوتا اور پولیس اور انتظامیہ نے شفافیت کے ساتھ کام کیا ہوتا اس طریقے کے واقعات پر قدغن لگانا بڑا آسان ہوتا۔
لیکن گزشتہ سال اسی طرح گروگرام میں سیلون میں کام کرتے ہوئے ایک میواتی نوجوان کی کچھ فرقہ پرست لوگوں نے ڈاڑھی کاٹ دی تھی، لیکن انصاف دلانے کے بجائے وہاں کی مقامی پولیس نے فرقہ پرست لوگوں کی بظاہر حمایت کی۔
مزید برآں روہتک کے ٹٹولی گاؤں میں داڑھی کے خلاف آواز اٹھائی گئی اور لاء اینڈ آرڈر کی کھلے عام دھجیاں اڑائی گئی اور قانون کے محافظین اس وقت بھی خاموش تماشائی بنے رہے۔
ان سب واقعات میں بروقت اور برمحل سخت کارروائی نہ ہونے کی وجہ سے اس قسم کے واقعات رکنے کے نام نہیں لے رہے ہیں اور فرقہ پرستوں کے حوصلے بلند ہوتے جارہے ہیں۔
اس لئے انتظامیہ سے اپیل ہے اس قسم کے واقعات کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے سخت کارروائی کرے اور جمہوریت کی لاج کو برقرار رکھے۔
