اتحاد نیوز اعظم گڑھ INA NEWS: حضرت مولانا قاری سید محمد عثمان صاحب مدظلہ صدرجمعیة علماء ھند کی دارالعلوم رشیدیہ بڑوت میں تشریف آوری اور دعاء ختم قرآن کریم!

اشتہار، خبریں اور مضامین شائع کرانے کیلئے رابطہ کریں…

9936460549, 7860601011, http://www.facebook.com/inanews.in/

Monday, 25 March 2019

حضرت مولانا قاری سید محمد عثمان صاحب مدظلہ صدرجمعیة علماء ھند کی دارالعلوم رشیدیہ بڑوت میں تشریف آوری اور دعاء ختم قرآن کریم!

بڑوت/باغپت(آئی این اے نیوز 25/مارچ 2019) گزشتہ روز بعد نمازِ عشاء ایک دعائیہ مجلس کا انعقاد دارالعلوم رشیدیہ انگور والی مسجد میں ہوا، جس میں مہمان خصوصی حضرت اقدس مولانا قاری سید محمد عثمان صاحب صدر جمعیة علماء ھند واستاذ حدیث دارالعلوم دیوبند نے حضرت اقدس مفتی محمد ایوب صابر صاحب مدظلہ بانی و مہتمم دارالعلوم رشیدیہ کی دعوت پر تشریف فرما کر مجلس کو رونق بخشی،
حضرت والا کی آمد کا جیسے ہی کار کنان دارالعلوم رشیدیہ اور طلبہ کو علم ہوا تو ان کی خوشی انتہاء کو پار کرگئی، حضرت کے استقبال کیلئے اہلِ مدرسہ کے ساتھ ساتھ اہلِ شہر بھی نکل پڑے اور گورانہ روڑ پر حضرت والا کو استقبالیہ سلامی دی اور پھولوں کی بوچھار سے حضرت کا استقبال کیا، اس کے بعد یہ قافلہ مسرت و شادمانی کے نغمے گنگناتا ہوا اور نعرۂ تکبیر کی صدا بلند کرتا ہوا دارالعلوم رشیدیہ پہونچا، بعد نماز عشاء اس مجلس کا آغاز جناب قاری محمد ساجد صاحب استاذ دارالعلوم رشیدیہ نے تلاوت قرآن سے کیا، بارگاہ رسالت میں محمد اجود الرحمٰن  متعلم دارالعلوم رشیدیہ نے گلہائے عقیدت پیش کیے، قدرے تمہید کے بعد حضرت والا جلوہ افروز ہوئے تو کلام تشکرانہ پیش کیا گیا، جس کے الفاظ کچھ اس طرح تھے "ملت کی سرخ روئی کے سامان زندہ باد، داماد شیخ دل و جان زندہ باد، ڈنکا بجا ہے چار سو عثمان کے نام کا، چرچا بھی ہر سمت ہے تیرے پیام کا، بے تاج ہے دلوں کا تو سلطان زندہ باد، اے داماد شیخ دل و جان زندہ باد" اس کلام تشکرانہ کو سنکر اہلِ مجلس کو احساس ہوا کہ یقیناً آج ہمارے درمیان کوئی ہستی موجود ہے، جس کا پہلے ہمیں احساس نہ تھا، حضرت کے حکم سے فارغین طلبہ نے قرآن کریم کی آخری آیتیں یک زبان ہوکر تلاوت کی، اسی طرح طلبہ افتاء اور طلبہ عربی ہفتم نے بھی کتاب کی آخری عبارت پڑھی، اسی کو سامنے رکھتے ہوئے حضرت والا نے قرآن کریم اور حدیث نبوی صلی اللہ علیہ و سلم پر روشنی ڈالی اور اہلِ میں درنایاب تقسیم کئے، کلام کو جاری رکھتے ہوئے فرمایا کہ قرآن و حدیث کا چولی دامن کا ساتھ ہے کوئی قرآن کے بغیر صرف حدیث پر عمل پیرا ہوکر یا صرف حدیث کے مطابق زندگی گذار کر فلاح و کامرانی حاصل نہیں کرسکتا، قرآن کے احکام کو عملی جامہ پہنانے کیلئے حدیث کا دامن پکڑنا ضروری ہے، مزید فرمایا کہ جس نے بھی کلمۂ لا الہ الا اللہ پڑھ لیا وہ جنت میں ضرور جائے گا، چاہے اس نے نماز پڑھی ہو یا نہ پڑھی ہو، روزہ رکھا ہو یا نہ رکھا ہو، یہ سب اللہ کے فضل سے جنت میں جائیں گے، خود ہی سوال فرماکر جواباً فرمایا کہ اعمال سے درجے بلند ہوں گے، جیسے اعمال ہوں گے ویسے درجات ہوں گے، خلاصہ کلام یہ کہ حضرت والا نے درسی انداز میں وہ نصیحتیں فرمائیں جن پر عمل کرنا فوز وفلاح کا ضامن ہے، حضرت والا کی دعاء پر ہی مجلس کا اختتام ہوا.
شرکاء مجلس میں قابل ذکر حضرت مولانا مفتی طاھر حسنؔ صاحب استاذ جامعہ مفتاح العلوم جلال آباد، متولیان مساجد شہر بڑوت اور ائمہ مساجد شہر بڑوت قابلِ ذکر ہیں.
مجلس کو کامیاب بنانے میں مولانا محمد اشرف قاسمی، حضرت مولانا غیور علی، مولانا انیس الرحمان تھانوی، مولانا عبد الواحد، مولانا عبد المؤمن مولانا مشتاق، قاری محمد ساجد، قاری محمد حسن، قاری محمد شمیم امام مسجد انگور والی، مولوی محمد سلمان القاسمی، حاجی علاء الدین متولی مسجد انگور والی، حافظ منصب علی صاحب حاجی فتحِ دین صاحب، مفتی ذاکر صاحب امام مدینہ مسجد، مولانا عابد صاحب امام مکی مسجد، حافظ فاروق صاحب امام مسجد نگلہ، حافظ محمد سملیم صاحب امام مسجد لونی، بھائی افضال صاحب میر کارواں حضرت مولانا عبد الجبار صاحب عمت فیوضھم، ڈاکٹر محمد آصف صاحب ودیگر شہر کی مایہ ناز شخصیات وکار کنان طلبہ دارالعلوم رشیدیہ اور اہلِ بستی نے اہم کردار ادا کیا.