تحریر: مولانا طاہر مدنی
قومی جنرل سکریٹری راشٹریہ علماء کونسل
ــــــــــــــــــــــــــــ
مکرمی!
سماج وادی پارٹی کے صدر جناب اکھلیش یادو جی اپنے والد کی وراثت سنبھالتے ہوئے اعظم گڑھ کی پارلیمانی سیٹ سے الیکشن لڑ رہے ہیں، اس موقع پر ایک اہم پہلو کی جانب توجہ مبذول کرانا چاہتا ہوں، سپا کے حامیوں میں مسلمانوں کی تعداد بہت اچھی خاصی ہے، اس حلقہ انتخاب میں مسلم ووٹرس کی تعداد 12 فیصد سے زائد ہے، علاقے کے متعدد سپائی رہنماؤں کے تعلقات بھی سپریمو سے قریبی بتائے جاتے ہیں، دو مسلم ایم ایل اے بھی ضلع میں سپا کے ہیں، کیا یہ بااثر افراد یہ بات اپنے قائد تک پہونچا سکتے ہیں کہ کل کی سبھاؤں میں مسلمانوں سے متعلق ایشوز پر بھی کھل کر اظہار خیال کریں؛
مثلا مسلموں کیلئے ریزرویشن جس کا وعدہ 2012 کے مینی فیسٹو میں کیا گیا تھا، بے گناہوں کی رہائی، جن میں سرفہرست حکیم طارق قاسمی ہیں، مرحوم خالد مجاہد کے کنبے کی داد رسی، مسلم علاقوں میں اردو میڈیم اسکولوں کا قیام، فسادات کے متاثرین کو انصاف کی فراہمی، دفعہ 341 سے مذہبی قید کو ہٹانے کی کوشش، ماب لنچنگ کے گناہگاروں کو سزا دلوانا، مذبح کیلئے لائسنس کا اجراء، اقلیتی اداروں کا تحفظ، تعلیم و صحت سے متعلق سہولیات، بٹلہ ھاؤس فرضی انکاونٹر کی جانچ، بنکروں کے مسائل کا سمادھان وغیرہ
ظاہر ہے مسلمان محض ووٹ بینک تو ہیں نہیں کہ ان کا ووٹ لیا جائے اور ان کا کوئی مسئلہ حل نہ کیا جائے، یہ تو ایسا الیکشن ہے جس میں مسلم ایشوز پر بات ہی نہیں ہورہی ہے، گٹھ بندھن کے لوگ سمجھتے ہیں کہ مسلمان مجبور ہیں، کہاں جائیں گے، ہم کو ووٹ دینا ان کی مجبوری ہے، یہ کیسی بے وزنی اور بے وقعتی ہے، مسلمان رمضان کے مہینے میں میں، شدید گرمی کی مار جھیلتے ہوئے، روزہ رکھ کر آپ کیلئے زندہ باد کے نعرے لگائیں، الیکشن کمپین میں پوری طاقت جھونک دیں اور آپ ان کے مسائل کا ذکر بھی نہ کریں، یہ کیسے قرین انصاف کہا جاسکتا ہے؟ کیا سپا میں اثرو رسوخ رکھنے والے ہمارے پولیٹیکل رہنما اتنی طاقت بھی نہیں رکھتے کہ اپنی قوم کے حقوق کی بات رکھ سکیں؛
جس کھیت سے دہقاں کو میسر نہ ہو روٹی
اس کھیت کے ہر خوشہ گندم کو جلا دو....
جہاں رہو مجبور نہیں، مضبوط بنو اور اپنی آواز مضبوطی سے اٹھاؤ، غیرت ملی اور حمیت دینی کا سودا ہرگز ہرگز نہ کرو، ایک مسلمان کی شان یہ ہونی چاہیے کہ؛
مر جائیں گے، ایمان کا سودا نہ کریں گے
ایسا نہ کریں گے، کبھی ایسا نہ کریں گے
اصولی طور پر مسلمان ساری انسانیت کی فلاح و بہبود کی بات کرتا ہے لیکن مخصوص حالات میں مسلمانوں کی زبوں حالی کے پیش نظر ان کے مسائل پر خصوصی توجہ ضروری ہے، جب مریض کی حالت سنگین ہو تو اس پر خصوصی توجہ لازمی ہے.
قومی جنرل سکریٹری راشٹریہ علماء کونسل
ــــــــــــــــــــــــــــ
مکرمی!
سماج وادی پارٹی کے صدر جناب اکھلیش یادو جی اپنے والد کی وراثت سنبھالتے ہوئے اعظم گڑھ کی پارلیمانی سیٹ سے الیکشن لڑ رہے ہیں، اس موقع پر ایک اہم پہلو کی جانب توجہ مبذول کرانا چاہتا ہوں، سپا کے حامیوں میں مسلمانوں کی تعداد بہت اچھی خاصی ہے، اس حلقہ انتخاب میں مسلم ووٹرس کی تعداد 12 فیصد سے زائد ہے، علاقے کے متعدد سپائی رہنماؤں کے تعلقات بھی سپریمو سے قریبی بتائے جاتے ہیں، دو مسلم ایم ایل اے بھی ضلع میں سپا کے ہیں، کیا یہ بااثر افراد یہ بات اپنے قائد تک پہونچا سکتے ہیں کہ کل کی سبھاؤں میں مسلمانوں سے متعلق ایشوز پر بھی کھل کر اظہار خیال کریں؛
مثلا مسلموں کیلئے ریزرویشن جس کا وعدہ 2012 کے مینی فیسٹو میں کیا گیا تھا، بے گناہوں کی رہائی، جن میں سرفہرست حکیم طارق قاسمی ہیں، مرحوم خالد مجاہد کے کنبے کی داد رسی، مسلم علاقوں میں اردو میڈیم اسکولوں کا قیام، فسادات کے متاثرین کو انصاف کی فراہمی، دفعہ 341 سے مذہبی قید کو ہٹانے کی کوشش، ماب لنچنگ کے گناہگاروں کو سزا دلوانا، مذبح کیلئے لائسنس کا اجراء، اقلیتی اداروں کا تحفظ، تعلیم و صحت سے متعلق سہولیات، بٹلہ ھاؤس فرضی انکاونٹر کی جانچ، بنکروں کے مسائل کا سمادھان وغیرہ
ظاہر ہے مسلمان محض ووٹ بینک تو ہیں نہیں کہ ان کا ووٹ لیا جائے اور ان کا کوئی مسئلہ حل نہ کیا جائے، یہ تو ایسا الیکشن ہے جس میں مسلم ایشوز پر بات ہی نہیں ہورہی ہے، گٹھ بندھن کے لوگ سمجھتے ہیں کہ مسلمان مجبور ہیں، کہاں جائیں گے، ہم کو ووٹ دینا ان کی مجبوری ہے، یہ کیسی بے وزنی اور بے وقعتی ہے، مسلمان رمضان کے مہینے میں میں، شدید گرمی کی مار جھیلتے ہوئے، روزہ رکھ کر آپ کیلئے زندہ باد کے نعرے لگائیں، الیکشن کمپین میں پوری طاقت جھونک دیں اور آپ ان کے مسائل کا ذکر بھی نہ کریں، یہ کیسے قرین انصاف کہا جاسکتا ہے؟ کیا سپا میں اثرو رسوخ رکھنے والے ہمارے پولیٹیکل رہنما اتنی طاقت بھی نہیں رکھتے کہ اپنی قوم کے حقوق کی بات رکھ سکیں؛
جس کھیت سے دہقاں کو میسر نہ ہو روٹی
اس کھیت کے ہر خوشہ گندم کو جلا دو....
جہاں رہو مجبور نہیں، مضبوط بنو اور اپنی آواز مضبوطی سے اٹھاؤ، غیرت ملی اور حمیت دینی کا سودا ہرگز ہرگز نہ کرو، ایک مسلمان کی شان یہ ہونی چاہیے کہ؛
مر جائیں گے، ایمان کا سودا نہ کریں گے
ایسا نہ کریں گے، کبھی ایسا نہ کریں گے
اصولی طور پر مسلمان ساری انسانیت کی فلاح و بہبود کی بات کرتا ہے لیکن مخصوص حالات میں مسلمانوں کی زبوں حالی کے پیش نظر ان کے مسائل پر خصوصی توجہ ضروری ہے، جب مریض کی حالت سنگین ہو تو اس پر خصوصی توجہ لازمی ہے.