اتحاد نیوز اعظم گڑھ INA NEWS: قمری سال کے چار حرمت والے مہینوں میں ذوالقعدہ بھی شامل ہے، ماہ ذوالقعدہ حج کی تیاریوں کا مہینہ ہے: شاہ ملت مولانا سید انظر شاہ قاسمی

اشتہار، خبریں اور مضامین شائع کرانے کیلئے رابطہ کریں…

9936460549, 7860601011, http://www.facebook.com/inanews.in/

Saturday, 6 July 2019

قمری سال کے چار حرمت والے مہینوں میں ذوالقعدہ بھی شامل ہے، ماہ ذوالقعدہ حج کی تیاریوں کا مہینہ ہے: شاہ ملت مولانا سید انظر شاہ قاسمی

محمد فرقان
ــــــــــــــــــ
بنگلور(آئی این اے نیوز 6/جولائی 2019) قمری سال میں بارہ مہینے ہیں۔ان میں چار حرمت والے ہیں، جن میں تین مسلسل ہیں۔ ذوالقعدہ، ذوالحجہ اور محرم الحرام اور چوتھا مہینہ رجب المرجب ہے جو شعبان اور جمادی الآخر کے درمیان آتا ہے۔قمری تقویم کا گیارہواں مہینے ذوالقعدہ ہے۔اور اشہر حج میں ذوالقعدہ بھی شامل ہے۔ذوالقعدہ حج کی تیاریوں کا مہینہ ہے۔اکثر حجاج ماہ ذوالقعدہ میں حج کیلئے رخت سفر باندھتے ہیں۔مذکورہ خیالات کا اظہار ممتاز عالم دین، شیر کرناٹک، شاہ ملت حضرت مولانا سید انظر شاہ قاسمی مدظلہ نے کیا۔
شاہ ملت نے فرمایا کہ ذوالقعدہ کی حرمت کے بارے میں قرآن مجید کے سورۃ التوبہ میں اللہ تبارک و تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ ”بے شک اللہ کے ہاں مہینوں کی گنتی بارہ ہے، اللہ کی کتاب (لوح محفوظ) میں، اس دن سے جب سے اللہ نے آسمانوں اور زمین کو پیدا فرمایا، ان میں سے چارمہینے حرمت والے ہیں، یہی دین کا سیدھا راستہ ہے، تو ان مہینوں میں قتال ناحق سے اپنی جانوں پر ظلم نہ کرنا“۔مولانا نے فرمایا کہ تمام چیزیں حاجی کی آسانی اور حفاظت کیلئے کی گئی ہیں۔جب حاجی حج کے لئے ذوالقعدہ میں اپنے گھروں سے نکلیں تو لڑائیاں، مارپیٹ، جنگ و جدال، قتل وقتال بند ہو اور وہ لوگ اپنے گھروں میں بیٹھے رہیں۔پھر ذو الحجہ میں احکام حج کی ادائیگی امن و امان سے عمدگی وشان سے ہوجائے تو حجاج کرام ماہ محرم کی حرمت میں اپنے گھروں کو واپس لوٹ جائیں۔مولانا قاسمی نے فرمایا کہ قرآن و حدیث کی رو سے حرمت کے ان چار مہینوں میں خصوصاً جنگ وجدال اور دیگر امور سے اجتناب کرنا چاہئے، حتیٰ کی کفار سے لڑنے کی ضرورت ہو تب بھی اس بات کا خیال رکھاچاہئے کہ اس کا آغاز کسی حرمت والے مہینے سے نہ ہو۔ہاں اگر کافر حملہ آور ہوں تو پھر دفاع میں ہتھیار اٹھانا نہ صرف جائز بلکہ ضروری ہے۔مولانا نے فرمایا کہ حاجیوں کیلئے یہ کتنابڑا اعزاز ہے۔مولانا نے فرمایا کہ آقائے دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی حیات مبارکہ میں چار عمرے کئے۔جن کے بارے میں مختلف روایات موجود ہیں، جن کے مطابق آپ نے دو عمرے یا تین یا چاروں عمرے کو ذوالقعدہ میں ادا کئے سوائے اسکے جو حج کے ساتھ تھے۔مولانا شاہ قاسمی نے فرمایا کہ حرمت والے مہینوں میں ماہ ذالقعدہ کے شمار کا حکم قرآن و حدیث میں واضح موجود ہے، اس لئے اس کی عزت وحرمت مسلمہ ہے، اسی لئے حرمت والے مہنیوں میں گناہ و ثواب کے معیار بھی مختلف ہوتے ہیں، کسی کے ساتھ بلاوجہ ذیادتی، لڑائی جھگڑا یا مار پیٹ تو ویسے بھی ممنوع ہے مگر حرمت والے مہینوں میں گناہ سزا کے اعتبار سے اور نیکیاں اجرو ثواب کے اعتبار سے بڑھ جاتی ہیں۔قابل ذکر ہیکہ مولانا سید انظر شاہ قاسمی نے موجودہ ملک کے حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے مسلمانوں کو اللہ تبارک و تعالیٰ کی طرف رجوع ہونے کی تلقین کی۔