تبریزفرازمحمدغنیف
_____________
اپنا ملک ہندوستان جس میں ہم آج سانس لے رہے ہیں اس کی مثال دنیا والے گنگا جمنی تہذیب سے دیتے ہیں ۔ملک عزیز تہذیب و تمدن اور ثقافت سے جانا و پہچانا جاتا ہے۔اس چمن میں مختلف مذاہب کے پیروکار زندگی بسر کرتے ہیں۔ یہ دنیا کا سب سے بڑا جمہوری ملک ہےاور جمہوریت کے پیش نظر سب کو اپنے مذاہب کے مطابق رہنے کا حق حاصل ہیں۔دفعہ 16 کے تحت اپنے اپنے دین کو follow کرنے کی اجازت دی گئی ہے ۔ ملک عزیز ان جیسے بے شمار نادر خصوصیات کی وجہ سے دوسرے ملکوں سے امتیازی حیثیت حاصل کر چکا ہے۔اس چمن میں ہر رنگ کے لوگ پائے جاتے ہیں۔ ویسے ہمارا یہ چمن آبادی کے لحاظ دوسرے نمبر پہ آتا ہے تقریباً ہمارے وطن کے اندر ایک ارب تیس کروڑ لوگ رہتے ہیں ، جس میں اکثریت کی تعداد ایک ارب اور اقلیت کی تیس کروڑ ہے ۔ ان تمام تر خصوصیات کے باوجود جب ہم سونے کی چڑیا کہے جانے والے اس ملک کی موجودہ صورتحال پر طائرانہ نظر ڈالتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ چمن میں نفرت و عداوت کی آگ شعلہ بن کر بھڑک رہی ہے ہر طرف ظلم و استبداد کا بازار گرم ہے ۔راہ چلتے مسلمان ڈر رہے ہیں کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ ہمیں رام کے نام پہ مار دیا جائے ۔ آج اقلیتوں کے ساتھ جو ناروا سلوک کیا جارہا ہے وہ کسی بھی ذی ہوش انسان کی روح کو ہلا دینے کے لیے کافی ہےاور یوں محسوس ہوتا ہے کہ ہمارا وطن عزیز پر کوئی حق نہیں ہے۔ کیا ہم باہر سے آئے ہیں جو ہمارے ساتھ سوتیلا پن کا سلوک کیا جاتا ہے؟
کبھی ہمیں گائے کے نام پر ذہنی اذیت میں مبتلا کیا جاتا ہے تو کبھی دہشت گردی کے الزام میں مسلم نوجوانوں کو پھنسا کر جیل کی سلاخوں کے اندر چکی پیسنے کے لیے ڈال دیا جاتا ہے تو کبھی اقلیتوں کے بھولے بھالے مسلم نوجوان کو بھوپال کے سڑکوں پر انکاؤنٹر کر دیا جاتا ہے تو کبھی ضیاء الحق ،اخلاق ،نجیب کی امی کے جذبات کے ساتھ کھیلواڑ کیا جاتا ہے تو کبھی (citizenship)شہریت ہونے پر شک کیا جاتا ہے۔جبکہ ہم نے ملک عزیز کی آزادی میں غیر معمولی کردار ادا کیا ہے. ہمارے مجاہدین آزادی نے اپنی جانوں کی قربانیاں پیش کی ہیں ۔1857ء کی لڑائی میں ٹیپوسلطان کو کون نظر انداز کر سکتا ہے۔ جس آزادی کے لیے اپنا تن من دھن لگا دیا لیکن پھر بھی ہمارے ملک کے کچھ ناہنجار قسم کے لوگ ان کی قربانی کو فراموش کرنے کی ضد میں ہیں۔ جبکہ ان لوگوں کو معلوم ہونا چاہیے کے وطن عزیز کی آزادی میں سب سے زیادہ مسلمانوں نے اپنی جانیں گنوائی ہیں اور یہ طے شدہ حقیقت بھی ہے کہ وطن کو آزاد کرانے میں اکثریت مسلمانوں کی رہی ہے۔ اس کے باوجود ہمیں ہندوستان چھوڑ نے کی باتیں ہوتی ہے پاکستان چلے جانے کے نعرے دیے جاتے ہیں ۔جب کہ شاعر کا ایک مشہور و معروف شعر ہے:
ہجرت نہ کی تو لوگوں نے غدار کہہ دیا
اے ملک ہم تیری محبت میں مر گئے
یہ معلوم بات ہے کی وطن عزیز کی فضاء دن بدن مسموم ہوتی جارہی ہے۔چمن کی خوشبو اب دنیا والوں کو زہر آلود کر رہی ہے۔ہم آئے دن اخباروں کا مطالعہ کرتے ہیں جس میں دو تین خبریں ہر روز شائع کی جاتی ہیں کہ آج فلاں جگہ بھگوا کلر کے لوگ ایک مدرسہ کے طالب علم کو جے شری رام نہ بولے پر بے رحمی کے ساتھ مار ڈالا ۔ماب لنچنگ کا یہ خطرناک کهیل بجرنگ دل والے کهیل رہے ہیں. ابھی چند روز قبل کی بات مغربی چمپارن کے رہنے والے انظار عالم کو مسجد کے گیٹ پہ بے رحمی سے مارتا ہے صرف اس وجہ سے کہ وہ ایک مسلمان ہے جس کی تاب نہ لا سکا اور اپنی زندگی کو اللہ کے حوالے کر گیا ابھی کچھ دن پہلے کی بات ہے تبریز انصاری کے ساتھ جو معاملہ پیش آیا جس کی داستان سن کر کلیجہ منہ کو آتا ہے کس طرح بجرنگ دل والوں نے تبریز انصاری کو مارا اور اس کو جے شری رام بولنے پر مجبور کیا ۔جب زبان سے اقرار کر لیا پھر بھی ان ظالم و جابر لوگوں کو رحم نہیں آیا آخر کار وہ اپنی زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھا جبکہ اسلامی تاریخ ہمیں یہ بتاتی ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں کبھی بھی کسی غیر مسلم کو اللہ اکبر کہنے پر مجبور نہیں کیا۔ دنیا میں جتنے بھی مسلم ممالک ہیں ایک بھی مثال اس طرح کی نہیں مل پاۓ گی اس کے برعکس ہمارا یہ چمن کہاں جارہا ہے؟ آئینی اعتبار سے جو ہمیں حق ملنے چاہئیے تھے وہ حق نہیں دیا جا رہا ہے ۔صرف اتنا ہی نہیں اب بجرنگ دل والوں نے گانے کی شکل میں ایڈیو ویڈیو میں یہ شیئر کر دیا ہے کہ" جو نہ بولے جے شری رام بھیج دو اس کو قبرستان" کیا یہی ہے ہمارا ہندوستاں؟کیوں ہمارے مسلمان بھائیوں کو جے شری رام نہ بولنے پر ملک کا دشمن قرار دیا جاتا ہے ؟میں آپ کو بتاؤں کہ ماب لنچنگ جو ملک عزیز کے اندر بڑی تیزی کے ساتھ پھیل رہا ہے ۔ ٢٠١٠ء سے ٢٠١٤ ء تک کے درمیان صرف دو واقعہ پیش آیا تھا۔لیکن جب سے این ڈی اےکی سرکار بنی ہے یعنی ٢٠١٤ء سے ٢٠١٨ء تک ١٨٠/واردات جنم لے چکی ہے (قوم تنظیم ٢٣/٧/٢٠١٩) ماب لنچنگ کا زہر ہمارے ملک میں پھیل چکا ہے جس کی زد میں سینکڑوں مسلم نوجوان اپنی جان جان آفریں کے حوالے کر چکے ہیں۔اور ہزاروں لوگ زخمی بنے گھر میں قیام پذیر ہیں۔اس کے باوجود یہ عصبیت کی چادر وطن عزیز سے ہٹنے کا نام نہیں لے رہا ہے۔ اس پہ ہمارے ملک کے حکمراں جواب دینے سے قاصر و عاجز ہیں۔اب حالات اتنے بد سے بد تر ہوچکے ہے کہ سپریم کورٹ بھی خاموشی کا مظاہرہ کر رہی ہے۔ جو ہمارے ملک کی ترقی کے لیے نقصان دہ ہے ۔ملک عزیز ہندوستان میں مسلمانوں کا جینا دشوار ہو گیا ہے ۔ خصوصا اس ملک میں مسلمان ذلت کی زندگی گذارنے پر مجبور ہیں۔ستم بالائے ستم ہندوستان چھوڑو کی آوازیں بلند کی جارہی ہیں۔ جبکہ ہم نے آٹھ سو سال تک حکمرانی کی ہے اور اس چمن کو خون جگر سے سینچا ہے. تقسیم ہند کے بعد ہمارے پاس دو راستے تھے ہم نے اسے ترجیح دیا آپ by devide ہندوستانی ہیں جبکہ ہم by choice ہندوستانی ہیں ۔سمجھ میں نہیں آتا کے ہمارا یہ چمن کہاں جارہا ہے ۔ایک وقت تھا جب ہندوستان کو سونے کی چڑیا کہا جاتا تھا۔آپسی بھائی چارگی کی مثال دی جاتی تھی ۔لوگ بلا تفریق ایک دوسرے کے دکھ درد میں شریک ہوتے تھے ۔لیکن اب اقلیت اکثریت کے نزدیک جانے سے ڈر رہی ہے ملک عزیز کا دستور کچھ تعصب پسند عناصر ہٹانا چاہتے ہیں اور مسلمانوں کے حق کو دبانا چاہتے ہیں۔کلیم عاجز نے سچ کہا ہے:
اس چمن میں کیا یہی دستور ہے
پھول کے تم مستحق اور پتھر کے ہم
_____________
اپنا ملک ہندوستان جس میں ہم آج سانس لے رہے ہیں اس کی مثال دنیا والے گنگا جمنی تہذیب سے دیتے ہیں ۔ملک عزیز تہذیب و تمدن اور ثقافت سے جانا و پہچانا جاتا ہے۔اس چمن میں مختلف مذاہب کے پیروکار زندگی بسر کرتے ہیں۔ یہ دنیا کا سب سے بڑا جمہوری ملک ہےاور جمہوریت کے پیش نظر سب کو اپنے مذاہب کے مطابق رہنے کا حق حاصل ہیں۔دفعہ 16 کے تحت اپنے اپنے دین کو follow کرنے کی اجازت دی گئی ہے ۔ ملک عزیز ان جیسے بے شمار نادر خصوصیات کی وجہ سے دوسرے ملکوں سے امتیازی حیثیت حاصل کر چکا ہے۔اس چمن میں ہر رنگ کے لوگ پائے جاتے ہیں۔ ویسے ہمارا یہ چمن آبادی کے لحاظ دوسرے نمبر پہ آتا ہے تقریباً ہمارے وطن کے اندر ایک ارب تیس کروڑ لوگ رہتے ہیں ، جس میں اکثریت کی تعداد ایک ارب اور اقلیت کی تیس کروڑ ہے ۔ ان تمام تر خصوصیات کے باوجود جب ہم سونے کی چڑیا کہے جانے والے اس ملک کی موجودہ صورتحال پر طائرانہ نظر ڈالتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ چمن میں نفرت و عداوت کی آگ شعلہ بن کر بھڑک رہی ہے ہر طرف ظلم و استبداد کا بازار گرم ہے ۔راہ چلتے مسلمان ڈر رہے ہیں کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ ہمیں رام کے نام پہ مار دیا جائے ۔ آج اقلیتوں کے ساتھ جو ناروا سلوک کیا جارہا ہے وہ کسی بھی ذی ہوش انسان کی روح کو ہلا دینے کے لیے کافی ہےاور یوں محسوس ہوتا ہے کہ ہمارا وطن عزیز پر کوئی حق نہیں ہے۔ کیا ہم باہر سے آئے ہیں جو ہمارے ساتھ سوتیلا پن کا سلوک کیا جاتا ہے؟
کبھی ہمیں گائے کے نام پر ذہنی اذیت میں مبتلا کیا جاتا ہے تو کبھی دہشت گردی کے الزام میں مسلم نوجوانوں کو پھنسا کر جیل کی سلاخوں کے اندر چکی پیسنے کے لیے ڈال دیا جاتا ہے تو کبھی اقلیتوں کے بھولے بھالے مسلم نوجوان کو بھوپال کے سڑکوں پر انکاؤنٹر کر دیا جاتا ہے تو کبھی ضیاء الحق ،اخلاق ،نجیب کی امی کے جذبات کے ساتھ کھیلواڑ کیا جاتا ہے تو کبھی (citizenship)شہریت ہونے پر شک کیا جاتا ہے۔جبکہ ہم نے ملک عزیز کی آزادی میں غیر معمولی کردار ادا کیا ہے. ہمارے مجاہدین آزادی نے اپنی جانوں کی قربانیاں پیش کی ہیں ۔1857ء کی لڑائی میں ٹیپوسلطان کو کون نظر انداز کر سکتا ہے۔ جس آزادی کے لیے اپنا تن من دھن لگا دیا لیکن پھر بھی ہمارے ملک کے کچھ ناہنجار قسم کے لوگ ان کی قربانی کو فراموش کرنے کی ضد میں ہیں۔ جبکہ ان لوگوں کو معلوم ہونا چاہیے کے وطن عزیز کی آزادی میں سب سے زیادہ مسلمانوں نے اپنی جانیں گنوائی ہیں اور یہ طے شدہ حقیقت بھی ہے کہ وطن کو آزاد کرانے میں اکثریت مسلمانوں کی رہی ہے۔ اس کے باوجود ہمیں ہندوستان چھوڑ نے کی باتیں ہوتی ہے پاکستان چلے جانے کے نعرے دیے جاتے ہیں ۔جب کہ شاعر کا ایک مشہور و معروف شعر ہے:
ہجرت نہ کی تو لوگوں نے غدار کہہ دیا
اے ملک ہم تیری محبت میں مر گئے
یہ معلوم بات ہے کی وطن عزیز کی فضاء دن بدن مسموم ہوتی جارہی ہے۔چمن کی خوشبو اب دنیا والوں کو زہر آلود کر رہی ہے۔ہم آئے دن اخباروں کا مطالعہ کرتے ہیں جس میں دو تین خبریں ہر روز شائع کی جاتی ہیں کہ آج فلاں جگہ بھگوا کلر کے لوگ ایک مدرسہ کے طالب علم کو جے شری رام نہ بولے پر بے رحمی کے ساتھ مار ڈالا ۔ماب لنچنگ کا یہ خطرناک کهیل بجرنگ دل والے کهیل رہے ہیں. ابھی چند روز قبل کی بات مغربی چمپارن کے رہنے والے انظار عالم کو مسجد کے گیٹ پہ بے رحمی سے مارتا ہے صرف اس وجہ سے کہ وہ ایک مسلمان ہے جس کی تاب نہ لا سکا اور اپنی زندگی کو اللہ کے حوالے کر گیا ابھی کچھ دن پہلے کی بات ہے تبریز انصاری کے ساتھ جو معاملہ پیش آیا جس کی داستان سن کر کلیجہ منہ کو آتا ہے کس طرح بجرنگ دل والوں نے تبریز انصاری کو مارا اور اس کو جے شری رام بولنے پر مجبور کیا ۔جب زبان سے اقرار کر لیا پھر بھی ان ظالم و جابر لوگوں کو رحم نہیں آیا آخر کار وہ اپنی زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھا جبکہ اسلامی تاریخ ہمیں یہ بتاتی ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں کبھی بھی کسی غیر مسلم کو اللہ اکبر کہنے پر مجبور نہیں کیا۔ دنیا میں جتنے بھی مسلم ممالک ہیں ایک بھی مثال اس طرح کی نہیں مل پاۓ گی اس کے برعکس ہمارا یہ چمن کہاں جارہا ہے؟ آئینی اعتبار سے جو ہمیں حق ملنے چاہئیے تھے وہ حق نہیں دیا جا رہا ہے ۔صرف اتنا ہی نہیں اب بجرنگ دل والوں نے گانے کی شکل میں ایڈیو ویڈیو میں یہ شیئر کر دیا ہے کہ" جو نہ بولے جے شری رام بھیج دو اس کو قبرستان" کیا یہی ہے ہمارا ہندوستاں؟کیوں ہمارے مسلمان بھائیوں کو جے شری رام نہ بولنے پر ملک کا دشمن قرار دیا جاتا ہے ؟میں آپ کو بتاؤں کہ ماب لنچنگ جو ملک عزیز کے اندر بڑی تیزی کے ساتھ پھیل رہا ہے ۔ ٢٠١٠ء سے ٢٠١٤ ء تک کے درمیان صرف دو واقعہ پیش آیا تھا۔لیکن جب سے این ڈی اےکی سرکار بنی ہے یعنی ٢٠١٤ء سے ٢٠١٨ء تک ١٨٠/واردات جنم لے چکی ہے (قوم تنظیم ٢٣/٧/٢٠١٩) ماب لنچنگ کا زہر ہمارے ملک میں پھیل چکا ہے جس کی زد میں سینکڑوں مسلم نوجوان اپنی جان جان آفریں کے حوالے کر چکے ہیں۔اور ہزاروں لوگ زخمی بنے گھر میں قیام پذیر ہیں۔اس کے باوجود یہ عصبیت کی چادر وطن عزیز سے ہٹنے کا نام نہیں لے رہا ہے۔ اس پہ ہمارے ملک کے حکمراں جواب دینے سے قاصر و عاجز ہیں۔اب حالات اتنے بد سے بد تر ہوچکے ہے کہ سپریم کورٹ بھی خاموشی کا مظاہرہ کر رہی ہے۔ جو ہمارے ملک کی ترقی کے لیے نقصان دہ ہے ۔ملک عزیز ہندوستان میں مسلمانوں کا جینا دشوار ہو گیا ہے ۔ خصوصا اس ملک میں مسلمان ذلت کی زندگی گذارنے پر مجبور ہیں۔ستم بالائے ستم ہندوستان چھوڑو کی آوازیں بلند کی جارہی ہیں۔ جبکہ ہم نے آٹھ سو سال تک حکمرانی کی ہے اور اس چمن کو خون جگر سے سینچا ہے. تقسیم ہند کے بعد ہمارے پاس دو راستے تھے ہم نے اسے ترجیح دیا آپ by devide ہندوستانی ہیں جبکہ ہم by choice ہندوستانی ہیں ۔سمجھ میں نہیں آتا کے ہمارا یہ چمن کہاں جارہا ہے ۔ایک وقت تھا جب ہندوستان کو سونے کی چڑیا کہا جاتا تھا۔آپسی بھائی چارگی کی مثال دی جاتی تھی ۔لوگ بلا تفریق ایک دوسرے کے دکھ درد میں شریک ہوتے تھے ۔لیکن اب اقلیت اکثریت کے نزدیک جانے سے ڈر رہی ہے ملک عزیز کا دستور کچھ تعصب پسند عناصر ہٹانا چاہتے ہیں اور مسلمانوں کے حق کو دبانا چاہتے ہیں۔کلیم عاجز نے سچ کہا ہے:
اس چمن میں کیا یہی دستور ہے
پھول کے تم مستحق اور پتھر کے ہم