اتحاد نیوز اعظم گڑھ INA NEWS: بٹلہ ہاؤس فلم کو لیکر سیاسی و سماجی شخصیات میں زبردست غم و غصہ، پابندی کا مطالبہ!

اشتہار، خبریں اور مضامین شائع کرانے کیلئے رابطہ کریں…

9936460549, 7860601011, http://www.facebook.com/inanews.in/

Thursday, 22 August 2019

بٹلہ ہاؤس فلم کو لیکر سیاسی و سماجی شخصیات میں زبردست غم و غصہ، پابندی کا مطالبہ!

مرزا تابش کی رپورٹ
______________
اعظم گڑھ(آئی این اے نیوز22/اگست2019)بٹلہ ہاؤس فلم کی ریلیز کے بعد اعظم گڑھ کی سیاسی و سماجی شخصیات کی جانب سے یکطرفہ منفی ردعمل سامنے آیا ہے۔راشٹریہ علماء کونسل کے قومی جنرل سیکریٹری مولانا طاہر مدنی نے فلم کو لیکر اپنے تاثرات پیش کرتے ہوئے کہا کہ بٹلہ ھاؤس انکاونٹر ایک بدنام زمانہ فرضی انکاونٹر ہےجس کے بعدضلع اعظم گڑھ کو بہت بدنام کیا گیا اور اسے آتنک واد کی نرسری قرار دیا گیا، راشٹریہ علماء کونسل نے اس سازش کے خلاف تاریخی جدوجہد کی اور دہلی و لکھنؤ میں تاریخی مظاہرے کیے.ابھی اس کیس کا معاملہ زیر سماعت ہے، اس دوران اس پر فلم بنانا سراسر غلط ہے اس سے کیس متاثر ہوگا لہذا اس پر پابندی لگنی چاہیے اور ہرگز اسے ریلیز کرنے کی اجازت نہیں ملنی چاہیے تھی۔ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی نے کہا کہ بٹلہ ہائوس فلم بنا کر ذہن سازی کی کوشش کی گئ ہے۔انہوں نے کہا کہ افسوس کی بات ہیکہ بٹلہ ہائوس کا معاملہ ابھی عدالت میں زیر سماعت ہے لیکن قانون کو بالائے طاق رکھتے ہوئے اس پر فلم بنا دی گئ ۔انہوں نے مزید کہا کہ اس فلم سے بٹلہ ہائوس کا کیس بھی متاثر ہوگا۔راشٹریہ علماءکونسل کے قومی ترجمان طلحہ رشادی نے اپنے بیان میں کہا کہ ہم نے کورٹ سے اس فلم پرپابندی عائد کرنے کی مانگ کی تھی لیکن فلم ریلیز ہوئی. ہاں فلم کے کچھ سین کاٹے گئے ہیں۔طلحہ رشادی نے مزیدراشٹریہ علماء کونسل نے اس فلم کے خلاف کھل کر احتجاج اس لئے نہیں کیا کہ فلم کو مقبولیت ملے گی۔اس فلم کے خلاف شروع سے ہی فعال رہنے والے الفلاح فرنٹ کے صدر ذاکر حسین نے کہا کہ بٹلہ ہائوس پر فلم بننا آئین کی خلاف ورزی ہے۔ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ اس فلم پر پابندی عائد کی جائے اور اس فلم کے بنانے والے ہدایت کار اور فلم سے وابستہ دیگر افراد کے خلاف ہتک عزت کا مقدمہ قائم ہو،کیونکہ اس فلم کو بنا کر ملک کے عوام کے جذبات کو ٹھیس پہنچائ گئ ہے۔واضح رہے کہ اس فلم کو لیکر راشٹریہ علماء کونسل سمیت دیگر کی جانب سے شروع سے ہی مخالفت ہوتی رہی ہے۔اس تعلق سے جب اومیلا کے صدر ڈاکٹر جاوید سے بات کرنے کی کوشش کی گئی تو ان سے رابطہ نہیں ہو سکا۔