اتحاد نیوز اعظم گڑھ INA NEWS: علامہ جمال واقعی پیکرِ جمال تھے، از ظفر امام قاسمی

اشتہار، خبریں اور مضامین شائع کرانے کیلئے رابطہ کریں…

9936460549, 7860601011, http://www.facebook.com/inanews.in/

Wednesday, 18 September 2019

علامہ جمال واقعی پیکرِ جمال تھے، از ظفر امام قاسمی

*علامہ جمال واقعی پیکرِ جمال تھے*
                                   🖊 *ظفر امام*
--------------------------------------------------------
             آج یہ غم آگیں خبر صاعقہ بن کر علمی حلقوں میں کوندی کہ شارحِ " جلالین " استاذِ محترم حضرت علامہ جمال صاحب بلند شہری ثم میرٹھی ایک طویل علالت کے بعد عالمِ فانی سے عالمِ باقی کی طرف سِدھار گئے ، انا للہ و انا الیہ راجعون ...
                            حضرت الاستاذ رحمہ اللہ کی عمر تقریبا ۸١ / برس تھی ، آپ برٹش گورنمنٹ کے دورِ حکومت میں ١۹٣۰__ ۴۰ء کی دہائی کے بیچ بلند شہر میں پیدا ہوئے اور ابتدائی تعلیم مختلف مدارس سے حاصل کرتے ہوئے پنجم کے سال ازہرِ ہند " دارالعلوم دیوبند" میں داخلہ لیکر اس کے چشمہائے فیض رساں اور منبعہائے علومِ بے کراں سے اپنی علمی تشنگی بجھائی ، اور ٥٥__ ٥٦ء کی دہائی میں شیخ العرب و العجم شیخ الاسلام حضرت مولانا حسین احمد مدنی نور اللہ مرقدہ { سابق شیخ الحدیث دارالعلوم دیوبند ، و صدر جمعیۃ علماءِ ہند } سے بخاری از اول تا آخر پڑھی ، گویا کہ حضرت مرحوم دارالعلوم کے اساتذہ میں تا دمِ آخر ان چار حضرات { استاذ محترم بحر العلوم حضرت مولانا نعمت اللہ صاحب اعظمی ، حضرت مولانا بلال اصغر صاحب دیوبندی ، اور حضرت استاذِ محترم علامہ قمر الدین صاحب بلیاوی مدظلہم العالی اور ایک خود حضرت مرحوم } میں سے ایک تھے جن کو حضرت شیخ الاسلام کے سامنے زانوئے تلمذ تہ کرنے کا شرف حاصل ہوا ہے ؛
              حضرت علامہ مرحوم کی دارالعلوم دیوبند میں بحیثیت معلم تقرری ١۹۸٦ء میں ہوئی ، اور کتبِ متداولہ میں سے تفسیر و فقہ کی متعدد کتابیں آپ سے متعلق رہیں ، اس اثناء میں آپ کے گُہر بار قلم سے مختلف  شروحات منصۂ شہود پر جلوہ گر ہوئیں ، جن میں ہدایہ ، حسامی اور مقاماتِ حریری کو کافی مقبولِ عام حاصل ہوا ، لیکن آپ کا جو قلمی کارنامہ آپ کی وجہِ شہرت بنا وہ فن تفسیر کی مایہ ناز کتاب ، دو استاذ و شاگرد { علامہ جلال الدین سیوطی اور علامہ جلال الدین محلی رحمہما اللہ رحمۃ واسعۃ } کا ایک لازوال چھوڑا ہوا علمی ورثہ یعنی جلالین کی کئی ضخیم جلدوں میں شرح لکھنا ہے ، یہ کتابِ مستطاب کو جس انوکھی ، البیلی ، فنی اور وسعتِ علمی کے سانچے میں ڈھالی اور ندرت و بالغ نظری کے پیرائے میں لکھی گئی ہے وہ یقیناً مولانا مرحوم کے دریائے علم اور بحرِ عرفاں کی غمازی کرتی ہے ؛
            تقریبا گزشتہ سترہ سالوں سے جلالین آپ سے متعلق تھی ، اولا آپ نے سہل انداز میں جلالین کا معنی خیز و مفہوم آمیز اور مثلِ جام جہاں نما ترجمہ بنام " قرۃ العینین " تحریر فرما کر ہدیۂ قارئین کیا ، جو آج بھی علمی حلقے میں کافی مشہور ہے ، بعدہ آپ نے جلالین کی کئی جلدوں کی ایک ضخیم شرح بنام " جمالین " لکھ کر علم دوست احباب کی توجہ اپنی طرف مبذول کرائی ، مولانا کی اس شرح کو برِ صغیر میں وہ قبولیت حاصل ہوئی اوراس کو تمام مکتبۂ فکر کے لوگوں نے اس طرح ہاتھوں ہاتھ لیا کہ آپ " شارحِ جلالین " کے نام سے مشہور ہوگئے ، ان کے علاوہ آپ کے علمی آبشار سے اور بھی کئی دوسری درسی و غیر درسی آب جوئیں جاری ہوئیں ؛
                       حضرت علامہ مرحوم ایک مایہ ناز قلم کار اور مصنف ہونے کے ساتھ ساتھ ایک کامیاب اور با کمال استاذ بھی تھے ، اس ناچیز کی یہ خوش نصیبی ہیکہ مکمل دو سال حضرت کے علم کی جوئے سلسبیل سے جرعہ نوشی کرنے کا  اتفاق پیش آیا ، سالِ پنجم کے سال ترجمہ قرآن اور سالِ ہفتم میں ہدایہ رابع آپ ہی سے متعلق تھی ، الحمد للہ پنجم کے سال حضرت اس ناچیز کو قرآنِ پاک کی تلاوت کرنے کی فرمائش کرتے تھے ، اور اخیر میں اپنی سادہ لوحی کو بروئے کار لاتے ہوئے داد و تحسین سے نوازتے بھی تھے ، بلکہ کئی بار ایسا ہوا کہ جب میں اخیر میں آکر  بیمار پڑگیا تھا ، جس کا دورانیہ تقریبا ڈیڑھ ماہ رہا تھا تو حضرت نام لیکر اس ناچیز کو ڈھونڈا کرتے تھے؛ فجزاہ اللہ أحسن الجزاء
                    حضرت جتنے علم کے رسیا اور حریص تھے اتنے ہی نرم مزاج ، نرم خو ، سادہ لوح ، کرم گستر اور ہر ایک کے مشفق و محبوب تھے ، مادیت اور موڈرن کے اس زمانے میں بھی تکلفات و تصنعات سے یک لخت کنارہ کش رہتے تھے ، انتہائی ڈھیلا ڈھالا اور موٹا جھوٹا کرتا اور پائجامہ زیب تن کرتے ، اور گرمی ہو کہ سردی بہار ہو کہ خزاں وہی ایک ہی طرح کا فُل جوتا جو ٹخنوں سے اوپر تک کو ڈھانک لیتا تھا ، پہنتے ، آپ کا کمرہ احاطۂ مولسری سے مسجدِ قدیم کی طرف نکلتی ہوئی گلی کے کونے میں تھا ، آپ وہاں سے نکلتے اور سیدھا مسجدِ قدیم جاتے ، نماز پڑھتے اور سیدھا واپس کمرہ آجاتے ، کافی گمنام اور کم آمیز ہو کر رہتے ؛
                      رحم و کرم کے تو گویا پیکرِ مجسم تھے ، ایک مرتبہ حضرت ہفتم میں درس سے پہلے حاضری لیکر پڑھانے لگے ، کچھ شریر قسم کے لڑکے وہاں سے کھسک کر باہر ہوا خوری کرنے جانے لگے ، حضرت نے انہیں جاتے ہوئے دیکھ لیا ، غصے سے لال پیلے ہوگئے ، دوبارہ حاضری لیکر شرارت کرنے والوں کے ناموں کو دفتر بھیجنا چاہا ، اور سب کے نام لکھ کر جیب میں ڈال لیا ، لڑکوں نے آکر معذرت کی تو آپ نے ہونٹوں پر تبسم بکھیرتے ہوئے انہیں معاف کردیا اور آئندہ دلجمعی سے درس میں حاضری دینے کی تلقین کی ؛
                     غصہ کرنا تو دور حضرت چہرے پر شکن لانا بھی نہ جانتے تھے ، عربی ششم کے سال میں مجھے ترتیب بدلوانی تھی ، اس کے لئے درخواست میں کسی استاذ کا دستخط کرانا ضروری تھا ، ایسے میں مجھے کافی مایوسی ہاتھ لگ رہی تھی کہ مجھے کوئی جانتے ہی نہیں تھے تو دستخط کن سے کراتے ، آخر میں مایوسیوں کی گھٹاؤں میں امید کی شمع روشن ہوتی دکھائی دینے لگی ، اور یہ سوچ کر کہ علامہ ( مرحوم ) اب تلک بیدار ہونگے تقریبا رات کے دس بجے حضرت کے دروازے پر دستک دینے کی جسارت کر ڈالی ، حضرت اس وقت نیم خوابی کی حالت میں تھے ، پوچھا کون ؟ احقر ڈرتے ڈرتے اور سہمتے سہمتے اندر قدم رکھا اور اپنا مدعا پیش کیا ، حضرت نے اپنی نیم باز آنکھوں سے ایک نظر احقر کے سراپے پر ڈالی ، اللہ گواہ ہے کہ نہ ہی جھڑکا ، نہ ہی خشم آلود نگاہ دکھائی ، نہ ہی تیوری چڑھائی اور نہ ہی یہ کہا کہ " بے وقت تمہیں آنے کی جرأت کیسے ہوئی؟ "  بلکہ نہایت خندہ پیشانی سے اٹھے اور ہاتھ میں قلم لے کر درخواست میں دستخط کردیا ، ان کے علاوہ حضرت کی اور بھی بےشمار اور اَن گنت خوبیاں تھیں ، ان میں سب سے بڑی خوبی یہ تھی کہ بچوں کے ساتھ نہایت میل جول کر رہتے تھے جس سے بچے بآسانی اور بلاجھجھک  اپنی باتوں کو حضرت سے اشتراک کرتے تھے ، یقیناً " علامہ جمال ایک پیکرِ جمال تھے "

         کیسے لوگ تھے جو راہِ وفا سے گزر گئے
           جی کرتا ہے کہ نقشِ پا چومتے چلیں

                  الغرض موت ہر ایک کو آنی ہے ، کوئی اس دنیا میں آبِ حیات پی کر نہیں آیا ، خالقِ ازل نے حضرت کے مقدر میں جتنی عمر لکھ دی تھی ، حضرت اپنی عمر کے اس سفر کو پورا کرکے ہمیشہ کے لئے ہم سبھوں کو چھوڑ کر چلے گئے ، اور اپنے پیچھے یادوں کی ایک حسین اور دلکش تصویر دل و جان میں پیوست کر گئے ؛
                         اللہ جل جلالہ سے قوی امید ہیکہ وہ حضرت کے چھوڑے ہوئے علمی کارناموں کو تا قیامِ قیامت باقی رکھینگے اور ان کو حضرت کی مغفرت اور بلندئ مرتبت کا ذریعہ گردانیں گے ؛
           اللہ حضرت کی تربت کو بقعۂ جنت اور قطعۂ بہشت بنائے ، رحمت کی پھواریں شبنم کی طرح برسا کر آپ کی آخری آرام گاہ کو سدا بہار رکھے ، آپ کے پس ماندگان کو صبرِ جمیل دے اور دارالعلوم کو حضرت کا نعم البدل عطا فرمائے .... آمین یا رب العالمین ....

                               *ظفر امام ، کشن گنجی*
                               *دارالعلوم " المعارف "*
                              *کارکلا ، اڈپی ، کرناٹک*
                                *١۷/ محرم ١۴۴۰ھ*
                              *17/ ستمبر 2019ء*