علمائے ہند کے مرکزی دفتر آئی ٹی او نئی دہلی میں منعقد منتظمہ کے اجلاس میں تجویز پیش کرتے ہوئے اس کے جنرل سکریٹری مولانا محمود مدنی نے کہا کہ جمعیت نے 1941، 1951، 1963 اور دیگر سالوں میں حالات و تقاضے کے مطابق کشمیر اور کشمیریوں کے متعلق جو نظریہ اختیار کیا ہے،آج کی یہ مجلس اسی کی روشنی اور موجودہ حالات کے تقاضے کو مد نظر رکھتے ہوئے یہ اعلان کرتی ہے کہ کشمیر بھارت کا اٹوٹ حصہ ہے، اور کشمیر کے امن و سلامتی کو تباہ کرنے والی تحریکوں کی سخت مذمت کرتے ہوئے اسے کشمیر اور کشمیریوں کے لیے نقصان دہ سمجھتی ہے، انھوں نے مزید کہا کہ دیگر برادران وطن کی طرح کشمیری بھی ہمارے بھائی ہیں، ان کے ساتھ کوئی بھی سوتیلا رویہ ناقابل برداشت ہے۔
جمعیت علمائے ہند کے صدر قاری سید محمد عثمان منصور پوری نے اپنے خطاب میں کہا کہ این آر سی، این پی آر اور الیکشن ووٹر کارڈ میں میں اصلاح و ترمیم اور اس سلسلہ میں پھیلائی جارہی غلط فہمیوں سے ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے ۔ انھوں نے اراکین منتظمہ کومتوجہ کرتے ہوئے کہا کہ اس سلسلہ میں بیداری لانے کے لیے گھر گھر پہنچنے کی کوشش کرنا آپ کا ملی و جمعیتی فریضہ ہے۔
اجلاس سے مولانا صدیق اللہ چودھری صدر جمعیت علمائے مغربی بنگال ، مولانا متین الحق اسامہ صدر جمعیت علمائے اتر پردیش، مولانا عبد الخالق، مولانا سلمان بجنوری، مولانا حکیم الدین قامسمی سکریٹری جمعیت علمائے ہند، مولانا نیاز احمد فاروقی رکن عاملہ جمعیت علمائے ہند اور دیگر حضرات نے خصوصی خطاب کیا۔ اس اجلاس میں ملک و ملت کےحق میں مفید کئی اہم تجاویز پاس کیں، جن میں مدارس اسلامیہ میں عصری تعلیم آسام اور دیگر ریاستوں میں این آر سی کا مسئلہ، جمعیت یوتھ کلب اور ان جیسے کئی دیگر مسائل پر بحث و گفتگو کی گئی۔
نظامت کے فرائض مفتی محمد عفان منصوری نے انجام دیے جب کہ نعت اور ترانہ جمعیت قاری احمد عبداللہ نے پیش کیے۔
مجلس عاملہ کی دوسری نشست سر شام مسجد عبد النبی واقع دفتر جمعیت علمائے ہند میں ہوگی
