شہریار عتیق طوی اعظم گڑھ
_____________
مکرمی !
آج کل جہاں دیکھیں موٹر وہیکل قانون کی بحث ہے، تمام لوگ ضابطہ میں جرمانہ زیادہ کرنے سے پریشان ہیں۔ عام آدمی کا چلنا دوبھر ہوا ہے۔ قانون بنانا بڑی بات نہیں بلکہ عمل کرانا بڑی بات ہے۔ لیکن آپ کوئی چیز کسی پر کتنا بھی تھوپیں جب تک لوگ خود اس کے لیے بیدار نہیں ہونگے وہ بے معنی ہوگا۔تمام لوگ ہیلمیٹ،تیز رفتار گاڑی،بنا کاغذات کے چلنا وغیرہ غلطیوں سے واقفیت کے باوجود غیرذمہ دارانہ رخ رکھتے ہیں۔ اسکی وجہ صاف ظاہر ہے کہ پولیس اہلکاروں کی رشوت خوری ہو یا سیاسی رشتے نبھانے کی مجبوری ہو لیکن اس قانون کے نافذ ہونے کے بعد آن لائن چالان سے رشوت خوری پر تھوڑا اثر ضرور ہوگا۔
مگر دوسری طرف سیاسی دباؤ بھی جاری ہے۔ اس قانون سے کچھ دن جرمانہ کی ڈر لوگوں میں پیدا ضرور ہے مگر مستقل حل ممکن نہیں۔ کیونکہ حکومت کا الیکشن جیتنا ہی اصل ایجنڈے پر عمل کر دوغلا پن کا ثبوت دے رہی ہے۔ جن صوبوں میں آئندہ الیکشن ہے مہاراشٹر، ہریانہ میں وہاں اس قانون کو نافذ کرنے سے صوبائ حکومت نے روک لگا دیا ہے۔ ایک منفی پہلو جو اس قانون میں ہے وہ یہ ہے کہ نئے قانون کے ضابطوں میں رقم جرمانہ زیادہ ہے۔ اس بہتر حکومت کو چاہیے کہ کیمپ لگواکر لوگوں کو کاغذات بنوانے میں مدد کرے، جس سے کالابازاری پر روک لگ سکے۔
_____________
مکرمی !
آج کل جہاں دیکھیں موٹر وہیکل قانون کی بحث ہے، تمام لوگ ضابطہ میں جرمانہ زیادہ کرنے سے پریشان ہیں۔ عام آدمی کا چلنا دوبھر ہوا ہے۔ قانون بنانا بڑی بات نہیں بلکہ عمل کرانا بڑی بات ہے۔ لیکن آپ کوئی چیز کسی پر کتنا بھی تھوپیں جب تک لوگ خود اس کے لیے بیدار نہیں ہونگے وہ بے معنی ہوگا۔تمام لوگ ہیلمیٹ،تیز رفتار گاڑی،بنا کاغذات کے چلنا وغیرہ غلطیوں سے واقفیت کے باوجود غیرذمہ دارانہ رخ رکھتے ہیں۔ اسکی وجہ صاف ظاہر ہے کہ پولیس اہلکاروں کی رشوت خوری ہو یا سیاسی رشتے نبھانے کی مجبوری ہو لیکن اس قانون کے نافذ ہونے کے بعد آن لائن چالان سے رشوت خوری پر تھوڑا اثر ضرور ہوگا۔
مگر دوسری طرف سیاسی دباؤ بھی جاری ہے۔ اس قانون سے کچھ دن جرمانہ کی ڈر لوگوں میں پیدا ضرور ہے مگر مستقل حل ممکن نہیں۔ کیونکہ حکومت کا الیکشن جیتنا ہی اصل ایجنڈے پر عمل کر دوغلا پن کا ثبوت دے رہی ہے۔ جن صوبوں میں آئندہ الیکشن ہے مہاراشٹر، ہریانہ میں وہاں اس قانون کو نافذ کرنے سے صوبائ حکومت نے روک لگا دیا ہے۔ ایک منفی پہلو جو اس قانون میں ہے وہ یہ ہے کہ نئے قانون کے ضابطوں میں رقم جرمانہ زیادہ ہے۔ اس بہتر حکومت کو چاہیے کہ کیمپ لگواکر لوگوں کو کاغذات بنوانے میں مدد کرے، جس سے کالابازاری پر روک لگ سکے۔
