اشرف اصلاحی
__________
مکرمی !
19 ستمبر 2008 کو دہلی کے جامعہ نگر علاقہ کے بٹلہ ہاؤس L18 میں دہلی کی کانگریس پولس نے اعلی تعلیم حاصل کر رہے اعظم گڑھ کے دو بے قصور نوجوان کو شہید کردیا، کئ نوجوانوں کو گرفتار کر جیل کی سلاخوں میں بند کرنے کے ساتھ ساتھ درجنوں کو فرار دکھایا تھا۔ جس کو ہر ذی عقل فرضی جانتا ہے اور ہمیشہ فرضی گردانتا رہے گا۔
رمضان کا مہینہ تھا۔ عید قریب تھی، بازاروں میں عید کی خریداریاں زوروں پر ہو رہی تھیں، ہر طرف خوڈی ہی خوشی تھی۔ مگر کسی کو کیا پتا تھا کہ جس چیز کی ہم تیاری کر رہے ہیں کچھ ہی پلوں میں سب دھری کے دھری رہ جائیگی۔ اعظم گڑھ میں میڈیا کے توسط سے یہ خبر آگ کی طرح پھیلتی ہے کہ دہلی میں سنجر پور کے دو نوجوان دہشتگردی کے الزام میں شہید کر دیئے گئے ہیں۔ پھر کیا تھا ہر طرف ماتم ہی ماتم نظر آنے لگا۔ سنجر پور و آس پاس کے علاقوں میں خفیہ ایجنسیوں و پولس کی گاڑیاں نظر آنیں لگیں،ہر طرف جوتوں کی ٹاپ کے ساتھ ساتھ سائرن بجاتی پولس کی گاڑیاں سنائ دیتی، الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا کا ہجوم نظر آتا اور تسلی دینے والوں کا جم غفیر نظر آتا۔ ہمارے دلوں میں ایک عجیب ڈر و خوف کا عالم ایسا پیدا ہوا تھا کہ بیان کر پانا مشکل ہے۔ وہ منظر یاد آتا ہے تو رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں۔ ہر طرف خاموشی ہی خاموشی تھی۔ عصر سے پہلے بازاریں سڑکیں و گاؤں ویران ہو جاتے۔ مدرسوں سے لیکر کالج و ہاسٹلوں میں باہر نا نکلنے کا اعلان ہونے لگا۔ ہر کوئ سنجر پور کو اپنا کہنے سے ڈرتا تھا۔ تمام مسلم لیڈران،ملی جماعتیں و مسیحائی کا دم بھرنے والےخاموش رہے۔ کسی نے بھی مدد کرنے اسکے خلاف آواز بلند کرنے یا سنجر پور کے دکھ درد کو اعلی لیڈران و حکومت تک پہونچانے کی ہمت نہیں کی۔ جبکہ اس وقت مرکز و صوبہ دلی میں کانگریس کی سرکار تھی۔ کانگریس کو مسلمانوں کے مسیحا ملائم سنگھ، مایاوتی، لالو پرساد یادو، اسد الدین اویسی، اجمل ایوب سمیت سلمان خورشید، غلام نبی آزاد، ابو عاصم اعظمی، اعظم خان، نسیم الدین صدیقی وغیرہ اپنی حمایت دے رہے تھے مگر کسی نے کانگریس سے اپنی حمایت واپس نہیں لیا اور نہ ہی راجیہ سبھاو لوک سبھا سے استعفی دیا کہ بٹلہ ہاؤس انکاؤنٹر کی جانچ کرائ جائے ورنہ ہم اپنی حمایت واپس لیتے ہیں اگر ایسا ہوتا تو کانگریس اپنی سرکار گرنے کے ڈر سے ضرور جانچ کراتی مگر افسوس ان کی خاموشی کا نتیجہ یہ رہا کہ آج تک اعظم گڑھ و مسلمانوں پر آتنکواد کا دھبہ لگا ہوا ہے۔
اسی بیچ پورے اعظم گڑھ کو دہشت گردی کی نرسری و آتنک گڑھ سے مشہور کردیا گیا۔اعظم گڑھ کے باشندہ ہونے کی وجہ سے دوسری جگہ تعلیم حاصل کر رہے طلبہ و سروس کر رہے لوگوں کو فلیٹ و ہاسٹل سے نکالا جانے لگا اور انہیں کرائے کا مکان ملنا دور رشتہ دار بھی پناہ دینے سے گریز کرنے لگےتھے۔ یہاں کے درجنوں نوجوانوں کی لسٹ بنا کر گرفتار کیا جانے لگا۔اس کے پیچھے حکومت و خفیہ ایجینسیوں کا اصل مقصد صرف یہ تھا کہ مسلمانوں کو تعلیمی سماجی معاشی ہر سطح پر کمزور کیا جائے۔
مگر اعظم گڑھ کے علمائے کرام و دانشوران نے غور و فکر کر مولانا عامر رشادی و مولانا طاہر مدنی کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے اس ظلم کے خلاف "علماء کونسل اترپردیش" نامی ایک تنظیم بنائ جو آج راشٹریہ علماء کونسل کے نام سے ملک کے گوشہ گوشہ میں موجود ہے۔اس تنظیم نے ایک جم غفیر کے ساتھ پوری ٹرین بھر کر دہلی و لکھنئو میں اس کے خلاف احتجاج کیا۔ اس وقت دہلی و مرکز دونوں جگہ کانگریس کی حکومت تھی ۔ اس لئے کانگریس کے خلاف ہر طرف سے کھینچا تانی ہونے لگی جو کی جائز بھی تھا۔سب نے ایک آواز میں لبیک کہتے ہوئے انصاف کی بھیک مانگی۔ اور کہا کہ یہ انکاؤنٹر فرضی ہے ہمارے بچے آتنکوادی نہیں۔ ضلع اعظم گڑھ علمائےکرام، دانشوروں، ادیبوں، شاعروں اور انصاف پسندوں کا ضلع ہے نہ کہ دہشتگردوں کا۔ مگر افسوس آج تک انصاف نہ مل سکا۔ اسوقت کے وزیر داخلہ پی چدمبرم نے جسنچ کرانے سے یہ کہہ کر انکار کردیا تھا کہ اس سے پولس کا منوبل ڈاؤن ہوگا وقت نے کروٹ لیا اور جنکی عزت کا انہیں فکر تھی اسی پولس نے پی جدمبرم صاحب کا منوبل ڈاؤن کر جیل کی سلاخوں میں ڈال دیا۔ یہ بات سچ ہے کہ اللہ کے یہاں دیر ہے مگر اندھیر نہیں۔
جبکہ آئین کی دفعہ 176 کے تحت کسی بھی پولس مدبھیڑ کی جانچ کسی دوسری ایجینسیوں سے کرائ جا سکتی ہے۔ پوسٹ مارٹم رپورٹ بھی چینخ چینخ کر کہہ رہی ہے کہ انکاؤنٹر فرضی ہے۔ گولی سر کے اوپری حصہ میں لگی ہے جب کی انکائونٹر میں گولی سامنے لگے گی۔ آخر ہمیں انصاف ملے گا کب ؟ کب ہوگی اس فرضی انکائونٹر کی جانچ ؟
آج اس سانحہ کو ہوئے 11 سال ہو رہے ہیں۔اہل خانہ کے آنسو خشک ہو چکے ہیں۔کچھ تو ہار مان چکے ہیں ۔مگر یہ یاد رکھنا چاہیئے کہ ہمیشہ جیت حق و سچائ کی ہوتی ہے۔ ہمیں ناامید ہوکر بیٹھنا نہیں چاہئے۔قران کی ایک آیت ہے جس کا ترجمہ ہے کہ نا امیدی کفر ہے۔اس لئے اس کے خلاف ہمیشہ اواز بلند کرتے رہیں جو ہمارا آئینی حق بھی ہے۔ پچھلے مہینے اس فرضی انکاؤنٹر پر ایک فلم بنائ گئ جس میں دونوں شہید نوجوانوں کو دہشتگرد دکھایا گیا و اعظم گڑھ کو آتنک گڑھ بتایا گیا ہے۔ راشٹریہ علماء کونسل نے اس فلم کی مخالفت کی اور دلی ہائ کورٹ میں اپیل دائر کر روک لگانے کا مطالبہ کیا مگر سنگھی سرکار اور کورٹ نے فورا ایکشن نہ لیکر مقدمہ کو آگے کی تاریخ دے دی اور فلم کو ریلیز کرادیا۔
2013 کے دلی عام انتخاب میں اروند کیجریوال نے وعدہ کیا تھا کہ اگر حکومت بنتی ہے تو بٹلہ ہاؤس فرضى انکاؤنٹر کی ایس آئ آٹی بنا کر جانچ کروائیں گے مگر 2 دفعہ حکومت بننے کے بعد جانچ نہیں کروائ، وہیں پچھلے سال 84 کے سکھ دنگوں کے لئے ایس آئ ٹی بنا دی ہے جس کا وعدہ تک نہیں کیا تھا ۔اروند کیجریوال جی دو رکھا پن کیوں؟ مسلمانوں سے اتنی نفرت کیوں؟ اس انکاؤنٹر کی جتنی زمہ دار کانگریس ہے اتنا ہی کیجریوال اور اس کی سرکار ہے۔اس لئے کیجریوال کے خلاف بھی احتجاج ہونا لازمی ہے کہ وہ اپنا کیا ہوا وعدہ پورا کریں۔
19 ستمبر کو بٹلہ ہاؤس فرضی انکائونٹر کی 11ویں برسی ہے۔ راشٹریہ علماء کونسل ہر سال احتجاج کرتی ہے اور اس دفعہ بھی دہلی میں اروند کیجریوال کا گھر گھیرنے کے ساتھ ساتھ ممبئ،مدھیہ پردیش،راجستھان،تملناڈو،اترپردیش سمیت ملک بھر میں احتجاج کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اس سلسلے میں اعظم گڑھ سے 18 ستمبر کو کیفیات ایکسپریس علماء ایکسپریس بن کر دلی کے لئے روانہ ہوگی اور کونسل کارکنان و انصاف پسند عوام 19 کو دلی پہونچ کر احتجاج کریں گے۔ اس موقعہ پر ہمیں چاہیئے کہ ہم اس کا ساتھ دیتے ہوئے اس فرضی انکائونٹر کے خلاف احتجاج کریں ۔اور یہ احتجاج اس وقت تک جاری رکھیں جب تک ہمیں انصاف نہ ملے،ہم پر اور ہمارے اوپر لگے آتنکواد کا داغ مٹ نہ جائے۔آج مرکز میں بی جے پی کی حکومت ہے ۔سب کا ساتھ سب کا وکاس کے نعرہ کو مد نظر رکھتے ہوئے ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ سپریم کورٹ کے موجودہ جج کی نگرانی میں اس انکائونٹر کی جانچ ہو جس میں اعظم گڑھ کے دو نوجوان عاطف امین اور محمد ساجد کے ساتھ ساتھ پولس انسپکٹر ایم سی شرما بھی شہید ہوئے ہیں اور درجنوں گرفتار کئے گئے ہیں۔تاکہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی الگ ہوجائے اور ہمیں انصاف ملے۔
اشرف اصلاحی
میڈیا انچارج
راشٹریہ علماء کونسل
__________
مکرمی !
19 ستمبر 2008 کو دہلی کے جامعہ نگر علاقہ کے بٹلہ ہاؤس L18 میں دہلی کی کانگریس پولس نے اعلی تعلیم حاصل کر رہے اعظم گڑھ کے دو بے قصور نوجوان کو شہید کردیا، کئ نوجوانوں کو گرفتار کر جیل کی سلاخوں میں بند کرنے کے ساتھ ساتھ درجنوں کو فرار دکھایا تھا۔ جس کو ہر ذی عقل فرضی جانتا ہے اور ہمیشہ فرضی گردانتا رہے گا۔
رمضان کا مہینہ تھا۔ عید قریب تھی، بازاروں میں عید کی خریداریاں زوروں پر ہو رہی تھیں، ہر طرف خوڈی ہی خوشی تھی۔ مگر کسی کو کیا پتا تھا کہ جس چیز کی ہم تیاری کر رہے ہیں کچھ ہی پلوں میں سب دھری کے دھری رہ جائیگی۔ اعظم گڑھ میں میڈیا کے توسط سے یہ خبر آگ کی طرح پھیلتی ہے کہ دہلی میں سنجر پور کے دو نوجوان دہشتگردی کے الزام میں شہید کر دیئے گئے ہیں۔ پھر کیا تھا ہر طرف ماتم ہی ماتم نظر آنے لگا۔ سنجر پور و آس پاس کے علاقوں میں خفیہ ایجنسیوں و پولس کی گاڑیاں نظر آنیں لگیں،ہر طرف جوتوں کی ٹاپ کے ساتھ ساتھ سائرن بجاتی پولس کی گاڑیاں سنائ دیتی، الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا کا ہجوم نظر آتا اور تسلی دینے والوں کا جم غفیر نظر آتا۔ ہمارے دلوں میں ایک عجیب ڈر و خوف کا عالم ایسا پیدا ہوا تھا کہ بیان کر پانا مشکل ہے۔ وہ منظر یاد آتا ہے تو رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں۔ ہر طرف خاموشی ہی خاموشی تھی۔ عصر سے پہلے بازاریں سڑکیں و گاؤں ویران ہو جاتے۔ مدرسوں سے لیکر کالج و ہاسٹلوں میں باہر نا نکلنے کا اعلان ہونے لگا۔ ہر کوئ سنجر پور کو اپنا کہنے سے ڈرتا تھا۔ تمام مسلم لیڈران،ملی جماعتیں و مسیحائی کا دم بھرنے والےخاموش رہے۔ کسی نے بھی مدد کرنے اسکے خلاف آواز بلند کرنے یا سنجر پور کے دکھ درد کو اعلی لیڈران و حکومت تک پہونچانے کی ہمت نہیں کی۔ جبکہ اس وقت مرکز و صوبہ دلی میں کانگریس کی سرکار تھی۔ کانگریس کو مسلمانوں کے مسیحا ملائم سنگھ، مایاوتی، لالو پرساد یادو، اسد الدین اویسی، اجمل ایوب سمیت سلمان خورشید، غلام نبی آزاد، ابو عاصم اعظمی، اعظم خان، نسیم الدین صدیقی وغیرہ اپنی حمایت دے رہے تھے مگر کسی نے کانگریس سے اپنی حمایت واپس نہیں لیا اور نہ ہی راجیہ سبھاو لوک سبھا سے استعفی دیا کہ بٹلہ ہاؤس انکاؤنٹر کی جانچ کرائ جائے ورنہ ہم اپنی حمایت واپس لیتے ہیں اگر ایسا ہوتا تو کانگریس اپنی سرکار گرنے کے ڈر سے ضرور جانچ کراتی مگر افسوس ان کی خاموشی کا نتیجہ یہ رہا کہ آج تک اعظم گڑھ و مسلمانوں پر آتنکواد کا دھبہ لگا ہوا ہے۔
اسی بیچ پورے اعظم گڑھ کو دہشت گردی کی نرسری و آتنک گڑھ سے مشہور کردیا گیا۔اعظم گڑھ کے باشندہ ہونے کی وجہ سے دوسری جگہ تعلیم حاصل کر رہے طلبہ و سروس کر رہے لوگوں کو فلیٹ و ہاسٹل سے نکالا جانے لگا اور انہیں کرائے کا مکان ملنا دور رشتہ دار بھی پناہ دینے سے گریز کرنے لگےتھے۔ یہاں کے درجنوں نوجوانوں کی لسٹ بنا کر گرفتار کیا جانے لگا۔اس کے پیچھے حکومت و خفیہ ایجینسیوں کا اصل مقصد صرف یہ تھا کہ مسلمانوں کو تعلیمی سماجی معاشی ہر سطح پر کمزور کیا جائے۔
مگر اعظم گڑھ کے علمائے کرام و دانشوران نے غور و فکر کر مولانا عامر رشادی و مولانا طاہر مدنی کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے اس ظلم کے خلاف "علماء کونسل اترپردیش" نامی ایک تنظیم بنائ جو آج راشٹریہ علماء کونسل کے نام سے ملک کے گوشہ گوشہ میں موجود ہے۔اس تنظیم نے ایک جم غفیر کے ساتھ پوری ٹرین بھر کر دہلی و لکھنئو میں اس کے خلاف احتجاج کیا۔ اس وقت دہلی و مرکز دونوں جگہ کانگریس کی حکومت تھی ۔ اس لئے کانگریس کے خلاف ہر طرف سے کھینچا تانی ہونے لگی جو کی جائز بھی تھا۔سب نے ایک آواز میں لبیک کہتے ہوئے انصاف کی بھیک مانگی۔ اور کہا کہ یہ انکاؤنٹر فرضی ہے ہمارے بچے آتنکوادی نہیں۔ ضلع اعظم گڑھ علمائےکرام، دانشوروں، ادیبوں، شاعروں اور انصاف پسندوں کا ضلع ہے نہ کہ دہشتگردوں کا۔ مگر افسوس آج تک انصاف نہ مل سکا۔ اسوقت کے وزیر داخلہ پی چدمبرم نے جسنچ کرانے سے یہ کہہ کر انکار کردیا تھا کہ اس سے پولس کا منوبل ڈاؤن ہوگا وقت نے کروٹ لیا اور جنکی عزت کا انہیں فکر تھی اسی پولس نے پی جدمبرم صاحب کا منوبل ڈاؤن کر جیل کی سلاخوں میں ڈال دیا۔ یہ بات سچ ہے کہ اللہ کے یہاں دیر ہے مگر اندھیر نہیں۔
جبکہ آئین کی دفعہ 176 کے تحت کسی بھی پولس مدبھیڑ کی جانچ کسی دوسری ایجینسیوں سے کرائ جا سکتی ہے۔ پوسٹ مارٹم رپورٹ بھی چینخ چینخ کر کہہ رہی ہے کہ انکاؤنٹر فرضی ہے۔ گولی سر کے اوپری حصہ میں لگی ہے جب کی انکائونٹر میں گولی سامنے لگے گی۔ آخر ہمیں انصاف ملے گا کب ؟ کب ہوگی اس فرضی انکائونٹر کی جانچ ؟
آج اس سانحہ کو ہوئے 11 سال ہو رہے ہیں۔اہل خانہ کے آنسو خشک ہو چکے ہیں۔کچھ تو ہار مان چکے ہیں ۔مگر یہ یاد رکھنا چاہیئے کہ ہمیشہ جیت حق و سچائ کی ہوتی ہے۔ ہمیں ناامید ہوکر بیٹھنا نہیں چاہئے۔قران کی ایک آیت ہے جس کا ترجمہ ہے کہ نا امیدی کفر ہے۔اس لئے اس کے خلاف ہمیشہ اواز بلند کرتے رہیں جو ہمارا آئینی حق بھی ہے۔ پچھلے مہینے اس فرضی انکاؤنٹر پر ایک فلم بنائ گئ جس میں دونوں شہید نوجوانوں کو دہشتگرد دکھایا گیا و اعظم گڑھ کو آتنک گڑھ بتایا گیا ہے۔ راشٹریہ علماء کونسل نے اس فلم کی مخالفت کی اور دلی ہائ کورٹ میں اپیل دائر کر روک لگانے کا مطالبہ کیا مگر سنگھی سرکار اور کورٹ نے فورا ایکشن نہ لیکر مقدمہ کو آگے کی تاریخ دے دی اور فلم کو ریلیز کرادیا۔
2013 کے دلی عام انتخاب میں اروند کیجریوال نے وعدہ کیا تھا کہ اگر حکومت بنتی ہے تو بٹلہ ہاؤس فرضى انکاؤنٹر کی ایس آئ آٹی بنا کر جانچ کروائیں گے مگر 2 دفعہ حکومت بننے کے بعد جانچ نہیں کروائ، وہیں پچھلے سال 84 کے سکھ دنگوں کے لئے ایس آئ ٹی بنا دی ہے جس کا وعدہ تک نہیں کیا تھا ۔اروند کیجریوال جی دو رکھا پن کیوں؟ مسلمانوں سے اتنی نفرت کیوں؟ اس انکاؤنٹر کی جتنی زمہ دار کانگریس ہے اتنا ہی کیجریوال اور اس کی سرکار ہے۔اس لئے کیجریوال کے خلاف بھی احتجاج ہونا لازمی ہے کہ وہ اپنا کیا ہوا وعدہ پورا کریں۔
19 ستمبر کو بٹلہ ہاؤس فرضی انکائونٹر کی 11ویں برسی ہے۔ راشٹریہ علماء کونسل ہر سال احتجاج کرتی ہے اور اس دفعہ بھی دہلی میں اروند کیجریوال کا گھر گھیرنے کے ساتھ ساتھ ممبئ،مدھیہ پردیش،راجستھان،تملناڈو،اترپردیش سمیت ملک بھر میں احتجاج کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اس سلسلے میں اعظم گڑھ سے 18 ستمبر کو کیفیات ایکسپریس علماء ایکسپریس بن کر دلی کے لئے روانہ ہوگی اور کونسل کارکنان و انصاف پسند عوام 19 کو دلی پہونچ کر احتجاج کریں گے۔ اس موقعہ پر ہمیں چاہیئے کہ ہم اس کا ساتھ دیتے ہوئے اس فرضی انکائونٹر کے خلاف احتجاج کریں ۔اور یہ احتجاج اس وقت تک جاری رکھیں جب تک ہمیں انصاف نہ ملے،ہم پر اور ہمارے اوپر لگے آتنکواد کا داغ مٹ نہ جائے۔آج مرکز میں بی جے پی کی حکومت ہے ۔سب کا ساتھ سب کا وکاس کے نعرہ کو مد نظر رکھتے ہوئے ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ سپریم کورٹ کے موجودہ جج کی نگرانی میں اس انکائونٹر کی جانچ ہو جس میں اعظم گڑھ کے دو نوجوان عاطف امین اور محمد ساجد کے ساتھ ساتھ پولس انسپکٹر ایم سی شرما بھی شہید ہوئے ہیں اور درجنوں گرفتار کئے گئے ہیں۔تاکہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی الگ ہوجائے اور ہمیں انصاف ملے۔
اشرف اصلاحی
میڈیا انچارج
راشٹریہ علماء کونسل