محرم الحرام میں ہونے والے بدعات پر ایک نظر۔
ازقلم:محمد توفیق الرحمان چمپارنی
متعلم عربی ھفتم دار العلوم وقف دیوبند
رابطہ نمبر: 7060271934
ماہ محرم اسلامی سال کا پہلا مہینہ ہے،اسی سے اسلامی سال کی ابتداء ہوتی ہے،یہ ان چار بابرکت مہینوں میں سے ہے جن کو اللہ تعالیٰ نے کاںٔنات بناتے وقت ہی سے بڑی عزت،احترام ،فضیلت اور اہمیت عطاء فرمائی ہے۔
مگر افسوسناک بات یہ ہیکہ یہ مہینہ فتنہ وفساد اور رسوم و بدعات کا پلندہ بن کے رہ گیا ہے۔جبکہ اللہ ربّ العزت نے اس مہینہ کو بڑا محترم ٹھرایا ہے۔اللہ نے نہ اسے سوگ کے لئے مقرر فرمایا اور نہ ہی توہمانہ خیالات کے لئے ہاں! ہماری دین کی دوری نے اس مہینہ کی اصل صورت بگاڑنے میں کافی کردار ادا کیا ہے اور قابل توجہ بات یہ ہیکہ اس میں دو گروہوں نے برابر کا کردار ادا کیا ہے۔ایک تو وہ گروہ ہے جس کی ساری عبادتیں اس مہینہ کے ساتھ خاص ہے اور دوسرے ہم سنی بھائی ہیں جو تقریباً ان ہی کی روش پہ چل نکلے۔
توجہ فرمائیے:
( 1 ) شیعہ ان دنوں میں سیاہ ماتم لباس پہنتے ہیں تو ہم نے ان کے مقابل اپنے بچوں کو سبز کپڑے پہنا کے حضرت حسین رضی اللہ عنہ کا منگتا بنانے کی رسم کو ایجاد کیا۔
( 2 ) انہوں نے تعزیہ بناکے چوکوں میں، اپنے گھروں کے سامنے اور امام بارگاہوں میں رکھے تو ہم نے اسی طرح مساجد کے سامنے سڑکوں، چوکوں اور چورستوں میں پانی اور دودھ کی سبیلیں لگائیں۔
( 3 ) انہوں نے مبالغہ آمیز انداز میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور سیدنا حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے صبر و ضبط کا مزاق اڑا کے انہیں کم ہمت اور مصائب پر صبر کی بجائے ماتم کرنے والا دکھایا تو ہم نے بھی واقعہ کربلا کو واعظین کی مجالس سجا کے اس انداز سے بیان کیا کہ صبر و ہمت سر پیٹ کر رہ گئے پھر ان واعظین کی من گھڑت واقعات پہ مبنی کیسٹیں بازاروں اور دکانوں میں لگا کے رہی سہی کسر پوری کردی۔
( 4 ) جب دس محرم کا دن آیا تو شیعہ حضرات تعزیہ اور جلوس لے کر ماتم اور سینہ کوبی کے لئے گھروں سے باہر نکلے تو ہم بھی اپنی بہو بیٹیوں کو لے کر قبرستان قبروں کی لیپا پوجی کے لئے چل دیئے۔
برادران اسلام:
شیعہ کو تو یہ کام کرنے ہی تھے ہمیں دکھ اس وقت ہوتا ہے جب اپنے بھی ان کے ہمنوا بن جانیں،ہمیں اپنوں سے یہ توقع ہرگز نہیں تھی۔
بطور مثال میں نے مذکورہ چند مروجہ بدعات کا ذکر کیا ہے ورنہ اس جیسی بے شمار واہیات اعمال ماہ محرم میں آج مسلمان کا ایک طبقہ کارخیر اور ثواب سمجھ کر انجام دے رہا ہے، حالانکہ انہیں اس بات پر غوروفکر کرنا چاہیے کہ ہر وہ عمل جس کی قرآن و سنت اور خلفاء راشدین نیز خیر القرون میں کوئی دلیل نہ ہو وہ عمل لا یعنی اور بے کار ہے جیسا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا "من عمل عملا ليس عليه أمرنا فهو رد"
ترجمہ:جس نے کارخیر سمجھ کر کوئی کام کیا اور اس کا میں نے حکم نہیں دیا تو وہ عمل مردود ہے:
ایک مسلمان کے لئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور خلفاء راشدین کی اتباع ہی کافی ہے۔
اللہ تعالیٰ ہم سب مسلمانوں کو ماہ محرم میں نیک اعمال کی توفیق دے اور بدعات وخرافات سے محفوظ رکھے۔
آمین یارب العالمین.
ازقلم:محمد توفیق الرحمان چمپارنی
متعلم عربی ھفتم دار العلوم وقف دیوبند
رابطہ نمبر: 7060271934
ماہ محرم اسلامی سال کا پہلا مہینہ ہے،اسی سے اسلامی سال کی ابتداء ہوتی ہے،یہ ان چار بابرکت مہینوں میں سے ہے جن کو اللہ تعالیٰ نے کاںٔنات بناتے وقت ہی سے بڑی عزت،احترام ،فضیلت اور اہمیت عطاء فرمائی ہے۔
مگر افسوسناک بات یہ ہیکہ یہ مہینہ فتنہ وفساد اور رسوم و بدعات کا پلندہ بن کے رہ گیا ہے۔جبکہ اللہ ربّ العزت نے اس مہینہ کو بڑا محترم ٹھرایا ہے۔اللہ نے نہ اسے سوگ کے لئے مقرر فرمایا اور نہ ہی توہمانہ خیالات کے لئے ہاں! ہماری دین کی دوری نے اس مہینہ کی اصل صورت بگاڑنے میں کافی کردار ادا کیا ہے اور قابل توجہ بات یہ ہیکہ اس میں دو گروہوں نے برابر کا کردار ادا کیا ہے۔ایک تو وہ گروہ ہے جس کی ساری عبادتیں اس مہینہ کے ساتھ خاص ہے اور دوسرے ہم سنی بھائی ہیں جو تقریباً ان ہی کی روش پہ چل نکلے۔
توجہ فرمائیے:
( 1 ) شیعہ ان دنوں میں سیاہ ماتم لباس پہنتے ہیں تو ہم نے ان کے مقابل اپنے بچوں کو سبز کپڑے پہنا کے حضرت حسین رضی اللہ عنہ کا منگتا بنانے کی رسم کو ایجاد کیا۔
( 2 ) انہوں نے تعزیہ بناکے چوکوں میں، اپنے گھروں کے سامنے اور امام بارگاہوں میں رکھے تو ہم نے اسی طرح مساجد کے سامنے سڑکوں، چوکوں اور چورستوں میں پانی اور دودھ کی سبیلیں لگائیں۔
( 3 ) انہوں نے مبالغہ آمیز انداز میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور سیدنا حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے صبر و ضبط کا مزاق اڑا کے انہیں کم ہمت اور مصائب پر صبر کی بجائے ماتم کرنے والا دکھایا تو ہم نے بھی واقعہ کربلا کو واعظین کی مجالس سجا کے اس انداز سے بیان کیا کہ صبر و ہمت سر پیٹ کر رہ گئے پھر ان واعظین کی من گھڑت واقعات پہ مبنی کیسٹیں بازاروں اور دکانوں میں لگا کے رہی سہی کسر پوری کردی۔
( 4 ) جب دس محرم کا دن آیا تو شیعہ حضرات تعزیہ اور جلوس لے کر ماتم اور سینہ کوبی کے لئے گھروں سے باہر نکلے تو ہم بھی اپنی بہو بیٹیوں کو لے کر قبرستان قبروں کی لیپا پوجی کے لئے چل دیئے۔
برادران اسلام:
شیعہ کو تو یہ کام کرنے ہی تھے ہمیں دکھ اس وقت ہوتا ہے جب اپنے بھی ان کے ہمنوا بن جانیں،ہمیں اپنوں سے یہ توقع ہرگز نہیں تھی۔
بطور مثال میں نے مذکورہ چند مروجہ بدعات کا ذکر کیا ہے ورنہ اس جیسی بے شمار واہیات اعمال ماہ محرم میں آج مسلمان کا ایک طبقہ کارخیر اور ثواب سمجھ کر انجام دے رہا ہے، حالانکہ انہیں اس بات پر غوروفکر کرنا چاہیے کہ ہر وہ عمل جس کی قرآن و سنت اور خلفاء راشدین نیز خیر القرون میں کوئی دلیل نہ ہو وہ عمل لا یعنی اور بے کار ہے جیسا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا "من عمل عملا ليس عليه أمرنا فهو رد"
ترجمہ:جس نے کارخیر سمجھ کر کوئی کام کیا اور اس کا میں نے حکم نہیں دیا تو وہ عمل مردود ہے:
ایک مسلمان کے لئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور خلفاء راشدین کی اتباع ہی کافی ہے۔
اللہ تعالیٰ ہم سب مسلمانوں کو ماہ محرم میں نیک اعمال کی توفیق دے اور بدعات وخرافات سے محفوظ رکھے۔
آمین یارب العالمین.
