اتحاد نیوز اعظم گڑھ INA NEWS: خفیہ ملاقات کو مولانا ارشد مدنی کے میڈیا میں لانے سے آر ایس ایس کی قیادت ناراض

اشتہار، خبریں اور مضامین شائع کرانے کیلئے رابطہ کریں…

9936460549, 7860601011, http://www.facebook.com/inanews.in/

Friday, 13 September 2019

خفیہ ملاقات کو مولانا ارشد مدنی کے میڈیا میں لانے سے آر ایس ایس کی قیادت ناراض

ئی دہلی: (آر کے بیورو) جمعیۃ علماء ہند کے صدر اور ملک کے بزرگ مسلم رہنما مولانا ارشد مدنی کی آر ایس ایس کے سربراہ موہن سنگھ بھاگوت سے ملاقات بحث کا موضوع بن گئی ہے۔ ہر شخص اور ہر حلقہ اپنے فہم وادراک اور ذہنی سطح کے مطابق اس پر تبصرہ کررہا ہے۔ سنگھ کو بھلے ہی اس سے کوئی فائدہ ہوا ہو یا نہیں لیکن افسوس اور تشویش کی بات یہ ہے کہ غالباً پہلی مرتبہ مولانا ارشد مدنی کی عظیم المرتبت شخصیت متنازع بن گئی ہے ۔

ابھی اس ملاقات کو کچھ ہی دن ہوئے ہیں لیکن دوستی سے پہلے ہی درار کی خبریں آنی شروع ہوگئی ہے۔ انڈیا ٹو ڈے میں سندھیا دویدی کی ایک رپورٹ میں دعویٰ  کیا گیا ہے کہ آر ایس ایس اس ملاقات کو عام اور میڈیا میں مشتہر کرنے سے ناراض  ہے۔ سنگھ کے اپنے روایتی طریق کار یعنی گپ چپ اور رازداری کی پالیسی کے ساتھ فرقہ وارانہ خیر سگالی کے ایشو پر آگے بڑھنا چاہتا تھا لیکن مولانا ارشد مدنی نے اس خفیہ ملاقات کو پریس کے ذریعہ عام کردیا اس سے آر ایس ایس میں بے چینی اور ناراضگی ہے۔ 30 اگست کی رات کو موہن بھاگوت اور مولانا مدنی خیرسگالی ماحول کیلئے مل کر کام کرنے غرض سے ایک جگہ بیٹھے ، لیکن دہلی کے سنگھ دفتر کیشو گنج کے بند کمرے میں ان کے درمیان دوستانہ انداز میں ہوئی بات چیت زیادہ دیر تک ٹک نہیں پائی ہے۔ دہلی میں سنگھ پرچار پرمکھ راجیو تلی کہتے ہیں یہ میٹنگ ذاتی اور خفیہ تھی۔ سنگھ کی یہ پالیسی رہی ہے کہ ذاتی گفتگو کو ذاتی ہی رہنے دیا جاتا ہے۔

واضح رہے کہ اس ملاقات کے بارے میں جو کچھ بھی سامنے آیا ہے وہ جمعیۃ کی طرف سے ہی کہا گیا ہے جبکہ آر ایس ایس اس ملاقات کے بارے میں بالکل خاموش ہے اس کی طرف سے کوئی سرکار ی ردعمل نہیں آیا۔

تلی کے مطابق ویسے بھی یہ کوئی پہلی میٹنگ نہیں ہے ، اس سے پہلے بھی اس طرح کی کئی ملاقاتیں ہوچکی ہیں ۔ اس کی بنیاد سنگھ کے سابق پرمکھ کے ایس سدرشن نے رکھی تھی ۔ سندھیا دویدی کے مطابق جب تلی سے مولانا مدنی کے اس خفیہ میٹنگ کو عام کرنے کے بارے میں پوچھا گیا تو ان کا رد عمل تھا ، انہیں جوکہنا ہے ، کرنا ہے وہ کریں ، مگر سنگھ ذاتی اور عام میٹنگ کے معنی اچھی طرح جانتا ہے، تلی نے سنگھ کی راز داری کی روایت کا حوالہ دے کر اس میٹنگ میں ہوئی چرچہ کے بارے میں بات کرنا مناسب نہیں سمجھا۔ رپورٹ میں آگے کہا گیا ہے کہ ایسے میں بڑا سوال یہ اٹھتا ہے کہ فرقہ وارانہ ہم آہنگی بڑھانے کیلئے جب دونوں تنظیمیں ایک رائے ہورہی ہیں تو پھر اس بات کے عام ہونے سے اتنی تلخی کیوں ہے۔ سنگھ کے ذرائع کا کہنا ہے : ’ رام مندر ایشو پر بہت جلد فیصلہ آناہے، سنگھ کا اس میں بڑا رول ہے، فیصلہ آنے کے بعد فرقہ وارانہ ہم آہنگی قائم رکھنا چیلنج بھرا کام ہے،‘ سنگھ کا ماننا ہے کہ ایسے کام کو کرنے سے اس کا مقصد حل نہیں ہوپاتا۔ سنگھ اور مسلم تنظیم ساتھ مل کر کام کررہے ہیں یہ بات عام کردینے کے بعد سوال اٹھ کھڑے ہوتے ہیں، اگر چپ چاپ کام شروع کردیا جائے تو سوالوں کیلئے جگہ نہیں بچتی۔ ادھر رپورٹ میں جمعیۃ کے ذرائع کے حوالے سے کہاگیا ہے کہ مولانا نے اقلیتی فرقہ میں ڈر ، ہجومی تشدد ،دفعہ 370 اور تین طلاق کے بارے میں بات چیت کی۔ یہ بات نوٹ کرنے کی ہے کہ خود مولانا مدنی نے چند روز قبل ’دی کوئنٹ‘ کو دئے گئے انٹرویو میں اس بات سے صاف انکار کیا تھا کہ انہوں نے ان مسائل پر کوئی بات چیت کی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ ماب لنچنگ کے ایشو پر ضرور بات ہوئی تھی لیکن بنیادی طور پر فرقہ وارانہ ہم آہنگی کا موضوع ہی ملاقات کا مقصد تھا۔ رپور ٹ کے مطابق ذرائع کی مانے تو اس طرح کی میٹنگ میں ہوئی چرچہ کے عام ہونے سے دونوں ہی تنظیموں کے لوگ مضطرب ہیں۔

مولانا مدنی فی الحال دہلی سے باہر ہیں ۔ سندھیا دویدی نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ ان سے بات کرنے کی کوشش کی گئی تو انہوں نے صاف کہہ دیا کہ فون پر اس مسئلے کو لے کر کوئی بات نہیں کریں گے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے فتح پوری مسجد کے شاہی امام ڈاکٹر مفتی محمد مکرم کا کہناہے کہ ہم نے بھی دہلی کے سابق وزیر صاحب سنگھ ورما کے دور اقتدار میں ملاقاتیں کیں تھیں لیکن میڈیا کو ہمیشہ اس سے دور رکھا گیا، باتیں باہر آنے میں تو کوئی مسئلہ نہیں لیکن آج کے حالات میں ایسی میٹنگوں پر چرچہ کے مقابلے میٹنگ کا اصل مقصد حاصل کرنا زیادہ ضروری ہے