جے این یو اسٹوڈنٹس یونین انتخاب میں اے بی وی پی کو شکست
چاروں عہدوں پر بایاں محاذ کے امیدوار کامیاب، ۱۷؍ستمبر کو دہلی ہائی کورٹ میں نتیجہ ظاہر کیاجائے گا، سابق صدر کنہیا کمار نے جیت کی مبارک باد دی
نئی دہلی۔ ۸؍ستمبر: (بی این ایس) جواہر لعل نہرو یونیورسٹی (جے این یو) کی طلبہ تنظیم کے انتخابات میں بایاں محاذ کا ایک بار پھر پرچم لہرایا ہے۔ خبروں کے مطابق بایاں محاذ کی جانب سے صدر کے عہدے پر آئیشی گھوش نے بازی باری ہے، اس کے علاوہ لیفٹ کے ساکیت مون نائب صدر ، لیفٹ سے ستیش یادو جنرل سکریٹری، اور ایم ڈی دانش جوائنٹ سیکریٹری کے عہدے پر جیت حاصل کی ہے۔ جے این یو طلبہ تنظیم انتخابات میں صدر کے عہدے کےلیے چھ، نائب صدر کے لیے تین، جنرل سکریٹری کےلیے تین اور جوائنٹ سکریٹری کے عہدے کےلیے دو امیدوار میدان میں تھے اس سے قبل دی کیونٹ کی خبر کے مطابق شام چار بجے کے قریب 5762 ووٹوں میں سے 5050 ووٹوں کی گنتی مکمل ہوچکی تھی جس میں لیفٹ اتحاد نے سبھی عہدوں پر بڑھوتری بنارکھی تھی۔ صدر کے عہدے کےلیے لیفٹ سے آئیشے گھوش 2069 ووٹوں کے ساتھ آگے تھے، وہیں بی اے پی ایس اے کے جتیندر سونا 985 ووٹ اور اے بی وی پی کے منیش جانگڑ 981 ووٹ کے درمیان ٹکر ہے۔ وہیں نائب صدر کے عہدے کےلیے بایاں محاذ کے ساکیت مون 3028 ووٹوں کے ساتھ اے بی وی پی کی شروتی اگنی ہوتری 1165 سے آگے تھے۔ جنرل سکریٹری کے عہدے کےلیے بایاں محاذ کے ستیش چندر یادو 2228 ووٹوں کے ساتھ آگے تھے وہیں بی اے پی ایس اے کے وسیم آر ایس 1070 ووٹوں کے ساتھ پیچھے رہے، لیفٹ اتحاد کے ایم ڈی دانش نے 2938 ووٹوں کے ساتھ جوائنٹ سکریٹری کے عہدے کےلیے آگے تھے جبکہ اے بی وی پی کے سومنت کمار ساہو کو 1310 ووٹ حاصل ہوئے تھے۔ واضح رہے کہ طلبہ تنظیم کے انتخابات کی ووٹوں کی گنتی پوری ہوچکی ہے لیکن نتائج کا اعلان کیے جانے کے بجائے اسے عدالت میں جمع کیاجائے گا جس کے بعد ۱۷ ستمبر کو کورٹ میں شنوائی کے بعد ریزلٹ کا اعلان کیاجائے گا۔ دہلی ہائی کورٹ نے جواہر لعل نہرو یونیورسٹی کے طلبہ تنظیم کے الیکشن کے نتائج کو جاری کرنے پر روک لگا دی ہے ساتھ ہی معاملے کی شنوائی 17 ستمبر تک کےلیے ملتوی کردی گئی ہے۔ دہلی ہائی کورٹ نے کہاکہ اس معاملے میں اگلے حکم تک جے این یو طلبہ تنظیم کے چنائو جاری نہ کیے جائیں۔ واضح رہے کہ دہلی ہائی کورٹ میں دو الگ الگ عرضی د اخل کی گئی تھی جس میں پہلی عرضی میں کہا گیا تھا کہ طلبہ تنظیم کا چنائو لنگدوہ کمیٹی کی سفارشوں کی خلاف ورزی کی گئی ہے۔ نتائج پر تبصرہ کرتے ہوئے جے این یو کے سابق طلبہ صدر کنہیا کمار نے کہاکہ جے این یو میں بھگت سنگھ، اشفاق اللہ خان اور گاندھی و امبیڈکر کی جیت ہوئے ہیڈگوار، گوڈسے، گوالکر اور ساورکر کی ہار ہوئی ہے یہ جیت تنظیم کی نہی ںبلکہ جمہوریت، سماج واد، قومی یکجہتی جیسے سوچ اور جدوجہد کی جیت ہوئی ہے، جیتنے والوں کو جیت کی ہارنے والوں کو لڑنے کی سبھی طلبہ کو انتخاب میں حصہ لینے کی ، مبارک باد۔
چاروں عہدوں پر بایاں محاذ کے امیدوار کامیاب، ۱۷؍ستمبر کو دہلی ہائی کورٹ میں نتیجہ ظاہر کیاجائے گا، سابق صدر کنہیا کمار نے جیت کی مبارک باد دی
نئی دہلی۔ ۸؍ستمبر: (بی این ایس) جواہر لعل نہرو یونیورسٹی (جے این یو) کی طلبہ تنظیم کے انتخابات میں بایاں محاذ کا ایک بار پھر پرچم لہرایا ہے۔ خبروں کے مطابق بایاں محاذ کی جانب سے صدر کے عہدے پر آئیشی گھوش نے بازی باری ہے، اس کے علاوہ لیفٹ کے ساکیت مون نائب صدر ، لیفٹ سے ستیش یادو جنرل سکریٹری، اور ایم ڈی دانش جوائنٹ سیکریٹری کے عہدے پر جیت حاصل کی ہے۔ جے این یو طلبہ تنظیم انتخابات میں صدر کے عہدے کےلیے چھ، نائب صدر کے لیے تین، جنرل سکریٹری کےلیے تین اور جوائنٹ سکریٹری کے عہدے کےلیے دو امیدوار میدان میں تھے اس سے قبل دی کیونٹ کی خبر کے مطابق شام چار بجے کے قریب 5762 ووٹوں میں سے 5050 ووٹوں کی گنتی مکمل ہوچکی تھی جس میں لیفٹ اتحاد نے سبھی عہدوں پر بڑھوتری بنارکھی تھی۔ صدر کے عہدے کےلیے لیفٹ سے آئیشے گھوش 2069 ووٹوں کے ساتھ آگے تھے، وہیں بی اے پی ایس اے کے جتیندر سونا 985 ووٹ اور اے بی وی پی کے منیش جانگڑ 981 ووٹ کے درمیان ٹکر ہے۔ وہیں نائب صدر کے عہدے کےلیے بایاں محاذ کے ساکیت مون 3028 ووٹوں کے ساتھ اے بی وی پی کی شروتی اگنی ہوتری 1165 سے آگے تھے۔ جنرل سکریٹری کے عہدے کےلیے بایاں محاذ کے ستیش چندر یادو 2228 ووٹوں کے ساتھ آگے تھے وہیں بی اے پی ایس اے کے وسیم آر ایس 1070 ووٹوں کے ساتھ پیچھے رہے، لیفٹ اتحاد کے ایم ڈی دانش نے 2938 ووٹوں کے ساتھ جوائنٹ سکریٹری کے عہدے کےلیے آگے تھے جبکہ اے بی وی پی کے سومنت کمار ساہو کو 1310 ووٹ حاصل ہوئے تھے۔ واضح رہے کہ طلبہ تنظیم کے انتخابات کی ووٹوں کی گنتی پوری ہوچکی ہے لیکن نتائج کا اعلان کیے جانے کے بجائے اسے عدالت میں جمع کیاجائے گا جس کے بعد ۱۷ ستمبر کو کورٹ میں شنوائی کے بعد ریزلٹ کا اعلان کیاجائے گا۔ دہلی ہائی کورٹ نے جواہر لعل نہرو یونیورسٹی کے طلبہ تنظیم کے الیکشن کے نتائج کو جاری کرنے پر روک لگا دی ہے ساتھ ہی معاملے کی شنوائی 17 ستمبر تک کےلیے ملتوی کردی گئی ہے۔ دہلی ہائی کورٹ نے کہاکہ اس معاملے میں اگلے حکم تک جے این یو طلبہ تنظیم کے چنائو جاری نہ کیے جائیں۔ واضح رہے کہ دہلی ہائی کورٹ میں دو الگ الگ عرضی د اخل کی گئی تھی جس میں پہلی عرضی میں کہا گیا تھا کہ طلبہ تنظیم کا چنائو لنگدوہ کمیٹی کی سفارشوں کی خلاف ورزی کی گئی ہے۔ نتائج پر تبصرہ کرتے ہوئے جے این یو کے سابق طلبہ صدر کنہیا کمار نے کہاکہ جے این یو میں بھگت سنگھ، اشفاق اللہ خان اور گاندھی و امبیڈکر کی جیت ہوئے ہیڈگوار، گوڈسے، گوالکر اور ساورکر کی ہار ہوئی ہے یہ جیت تنظیم کی نہی ںبلکہ جمہوریت، سماج واد، قومی یکجہتی جیسے سوچ اور جدوجہد کی جیت ہوئی ہے، جیتنے والوں کو جیت کی ہارنے والوں کو لڑنے کی سبھی طلبہ کو انتخاب میں حصہ لینے کی ، مبارک باد۔
