از قلم مرغوب الرحمان قاسمی خادم دارالعلوم محمودیہ مالیرکوٹلہ پنجاب
____________________
اللہ تبارک وتعالی نے حضرت انسان کی رہنمائ کیلیے اپنے آخری نبی رسول اللہ( صلعم ) کو جامع دستور حیات حیات عطاء فرمایا جو صرف اہل اسلام کے لیے دستور حیات ہی نہیں بلکہ شان والے نبی پر نازل ہونے والا عظیم الشان معجزہ بھی ہے جوقیام قیامت تک بنی نوع انسان کے لیے نشان منزل ہدایت وجدید ایجادات کی راہ سجھانے والی کتاب قرآن کریم ہے اس وقت مجموعی صورت حال اہلیان اسلام کی کچھ ہوں ہے کہ قرآن کریم کا مطالعہ بغیر سوچے سمجھے کرتے ہیں یا قرآن کریم کا مطالعہ اپنے مسلک و نظریہ کو ثابت کرنے کے لیے کیا جاتا ہے یا پھر قرآن کریم کو چوم کر الماری میں واپس رکھ دیا جاتا ہے کہ
بہت کم لوگ ابھی دیواگان عشق ایسے باقی ہیں جو قرآن کریم کو سمجھ کر اس پر عمل کرنے کی سعی کرتے ہیں و انہیں عشاق قرآن کی برکت سے یہ کائنات ہستی کا وجود باقی ہے اس وقت مسلمان بے حیثیت ایک قوم کے ذلالت کے گڑھے میں گری ہوی ہے لیکن جب ہم صورۃ العصر کا معانی و مفاہم و تفسیر کے ساتھ مطالہ کرتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ اگر آج کی امت مسلمہ صرف صورۃ العصر پر عمل پیرا ہوجاے تو بھی بہت جلد زوال کی شب تاریک سے نکل کر روشنی کیطرف آسکتی ہے
سب سے پہلے ایک بار صورۃ العصر کا مفہوم ملاحضہ فرما لیجئیے : و قسم ہے زمانہ کی بے شک انسان خسارے میں ہے مگر وہ لوگ جو ایمان لاے و صالح اعمال کیے (وہ ایک دوسرے کو ) حق کیطرف رغبت کرنے و صبر کرنے کی بھی وصیت کرتے ہیں ;
یہاں یہ امر لائق توجہ ہے کہ زمانہ کی قسم کیوں اٹھائ گئ ; جبکہ زمانہ میں فحاشی و عریانی عام ہے جھوٹ کا بازار گرم ہے و خاص کر ہمارے تھانہ کچہری کا کلچر ہی جھوٹ فریب پرمبنی ہے
اغواءبراے تاوان وجنسی خواہشات کی تکمیل بھتہ خوری گھریلو جھگڑے قتل و غارت گری طلاق کی بڑھتی شرح جسم فروشی وہم جنس پرستی کے بڑھتے واقعات یہ سب زمانہ میں عام ہیں و کسی کے ڈھکے چھپے ہوے نہیں ہیں تو زمانہ کی قسم کیوں اٹھائ گئ اس لیے کہ زمانہ انسان پر گواہ ہے انسان اپنی زندگی کے شب و روز جس طرح گزار تا ہے زمانہ کی چلتی نبض اسکی رفتار خیر وشر کو نوٹ کرتی ہیں
و بروزحشر انسان کے حق یا خلاف کراما کاتبین کی تحریریں انسان کے اپنے اجزاء جسم زمین و دہر سب کے سب گواہی دینگے
و پھر انسان بے ساختہ پکار اٹھے گا (و اخرجت الارض اثقالھا وقال الانسان مالھا یوم اذ تحدث اخبارھا ) ترجمہ:وزمین اپنے بوجھ کو نکال ر باہر کردیگی انسان کہے گا کہ اسکو کیا ہوا اس دن وہ اپنی خبریں بیان کردیگی ۔
بعض حضرات زمانہ کو برا کہتے ہیں حالانکہ زمانہ کو برا نہیں کہتے کیونکہ برے افعال کا سرزد ہونا یا نہ ہونا انسان سے ہے زمانہ سے نہیں ہے و نہ ہی زمانہ ہمیں برے افعال پر یا برائ کی طرف راغب کرتا ہے
بلکہ ہم انسان ہی اچھائ یا برائ کیطرف اپنی نفسانی خواہشات بری سوسائٹی الیکٹرانک میڈیا و سوشل میڈیا کا برا استعمال انٹرنیٹ کا برا استعمال یہ سب ہم خود کرتے ہیں ورنہ آپ غور کریں کہ آج بھی دینی مدارس میں بڑے سے بڑے منصب پر فائز عالم دین یعنی شیخ الحدیث کی ماہانہ تنخواہ پندرہ سے بیس ہزار تک ہی ہوتی ہے اب دیکھیے کہ مہنگائ کے اس دور میں وہ کس طرح گھر کی گاڑی چلاے و کیسے نئے موضوعات پر شائع ہونے والی کتب خریدے تو یہ معاملہ انٹرنیٹ نے سہل کردیا ہے کہ نئ نئ کتب فری ڈاؤن لوڈ کرکے انکا مطالعہ کیا جاسکتا ہے عربی فارسی انگریزی اردو و دیگر زبانوں میں کثیر تعداد میں دینی و ادبی لٹریچر موجود ہے
جس سے استفادہ کیا جاسکتا ہے یعنی چیزوں کا استعمال بذات خود اچھا یا برا نہیں ہوتا بلکہ انکو استعمال کرنے والے پر منحصر ہے کہ وہ اس شئ کا اچھا استعمال کرتا ہے یا برا ،
اسلیے زمانہ کو برا نہیں کہنا چاہیے ۔ آگے فرمایا کہ بے شک انسان خسارے میں ہے لفظ انسان لاکر تخصیص ختم کردی کہ کسی کے ذہن میں یہ نہ رہے
کہ صرف کافر خسارے میں ہے ہم نے کلمہ نبی صل اللہ علیہ وسلم کاپڑھ لیا ہے اب ہم جو کچھ مرضی کرتے پھریں گویا کلمہ طیبہ ہمارے ہر کام کے لیے سرٹیفیکیٹ ہے ایسا نہیں ہے
بلکہ لفظ انسان لاکر اس سوچ کی نفی فرماں دی گئ ہے
اس صانع عالم کے علم ما کان وما یکون میں یہ بات روز اول سے تھی یہ کہ انسان مجموعی لحاظ سے اس فانی دنیاء میں جاکر عالم ارواح میں حق تعالی سے کیے گئے معاہدہ کو فراموش کردیگا و فانی دنیاء کی آرائش و آسائش میں ایسا گم ہوگا کہ وہ مقصد تخلیق کو بھی بھول جائیگا و دنیاء کی بھول بھلیوں میں مختصر مہلت کے دن پورے کرکے ابدی طور پر نقصان اٹھائیگا و ابدی نقصان ہی در حقیقت ایسا خسارہ ہے کہ دنیاء کا بڑے سے بڑا خسارہ اسکے بلمقابل کچھ حیثیت نہیں رکھتا
لیکن ایسا بھی نہیں کہ سارے انسان ہی خسارہ میں ہیں اسلیے فورن آگے فرمایا کہ مگر وہ لوگ جو ایمان لاے و انہوں نے نیک اعمال کئے یہاں یہ بات ذہن میں رہے کہ جسطرح کلمہ طیبہ میں ہے کہ( لاالہ ) کہ کوئ معبود نہیں کوئ اس لائق نہیں کہ بنی نوع انسانی اسکے سامنے سربسجود ہو لیکن اس نفی کے فورن بعد اثبات میں فرمایا کہ یہ نہ سمجھنا کہ تم بغیر کسی خالق و مالک وصانع کے خود بخود معرض وجود میں آگئے ہو
وتمہیں کسی کے سامنے بھی سرتسلیم خم نہیں کرنا بلکہ ایسا نہیں کیونکہ الااللہ مگر اللہ ہیکہ اسکےسامنے سر بسجود ہوجائیگا
اسکی عبادت جسمانی و روحانی کی جائیگی اسکی صفات کو اسی طرح مانا جائیگا جسطرح محمد رسول اللہ نے منوایا ہے بتایا ہے و صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو سکھایا ہے و صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے بعد والوں کو دین سکھایا ہے تو خیر بات ہورہی تھی کہ جب الا کہا تو معلوم ہوا کہ سب کی نفی نہیں
بلکہ کوئ ذات ہے اسی طرح یہاں بھی اولا جس طرح انسانوں کے خسارے کا بیان ہوا اس سے شک ہورہا تھا کہ ساری انسانیت ہی خسارے کا شکار ہوجائیگی لیکن حق تبارک وتعالی نے ساتھ ہی لفظ الا لاکر انسانیت کو تسلی دیتے ہوے فرمایا کے سارے نہیں بلکہ صرف وہ جو ایمان نہ لاے و نیک اعمال نہ کرے
اسلام اقرارباالسان کو کہا جاتا ہے یعنی زبان سے اقرار کرنا و تصدیق بالقلب یعنی ایمان دل کی تصدیق کو کہتے ہیں و ایمان کو دوسرے لفظوں میں عقائد صحیحہ بھی کہا جاسکتا ہے
یعنی ایک آدمی کار خیر کرے
لیکن اسکے عقائد درست نہیں تو اسکے اعمال خیر کا بدلہ حق جل مجدہ دنیاء میں ہی اسے عطاء فرماں دینگے لیکن اگر اس بندہ کے عقائد صحیحہ رکھتا ہے تو اسکے اعمال خیریہ کا بدلہ حق جلہ مجدہ دنیاء ہی میں اسے عطاء فرماں دینگے لیکن اگر وہ بندہ عقائد صحیحہ رکھتا ہے تو اسکے اعمال خیریہ اسے آخرت میں کام دینگے
و اصل نفع و نقصان آخرت کا ہے جو روز محشر کامیاب ہوگیا وہ نفع مند ثابت ہوا و جو اس دن ناکام ہوا وہ خسارے میں گیا
جس بندے کے عقائد اسلامی عقائد کے مطابق ہوں و وہ اعمال صالحہ پر بھی کار بند ہو ایسے لوگوں کو مزید حکم ہے کہ لوگوں کو حق کی طرف دعوت بھی دیں کہ وہ بھی حق کو قبول کریں و قبول حق میں مشکلات و مصائب کا آنا لازمی حصہ ہے اس لیے قبول حق کرنے والے حضرات مشکلات و مصائب میں گھبرا نہ جائیں بلکہ دین اسلام کی خاطر آنے والی مشکلات و مصائب پر صبر کریں
کیونکہ صبر کی جزا جنت ہے
صبر کا مفہوم یہ نہیں ہے کہ دوسرے کے ظلم وزیادتی کو خاموشی سے برداشت کیا بلکہ یہ ہے کہ اپنا حق گنوار کر بھی زبان سے کوئ جملہ شکایت ادا نہ کیا
آج ہمارا معاشرہ جن برائیوں میں گھرا ہوا ہے اس میں ضرورت ہے کہ سورۃ العصر سے رہنمائ حاصل کرکے اسلامی عقائد کو اپنایا جاے و اعمال صالحہ پر عمل پیرا ہوکر معاشرہ کا ایک اچھا فرد ثابت ہو
و پھر اسی اچھائ کی دعوت دعوت کو عزیز و اقارب میں دوست واحباب میں حکمت و تدبیر کے ساتھ عام کرنے کی سعی کرے اور اس راہ میں دوستوں کی یا عزیزو اقارب کی کڑوی کسیلی باتوں پر صبر کا مظاہرہ کرے ۔ایسے لوگ ہی دنیاوی و اخروی کامیابی کے حامل ہونگے
اللہ تعالی تمام مسلمانوں کا حامی و ناصر ہو آمین مضمون نگار
📝مفتی مرغوب الرحمان قاسمی
دارالعلوم محمودیہ مالرکوٹلہ پنجاب 7017530491🍀🍀🍀
____________________
اللہ تبارک وتعالی نے حضرت انسان کی رہنمائ کیلیے اپنے آخری نبی رسول اللہ( صلعم ) کو جامع دستور حیات حیات عطاء فرمایا جو صرف اہل اسلام کے لیے دستور حیات ہی نہیں بلکہ شان والے نبی پر نازل ہونے والا عظیم الشان معجزہ بھی ہے جوقیام قیامت تک بنی نوع انسان کے لیے نشان منزل ہدایت وجدید ایجادات کی راہ سجھانے والی کتاب قرآن کریم ہے اس وقت مجموعی صورت حال اہلیان اسلام کی کچھ ہوں ہے کہ قرآن کریم کا مطالعہ بغیر سوچے سمجھے کرتے ہیں یا قرآن کریم کا مطالعہ اپنے مسلک و نظریہ کو ثابت کرنے کے لیے کیا جاتا ہے یا پھر قرآن کریم کو چوم کر الماری میں واپس رکھ دیا جاتا ہے کہ
بہت کم لوگ ابھی دیواگان عشق ایسے باقی ہیں جو قرآن کریم کو سمجھ کر اس پر عمل کرنے کی سعی کرتے ہیں و انہیں عشاق قرآن کی برکت سے یہ کائنات ہستی کا وجود باقی ہے اس وقت مسلمان بے حیثیت ایک قوم کے ذلالت کے گڑھے میں گری ہوی ہے لیکن جب ہم صورۃ العصر کا معانی و مفاہم و تفسیر کے ساتھ مطالہ کرتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ اگر آج کی امت مسلمہ صرف صورۃ العصر پر عمل پیرا ہوجاے تو بھی بہت جلد زوال کی شب تاریک سے نکل کر روشنی کیطرف آسکتی ہے
سب سے پہلے ایک بار صورۃ العصر کا مفہوم ملاحضہ فرما لیجئیے : و قسم ہے زمانہ کی بے شک انسان خسارے میں ہے مگر وہ لوگ جو ایمان لاے و صالح اعمال کیے (وہ ایک دوسرے کو ) حق کیطرف رغبت کرنے و صبر کرنے کی بھی وصیت کرتے ہیں ;
یہاں یہ امر لائق توجہ ہے کہ زمانہ کی قسم کیوں اٹھائ گئ ; جبکہ زمانہ میں فحاشی و عریانی عام ہے جھوٹ کا بازار گرم ہے و خاص کر ہمارے تھانہ کچہری کا کلچر ہی جھوٹ فریب پرمبنی ہے
اغواءبراے تاوان وجنسی خواہشات کی تکمیل بھتہ خوری گھریلو جھگڑے قتل و غارت گری طلاق کی بڑھتی شرح جسم فروشی وہم جنس پرستی کے بڑھتے واقعات یہ سب زمانہ میں عام ہیں و کسی کے ڈھکے چھپے ہوے نہیں ہیں تو زمانہ کی قسم کیوں اٹھائ گئ اس لیے کہ زمانہ انسان پر گواہ ہے انسان اپنی زندگی کے شب و روز جس طرح گزار تا ہے زمانہ کی چلتی نبض اسکی رفتار خیر وشر کو نوٹ کرتی ہیں
و بروزحشر انسان کے حق یا خلاف کراما کاتبین کی تحریریں انسان کے اپنے اجزاء جسم زمین و دہر سب کے سب گواہی دینگے
و پھر انسان بے ساختہ پکار اٹھے گا (و اخرجت الارض اثقالھا وقال الانسان مالھا یوم اذ تحدث اخبارھا ) ترجمہ:وزمین اپنے بوجھ کو نکال ر باہر کردیگی انسان کہے گا کہ اسکو کیا ہوا اس دن وہ اپنی خبریں بیان کردیگی ۔
بعض حضرات زمانہ کو برا کہتے ہیں حالانکہ زمانہ کو برا نہیں کہتے کیونکہ برے افعال کا سرزد ہونا یا نہ ہونا انسان سے ہے زمانہ سے نہیں ہے و نہ ہی زمانہ ہمیں برے افعال پر یا برائ کی طرف راغب کرتا ہے
بلکہ ہم انسان ہی اچھائ یا برائ کیطرف اپنی نفسانی خواہشات بری سوسائٹی الیکٹرانک میڈیا و سوشل میڈیا کا برا استعمال انٹرنیٹ کا برا استعمال یہ سب ہم خود کرتے ہیں ورنہ آپ غور کریں کہ آج بھی دینی مدارس میں بڑے سے بڑے منصب پر فائز عالم دین یعنی شیخ الحدیث کی ماہانہ تنخواہ پندرہ سے بیس ہزار تک ہی ہوتی ہے اب دیکھیے کہ مہنگائ کے اس دور میں وہ کس طرح گھر کی گاڑی چلاے و کیسے نئے موضوعات پر شائع ہونے والی کتب خریدے تو یہ معاملہ انٹرنیٹ نے سہل کردیا ہے کہ نئ نئ کتب فری ڈاؤن لوڈ کرکے انکا مطالعہ کیا جاسکتا ہے عربی فارسی انگریزی اردو و دیگر زبانوں میں کثیر تعداد میں دینی و ادبی لٹریچر موجود ہے
جس سے استفادہ کیا جاسکتا ہے یعنی چیزوں کا استعمال بذات خود اچھا یا برا نہیں ہوتا بلکہ انکو استعمال کرنے والے پر منحصر ہے کہ وہ اس شئ کا اچھا استعمال کرتا ہے یا برا ،
اسلیے زمانہ کو برا نہیں کہنا چاہیے ۔ آگے فرمایا کہ بے شک انسان خسارے میں ہے لفظ انسان لاکر تخصیص ختم کردی کہ کسی کے ذہن میں یہ نہ رہے
کہ صرف کافر خسارے میں ہے ہم نے کلمہ نبی صل اللہ علیہ وسلم کاپڑھ لیا ہے اب ہم جو کچھ مرضی کرتے پھریں گویا کلمہ طیبہ ہمارے ہر کام کے لیے سرٹیفیکیٹ ہے ایسا نہیں ہے
بلکہ لفظ انسان لاکر اس سوچ کی نفی فرماں دی گئ ہے
اس صانع عالم کے علم ما کان وما یکون میں یہ بات روز اول سے تھی یہ کہ انسان مجموعی لحاظ سے اس فانی دنیاء میں جاکر عالم ارواح میں حق تعالی سے کیے گئے معاہدہ کو فراموش کردیگا و فانی دنیاء کی آرائش و آسائش میں ایسا گم ہوگا کہ وہ مقصد تخلیق کو بھی بھول جائیگا و دنیاء کی بھول بھلیوں میں مختصر مہلت کے دن پورے کرکے ابدی طور پر نقصان اٹھائیگا و ابدی نقصان ہی در حقیقت ایسا خسارہ ہے کہ دنیاء کا بڑے سے بڑا خسارہ اسکے بلمقابل کچھ حیثیت نہیں رکھتا
لیکن ایسا بھی نہیں کہ سارے انسان ہی خسارہ میں ہیں اسلیے فورن آگے فرمایا کہ مگر وہ لوگ جو ایمان لاے و انہوں نے نیک اعمال کئے یہاں یہ بات ذہن میں رہے کہ جسطرح کلمہ طیبہ میں ہے کہ( لاالہ ) کہ کوئ معبود نہیں کوئ اس لائق نہیں کہ بنی نوع انسانی اسکے سامنے سربسجود ہو لیکن اس نفی کے فورن بعد اثبات میں فرمایا کہ یہ نہ سمجھنا کہ تم بغیر کسی خالق و مالک وصانع کے خود بخود معرض وجود میں آگئے ہو
وتمہیں کسی کے سامنے بھی سرتسلیم خم نہیں کرنا بلکہ ایسا نہیں کیونکہ الااللہ مگر اللہ ہیکہ اسکےسامنے سر بسجود ہوجائیگا
اسکی عبادت جسمانی و روحانی کی جائیگی اسکی صفات کو اسی طرح مانا جائیگا جسطرح محمد رسول اللہ نے منوایا ہے بتایا ہے و صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو سکھایا ہے و صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے بعد والوں کو دین سکھایا ہے تو خیر بات ہورہی تھی کہ جب الا کہا تو معلوم ہوا کہ سب کی نفی نہیں
بلکہ کوئ ذات ہے اسی طرح یہاں بھی اولا جس طرح انسانوں کے خسارے کا بیان ہوا اس سے شک ہورہا تھا کہ ساری انسانیت ہی خسارے کا شکار ہوجائیگی لیکن حق تبارک وتعالی نے ساتھ ہی لفظ الا لاکر انسانیت کو تسلی دیتے ہوے فرمایا کے سارے نہیں بلکہ صرف وہ جو ایمان نہ لاے و نیک اعمال نہ کرے
اسلام اقرارباالسان کو کہا جاتا ہے یعنی زبان سے اقرار کرنا و تصدیق بالقلب یعنی ایمان دل کی تصدیق کو کہتے ہیں و ایمان کو دوسرے لفظوں میں عقائد صحیحہ بھی کہا جاسکتا ہے
یعنی ایک آدمی کار خیر کرے
لیکن اسکے عقائد درست نہیں تو اسکے اعمال خیر کا بدلہ حق جل مجدہ دنیاء میں ہی اسے عطاء فرماں دینگے لیکن اگر اس بندہ کے عقائد صحیحہ رکھتا ہے تو اسکے اعمال خیریہ کا بدلہ حق جلہ مجدہ دنیاء ہی میں اسے عطاء فرماں دینگے لیکن اگر وہ بندہ عقائد صحیحہ رکھتا ہے تو اسکے اعمال خیریہ اسے آخرت میں کام دینگے
و اصل نفع و نقصان آخرت کا ہے جو روز محشر کامیاب ہوگیا وہ نفع مند ثابت ہوا و جو اس دن ناکام ہوا وہ خسارے میں گیا
جس بندے کے عقائد اسلامی عقائد کے مطابق ہوں و وہ اعمال صالحہ پر بھی کار بند ہو ایسے لوگوں کو مزید حکم ہے کہ لوگوں کو حق کی طرف دعوت بھی دیں کہ وہ بھی حق کو قبول کریں و قبول حق میں مشکلات و مصائب کا آنا لازمی حصہ ہے اس لیے قبول حق کرنے والے حضرات مشکلات و مصائب میں گھبرا نہ جائیں بلکہ دین اسلام کی خاطر آنے والی مشکلات و مصائب پر صبر کریں
کیونکہ صبر کی جزا جنت ہے
صبر کا مفہوم یہ نہیں ہے کہ دوسرے کے ظلم وزیادتی کو خاموشی سے برداشت کیا بلکہ یہ ہے کہ اپنا حق گنوار کر بھی زبان سے کوئ جملہ شکایت ادا نہ کیا
آج ہمارا معاشرہ جن برائیوں میں گھرا ہوا ہے اس میں ضرورت ہے کہ سورۃ العصر سے رہنمائ حاصل کرکے اسلامی عقائد کو اپنایا جاے و اعمال صالحہ پر عمل پیرا ہوکر معاشرہ کا ایک اچھا فرد ثابت ہو
و پھر اسی اچھائ کی دعوت دعوت کو عزیز و اقارب میں دوست واحباب میں حکمت و تدبیر کے ساتھ عام کرنے کی سعی کرے اور اس راہ میں دوستوں کی یا عزیزو اقارب کی کڑوی کسیلی باتوں پر صبر کا مظاہرہ کرے ۔ایسے لوگ ہی دنیاوی و اخروی کامیابی کے حامل ہونگے
اللہ تعالی تمام مسلمانوں کا حامی و ناصر ہو آمین مضمون نگار
📝مفتی مرغوب الرحمان قاسمی
دارالعلوم محمودیہ مالرکوٹلہ پنجاب 7017530491🍀🍀🍀
